المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
51. إِنَّ اللَّهَ لَيَعْجَبُ إِلَى الْعَبْدِ إِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إَلَّا أَنْتَ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي
اللہ تعالیٰ اس بندے پر تعجب فرماتا ہے جو کہتا ہے: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
حدیث نمبر: 2513
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا السَّريّ بن خُزيمة، حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطي، حدثنا فُضيل بن مَرزُوق، عن مَيسَرة بن حبيب النَّهْدي، عن المِنْهال بن عمرو، عن علي بن ربيعة: أنه كان رِدْفًا لعليٍّ، فلما وَضَعَ رِجْلَه في الركاب قال: باسم الله، فلما استوى على ظهر الدابّة، قال: الحمدُ الله - ثلاثًا - والله أكبر - ثلاثًا - ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ الآية [الزخرف: 13] ، ثم قال: لا إلهَ إلّا أنتَ سبحانَك، قد ظلمتُ نفسي، فاغفِرْ لي ذُنوبي، إنه لا يغفر الذنوب إلَّا أنتَ، ثم مال إلى أحدِ شِقِّيه فَضَحِكَ، فقلتُ: يا أمير المؤمنين، ما يُضحِكُك. قال: إني كنتُ رِدْفَ النبي ﷺ، فصنع رسولُ الله ﷺ كما صنعتُ، فسألتُه كما سألتَني، فقال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله لَيَعْجَبُ إلى العبد إذا قال: لا إله إلَّا أنتَ إني قد ظلمتُ نفسي، فاغفِرْ لي ذُنوبي، إنه لا يَغْفِرُ الذنوبَ إلَّا أنت، قال: عبدي عَرَفَ أن له ربًّا يَغْفِرُ ويُعاقِبُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه على هذه السِّياقة منصور بن المُعتمِر عن أبي إسحاق عن علي بن رَبيعة:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه على هذه السِّياقة منصور بن المُعتمِر عن أبي إسحاق عن علي بن رَبيعة:
علی بن ربیعہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رکاب میں پاؤں رکھا تو کہا: «باسم الله» ”اللہ کے نام سے“، جب وہ سواری کی پیٹھ پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین بار «الحمد لله» ”اللہ کا شکر ہے“ اور تین بار «الله أكبر» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر یہ آیت پڑھی: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ ”پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کر دیا، ورنہ ہم اسے قابو میں کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے“ [سورة الزخرف: 13] ، پھر عرض کیا: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ، قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، پس میرے گناہ معاف فرما دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں“، پھر وہ ایک طرف جھک کر مسکرانے لگے، میں نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! آپ کو کس بات نے ہنسایا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل ویسا ہی کیا تھا جیسا میں نے کیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ویسا ہی پوچھا تھا جیسا تم نے مجھ سے پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» کہ اے اللہ! تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں نے اپنے نفس پر زیادتی کی، پس میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی مغفرت کرنے والا نہیں، تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے پہچان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو معاف بھی کرتا ہے اور سزا بھی دیتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2513]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2513]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل فضيل بن مرزوق، فهو صدوق، لا بأس به.» [ترقيم الرساله 2513] [ترقيم الشركة 2496]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2514
حدَّثَناه علي بن عيسى (2) الحيري، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان ابن أبي شَيْبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن أبي إسحاق، عن علي بن رَبيعة، قال: رأيت عليًّا أتي بدايّةٍ، فذكر الحديث مثلَه سواءً (3) . وشاهدُه حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2482 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2482 - على شرط مسلم
علی بن ربیعہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے پاس ایک سواری لائی گئی، پھر انہوں نے پچھلی حدیث کی طرح مکمل واقعہ بیان کیا۔
منصور بن معتمر نے اسے ابو اسحاق کے واسطے سے اسی سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2514]
منصور بن معتمر نے اسے ابو اسحاق کے واسطے سے اسی سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2514]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن له علة خفية كما قال الحافظ ابن حجر في "نتائج الأفكار" فيما نقله عنه ابن علّان في "الفتوحات الربانية" 5/ 125، قال: وقفت له على علة خفية ذكرها الحاكم في "تاريخ نيسابور"، وذهل عنها في "المستدرك"، ما أسنده إلى عبد الرحمن بن بشر ...» [ترقيم الرساله 2514] [ترقيم الشركة 2497] [ترقيم العلميه 2482]
الحكم على الحديث: حديث صحيح