🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِ اللَّهِ كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَرَوَثُهُ وَبَوْلُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ.
جس نے اللہ پر ایمان اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں گھوڑا باندھا، اس کا کھانا، پینا، لید اور پیشاب سب اس کے میزان میں نیکیاں ہوں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2487
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، حدثنا طلحة بن أبي سعيد، أنَّ سعيد المَقبُري حدثه عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"مَن احتَبَسَ فرسًا في سبيل الله إيمانًا بالله وتَصديقَ مَوعُودِ الله، كان شِبَعُه ورِيُّه ورَوثُه وبَولُه حسناتٍ في مِيزانِه يومَ القيامة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2456 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں کوئی گھوڑا پالا، تو اس گھوڑے کا پیٹ بھر کر کھانا، اس کا سیر ہو کر پانی پینا، اس کا لید کرنا اور اس کا پیشاب کرنا سب قیامت کے دن اس کی میزانِ عمل میں نیکیوں کی صورت میں ہوں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2487]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 2487] [ترقيم الشركة 2470] [ترقيم العلميه 2456]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2487 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. ابن وهب: هو عبد الله.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (4407) عن الحارث بن مسكين، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے حارث بن مسکین عن ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 14/ (8866)، والبخاري (2853)، وابن حبان (4673) من طريق عبد الله بن المبارك، عن طلحة بن أبي سعيد، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📌 اہم نکتہ: یہ حدیث بخاری (2853) میں موجود ہے، لہٰذا امام حاکم کا اسے "مستدرک" (بخاری میں نہ ہونے والی حدیث) کے طور پر لانا ان کی بھول ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (8977)، والبخاري (2371)، ومسلم (987)، وابن ماجه (2788)، والترمذي (1636)، والنسائي (4387) و (4388)، وابن حبان (4672) من طريق أبي صالح، عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: یہی مفہوم ابوصالح عن ابی ہریرہؓ کے طریق سے بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی مروی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2487 in Urdu