🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. إن الله ليعجب إلى العبد إذا قال : لا إله إلا أنت إني قد ظلمت نفسي
اللہ تعالیٰ اس بندے پر تعجب فرماتا ہے جو کہتا ہے: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2513
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا السَّريّ بن خُزيمة، حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطي، حدثنا فُضيل بن مَرزُوق، عن مَيسَرة بن حبيب النَّهْدي، عن المِنْهال بن عمرو، عن علي بن ربيعة: أنه كان رِدْفًا لعليٍّ، فلما وَضَعَ رِجْلَه في الركاب قال: باسم الله، فلما استوى على ظهر الدابّة، قال: الحمدُ الله - ثلاثًا - والله أكبر - ثلاثًا - ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ الآية [الزخرف: 13] ، ثم قال: لا إلهَ إلّا أنتَ سبحانَك، قد ظلمتُ نفسي، فاغفِرْ لي ذُنوبي، إنه لا يغفر الذنوب إلَّا أنتَ، ثم مال إلى أحدِ شِقِّيه فَضَحِكَ، فقلتُ: يا أمير المؤمنين، ما يُضحِكُك. قال: إني كنتُ رِدْفَ النبي ﷺ، فصنع رسولُ الله ﷺ كما صنعتُ، فسألتُه كما سألتَني، فقال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله لَيَعْجَبُ إلى العبد إذا قال: لا إله إلَّا أنتَ إني قد ظلمتُ نفسي، فاغفِرْ لي ذُنوبي، إنه لا يَغْفِرُ الذنوبَ إلَّا أنت، قال: عبدي عَرَفَ أن له ربًّا يَغْفِرُ ويُعاقِبُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه على هذه السِّياقة منصور بن المُعتمِر عن أبي إسحاق عن علي بن رَبيعة:
سیدنا علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو بسم اللّٰہ پڑھی، پھر جب جانور کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو تین مرتبہ الحمدللّٰہ اور تین مرتبہ اللّٰہ اکبر پڑھا پھر یہ دعا مانگی: (سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْن) پوری آیت پڑھی، پھر کہا: (لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ، اِنِّیْ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِی، فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ، اِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ) اے اللہ! تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تیری ذات پاک ہے، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا، تو میرے گناہوں کو معاف کر دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔ پھر آپ ایک جانب جھک گئے اور مسکرا دیئے، میں نے پوچھا: اے امیرالمؤمنین! آپ کیوں مسکرائے؟ آپ نے جواباً فرمایا: (ایک دفعہ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا، جیسے میں نے کیا اور میں نے آپ سے اسی طرح پوچھا تھا جیسا تو نے مجھ سے پوچھا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو اس وقت بہت پسند کرتا ہے جب وہ کہتا ہے: تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، تو میرے گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرا بندہ یہ بات جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو بخشتا ہے اور سزا دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ یہ حدیث منصور بن معتمر نے بھی اسحٰق کے واسطے سے علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے اسی انداز میں روایت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2513]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2513 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل فضيل بن مرزوق، فهو صدوق، لا بأس به.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور فضیل بن مرزوق کی وجہ سے سند جید ہے، وہ صدوق اور لا باس بہ ہیں۔
وللحديث طريق أخرى عن علي بن ربيعة الوالبي عن علي بن أبي طالب ستأتي بعد هذه، ويرويه عن علي بن ربيعة جماعةٌ كما بينه الدارقطني في "العلل" (430)، وابن حجر في "نتائج الأفكار" فيما نقله عنه ابن عَلَّان في "الفتوحات الربانية" 5/ 125 - 126، وأحسنُها إسنادًا حديثُ المنهال، كما قال الدارقطني. قلنا: لكن باجتماع هذه الطرق يصح الحديثُ إن شاء الله.
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کا ایک اور طریق علی بن ربیعہ الوالبی عن علی بن ابی طالب ہے جو آگے آئے گا۔ دارقطنی اور ابن حجر کے مطابق اس کی بہترین سند 'منہال' کی روایت ہے۔ ان تمام طرق کے مجموعے سے یہ حدیث صحیح قرار پاتی ہے۔