المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
38. من احتبس فرسا في سبيل الله إيمانا بالله وتصديق موعود الله كان شبعه وريه وروثه وبوله حسنات في ميزانه.
جس نے اللہ پر ایمان اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھا، اس کا کھانا، پینا، لید اور پیشاب سب اس کے میزان میں نیکیاں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 2488
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني يزيد بن أبي حَبيب، حدثني سُويد بن قيس، حدثني معاوية بن حُدَيج، عن أبي ذرٍّ الغِفاري، عن النبي ﷺ قال:"ما مِن فَرسٍ عَربيٍّ إلّا يُؤذَنُ له كلَّ يومٍ بدَعْوتَين، يقول: اللهمَّ كما خَوَّلْتَني مَن خَوَّلْتَني، فاجعلْني مِن أحبِّ مالِه وأهلِه إليه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2457 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2457 - صحيح
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر عربی گھوڑے کو ہر دن دو دعائیں مانگنے کی اجازت دی جاتی ہے، وہ کہتا ہے: اے اللہ! جس طرح تو نے مجھے (جہاد میں انتخاب سے) نوازا ہے تو مجھے اس کی نظر میں اس کے مال اور اہل، سب سے زیادہ محبوب کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2488]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2488 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح موقوفًا، فقد انفرد برفعه عبد الحميد بن جعفر، وخالفه الليث بن سعد وعمرو بن الحارث، وهما أجلُّ من عبد الحميد بن جعفر وأوثق، فوقفاه على أبي ذرّ، وهو المحفوظ، كما قال الدارقطني في "العلل" (1123)، وخالفاه أيضًا في تعيين شيخ يزيد بن أبي حبيب، فذكرا أنه عبد الرحمن بن شُماسَة. وانفرد ابنُ جعفر أيضًا بتقييد الفرس بكونه عربيًا، وأطلقاه.
⚖️ درجۂ حدیث: "موقوفاً" (صحابی کا قول) ہونا صحیح ہے، کیونکہ لیث بن سعد اور عمرو بن حارث جیسے ثقہ ائمہ نے اسے موقوف ہی بیان کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: عبدالحمید بن جعفر اسے مرفوع بیان کرنے میں اکیلے ہیں، اور گھوڑے کے "عربی" ہونے کی قید بھی صرف انہوں نے ہی لگائی ہے۔
وسيأتي برقم (2670) من طريق يحيى بن سعيد القطان عن عبد الحميد بن جعفر.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے نمبر (2670) پر آئے گی۔
وأخرجه أحمد 35/ (21442) من طريق الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حبيب، عن عبد الرحمن بن شُماسة: أنَّ معاوية بن حُديج مرَّ على أبي ذر، فذكره موقوفًا. وهذا يُوهم أنَّ ابن شُماسَة حضر القصة، وابن شماسة له سماع من أبي ذر، لكن هذا الحديث إنما سمعه ابن شماسة ¤ ¤ من معاوية بن حُديج، كما توضحه رواية ابن عبد الحَكَم في "فتوح مصر والمغرب" ص 254 - 255.
🔍 فنی نکتہ: ابن شماسہ نے یہ واقعہ معاویہ بن حدیج سے سنا تھا (جیسا کہ ابن عبدالحکم کی روایت میں واضح ہے)۔
وقد تابع الليثَ بنَ سعد على روايته هذه عمرو بنُ الحارث، كما نبَّه عليه أحمد بن حنبل بإثر الحديث، وروايته هذه عند سعيد بن منصور في "سننه" (2444)، وابن عبد الحَكَم ص 254، وغيرهما موقوفًا كذلك.
🧩 شواہد و متابعات: لیث بن سعد کی موقوف روایت کی تائید عمرو بن الحارث نے بھی کی ہے، جیسا کہ امام احمد اور سعید بن منصور نے اشارہ کیا ہے۔
قوله: "خَوَّلْتني" أي: مَلَّكْتَني ومَنحْتَني.
📝 لغوی تشریح: "خوّلتنی" کا مطلب ہے تو نے مجھے اس کا مالک بنایا اور عطا فرمایا۔