🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

69. تَفْسِيرُ " وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا "
سورۂ والعادیات کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2538
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أبو صخر، عن أبي معاوية البَجَلي، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس أنه حدثه، قال: بينما أنا في الحِجْر جالسٌ أتاني رجلٌ، فسألني عن (العادِياتِ ضَبْحًا) ، فقلتُ له: الخيلُ حين تُغِيرُ في سبيل الله ثم تأوي إلى الليل، فيصنعون طعامَهم، ويُوقِدون نارهم، فانفَتَلَ عني فذهب إلى علي ابن أبي طالب وهو تحت سِقَاية زمزم، فسأله عن العاديات، فقال: سألتَ عنها أحدًا قبلي؟ قال: نعم، سألت عنها ابنَ عباس فقال: هي الخيل حين تُغير في سبيل الله، قال: فاذهب فادعُهُ لي، قال: فلما وَقَفَ على رأسه قال: تُفتي الناسَ بلا علمٍ لك، واللهِ إنْ كانت أولَ غزوة في الإسلام لَبدرٌ، وما كان معنا إلّا فَرَسان، فرس للزبير، وفرس للمِقْداد بن الأسود، فكيف تكون العادِيَاتُ ضَبْحًا؟ إنما العادِيَاتُ ضَبْحًا مِن عرفةَ إلى المزدلفةِ، ومن المزدلفةِ إلى مِنّى، ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا﴾: الأرضَ حين تطؤُها بأخفافِها وحوافِرِها، قال ابن عباس: فنَزَعتُ عن قولي، ورجعتُ إلى الذي قال عليٌّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فقد احتجَّا (2) بأبي صخر، وهو حُميد بن زياد الخرَّاط المصري، وبأبي معاوية البَجَلي، وهو عمار بن أبي معاوية الدُّهْني الكوفي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2507 - لا والله ولا ذكر لأبي معاوية في الكتب الستة ولا احتج البخاري بأبي صخر والخبر منكر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں حجرِ اسود کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ کے بارے میں سوال کیا، میں نے اسے کہا: اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دشمن پر چھاپہ مارتے ہیں اور پھر رات کو ٹھکانہ ڈھونڈتے ہیں، تو وہ لوگ اپنا کھانا بناتے اور اپنی آگ جلاتے ہیں، وہ شخص وہاں سے مڑا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا جو زمزم کے پانی پلانے کی جگہ کے نیچے تشریف فرما تھے، اس نے ان سے العادیات کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: کیا تم نے مجھ سے پہلے کسی سے اس کے بارے میں پوچھا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے ابن عباس سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا کہ اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں حملہ کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: جاؤ اور انہیں میرے پاس بلا لاؤ، راوی کہتا ہے کہ جب وہ (ابن عباس) ان کے پاس آ کر کھڑے ہوئے تو انہوں نے فرمایا: تم لوگوں کو بغیر علم کے فتویٰ دے رہے ہو، اللہ کی قسم! اسلام کا پہلا غزوہ بدر تھا اور ہمارے پاس صرف دو گھوڑے تھے، ایک سیدنا زبیر کا اور ایک سیدنا مقداد بن اسود کا، تو پھر «العاديات ضبحا» کیسے ہو سکتے ہیں؟ دراصل «العاديات ضبحا» سے مراد (حج کے موقع پر) عرفہ سے مزدلفہ اور مزدلفہ سے منیٰ کی طرف (تیزی سے جانے والے اونٹ) ہیں، اور ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا﴾ سے مراد وہ زمین ہے جب وہ اپنے کھروں اور پاؤں سے اسے روندتے ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر میں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا اور اسی بات کی طرف لوٹ آیا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمائی تھی۔ [سورة العاديات: 1-4]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے ابوصخر یعنی حمید بن زیاد اور ابومعاویہ بجلی یعنی عمار بن ابی معاویہ دہنی سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2538]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ أبا معاوية البَجَلي - وهو عمار الدُّهني - لم يسمع من سعيد ابن جبير شيئًا. وأبو صخر - وهو حميد بن زياد الخراط - ليس بذاك الثقة لكنه متابَع. واستنكر الذهبي هذا الخبر في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 2538] [ترقيم الشركة 2521] [ترقيم العلميه 2507]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں