المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
69. تَفْسِيرُ " وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا "
سورۂ والعادیات کی تفسیر
حدیث نمبر: 2538
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أبو صخر، عن أبي معاوية البَجَلي، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس أنه حدثه، قال: بينما أنا في الحِجْر جالسٌ أتاني رجلٌ، فسألني عن (العادِياتِ ضَبْحًا) ، فقلتُ له: الخيلُ حين تُغِيرُ في سبيل الله ثم تأوي إلى الليل، فيصنعون طعامَهم، ويُوقِدون نارهم، فانفَتَلَ عني فذهب إلى علي ابن أبي طالب وهو تحت سِقَاية زمزم، فسأله عن العاديات، فقال: سألتَ عنها أحدًا قبلي؟ قال: نعم، سألت عنها ابنَ عباس فقال: هي الخيل حين تُغير في سبيل الله، قال: فاذهب فادعُهُ لي، قال: فلما وَقَفَ على رأسه قال: تُفتي الناسَ بلا علمٍ لك، واللهِ إنْ كانت أولَ غزوة في الإسلام لَبدرٌ، وما كان معنا إلّا فَرَسان، فرس للزبير، وفرس للمِقْداد بن الأسود، فكيف تكون العادِيَاتُ ضَبْحًا؟ إنما العادِيَاتُ ضَبْحًا مِن عرفةَ إلى المزدلفةِ، ومن المزدلفةِ إلى مِنّى، ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا﴾: الأرضَ حين تطؤُها بأخفافِها وحوافِرِها، قال ابن عباس: فنَزَعتُ عن قولي، ورجعتُ إلى الذي قال عليٌّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فقد احتجَّا (2) بأبي صخر، وهو حُميد بن زياد الخرَّاط المصري، وبأبي معاوية البَجَلي، وهو عمار بن أبي معاوية الدُّهْني الكوفي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2507 - لا والله ولا ذكر لأبي معاوية في الكتب الستة ولا احتج البخاري بأبي صخر والخبر منكر
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فقد احتجَّا (2) بأبي صخر، وهو حُميد بن زياد الخرَّاط المصري، وبأبي معاوية البَجَلي، وهو عمار بن أبي معاوية الدُّهْني الكوفي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2507 - لا والله ولا ذكر لأبي معاوية في الكتب الستة ولا احتج البخاري بأبي صخر والخبر منكر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ایک مرتبہ میں حجراسود کے قریب بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص میرے پاس آ کر ” والعادیات ضبحا “ کی تفسیر پوچھنے لگا، میں نے اس کو کہا: (اس سے مراد) گھوڑوں کی وہ جماعت ہے، جہاد کے اندر جن کی حالت متغیر ہو چکی ہو۔ پھر رات کا وقت ہو گیا اور مجاہدین کھانا بنانے اور آگ جلانے لگے اور وہ شخص مجھ سے منہ پھیر کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا، اس وقت آپ آب زمزم کے چشمہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اس شخص نے آپ سے ” والعادیات “ کے متعلق پوچھا: آپ نے دریافت کیا، کیا تو نے مجھ سے پہلے کسی سے یہ بات پوچھی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بات پوچھی تھی، انہوں نے جواب دیا ہے کہ اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں، جہاد کے اندر جن کی حالت متغیر ہو جائے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جاؤ اور ان کو بلا کر میرے پاس لاؤ (راوی) فرماتے ہیں: جب ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم لوگوں کو اس چیز کا فتویٰ دیتے ہو جس کا تمہیں کچھ علم نہیں۔ خدا کی قسم! اسلام کا سب سے پہلا غزوہ، غزوۂ بدر تھا اور اس غزوے میں ہمارے پاس صرف دو گھوڑے تھے۔ ایک گھوڑا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا تھا اور ایک سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا۔ ان دو کو گھوڑوں کی جماعت کیسے کہا جا سکتا ہے؟ گھوڑوں کی جماعت تو عرفہ سے مزدلفہ اور مزدلفہ سے منٰی کی طرف (جاتے ہوئے دیکھنے میں آئی) تھی، اس وقت جب وہ دوڑتے ہوئے اپنے ٹاپوں سے غبار اڑا رہے تھے، اس کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا ہے ” والعادیات ضبحا “ (پھر اس وقت غبارے اڑاتے ہیں) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اپنا مؤقف چھوڑ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے موقف کی طرف رجوع کر لیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ لیکن امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے ابوصخر کی روایات نقل کی ہیں۔ اور یہ حمید بن زیاد خراط مصری ہیں۔ اور ابومعاویہ الجبلی کی روایات بھی نقل کی ہیں اور وہ عمار بن ابی معاویہ کے والد ہیں، دہنی ہیں اور کوفی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2538]