🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

83. قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ فِي حَقِّ الشَّهِيدِ .
شہید کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرشتوں سے فرمان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2563
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا عطاء بن السائب، عن مُرّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ:"عَجِبَ ربُّنا ﷿ من رجلٍ غزا في سبيل الله، فانهزم أصحابُه، فعَلِمَ ما عليه ورجع حتى أُهْريقَ دمُه، فيقول الله تبارك وتعالى لملائكته: انظُروا إلى عبدي، رجع رغبةً فيما عندي، وشفقةً مما عندي حتى أُهْريقَ دمُه" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أبي ذر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2531 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب عزوجل اس شخص سے بہت خوش ہوتا ہے (تعجب فرماتا ہے) جس نے اللہ کی راہ میں غزوہ کیا، پھر اس کے ساتھی شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئے، لیکن اسے اپنی ذمہ داری کا احساس ہوا اور وہ واپس لوٹا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا، تب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو، یہ اس (اجر) کی رغبت میں جو میرے پاس ہے اور اس (عذاب) کے خوف سے جو میرے پاس ہے، واپس لوٹا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2563]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،مُرَّة الهَمْداني: هو ابن شَرَاحيل.» [ترقيم الرساله 2563] [ترقيم الشركة 2546] [ترقيم العلميه 2531]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2564
أخبرَناه عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن دِيزِيل، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ربعي بن حِرَاش، عن زيد ابن ظَبْيان رفعه إلى أبي ذر، عن النبي ﷺ قال:"ثلاثةٌ يحبّهم الله، وثلاثةٌ يُبغضهم الله، أما الذين يحبّهم الله فرجل أتى قومًا فسألهم بالله، ولم يسألهم بقَرابةٍ بينهم وبينه، فتخلّف رجلٌ بأعقابهم فأعطاه سِرًّا لا يعلمُ بعَطِيَّته إلّا الله والذي أعطاه، وقومٌ سارُوا ليلَهم حتى إذا كان النومُ أحبَّ إليهم ممّا يَعدِل، نزلُوا فوضعوا رؤوسَهم، فقام يَتَملَّقُني ويَتلُو آياتي، ورجلٌ كان في سريةٍ فلقي العدوَّ، فهُزموا، فأقبل بصَدْره حتى يُقتَل أو يُفتَح له، والثلاثةُ الذين يُبغِضُهم الله: الشيخ الزاني، والفقير المُختال، والغَنيُّ الظَّلُوم" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2532 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص وہ ہیں جن سے اللہ محبت فرماتا ہے اور تین وہ ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے۔ جن سے اللہ محبت فرماتا ہے وہ یہ ہیں: ایک وہ شخص جو کسی قوم کے پاس آکر اللہ کے نام پر سوال کرے اور اپنی کسی قرابت داری کا واسطہ نہ دے، پھر وہ اسے کچھ نہ دیں مگر ان کے پیچھے سے ایک آدمی نکلے اور اسے چھپ کر (صدقہ) دے جس کا علم اللہ اور لینے والے کے سوا کسی کو نہ ہو۔ دوسرے وہ لوگ جو رات بھر سفر کریں یہاں تک کہ جب نیند انہیں ہر چیز سے زیادہ محبوب ہو جائے تو وہ پڑاؤ ڈال کر سر رکھ دیں (سو جائیں)، مگر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر میری خوشامد (گڑگڑا کر دعا) کرے اور میری آیات کی تلاوت کرے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی لشکر میں ہو اور دشمن سے مقابلہ ہو جائے، جب ساتھی شکست کھا جائیں تو وہ اپنے سینے کے ساتھ آگے بڑھے یہاں تک کہ قتل کر دیا جائے یا اللہ اسے فتح عطا فرما دے۔ اور وہ تین جن سے اللہ بغض رکھتا ہے: بوڑھا زناکار، وہ فقیر جو تکبر کرے، اور وہ مالدار جو ظلم کرے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2564]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2564] [ترقيم الشركة 2547] [ترقيم العلميه 2532]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں