المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
84. دُخُولُ الْجَنَّةِ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ لِلَّهِ صَلَاةً .
بغیر کوئی نماز پڑھے جنت میں داخل ہونا
حدیث نمبر: 2565
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة: أنَّ عمرو بن أُقيش كان له رِبًا في الجاهلية، فكَرِهَ أن يُسلِمَ حتى يأخُذه، فجاء يوم أُحدٍ، فقال: أين بنو عمِّي، فقالوا: بأُحُد، فقال: أين فلانٌ؟ قالوا: بأُحُد، قال: أين فلانٌ؟ قالوا: بأُحُد، فلَبِسَ لَأمَتَه، ورَكِبَ فرسَه ثم توجّه قِبَلَهم، فلما رآه المسلمون قالوا: إليك عنّا يا عمرو، قال: إني آمنتُ، فقاتلَ حتى جُرِح، فحُمِل إلى أهله جريحًا، فجاءه سعد بن معاذ، فقال لأختِه سَلِيهِ: حَميَّةً لقومِك أو غضبًا لهم، أم غضبًا الله ورسولِه؟ فقال: بل غضبًا الله ورسوله، فماتَ فدخل الجنةَ، وما صلَّى الله صلاةً (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2533 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2533 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عمرو بن اقیش کا ایک آقا تھا (عمرو بن اقیش) اس وقت تک صرف اس لیے ایمان نہیں لائے تھے کہ کہیں اس کا آقا اس کو سزا نہ دے۔ وہ جنگِ اُحد والے دن آئے اور پوچھنے لگے: میرے پھوپھی زاد بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: احد میں۔ اس نے ایک اور شخص کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے جواب دیا کہ وہ بھی احد میں گیا ہوا ہے۔ اس نے ایک اور کے متعلق پوچھا تو اس کے بارے میں بھی یہی جواب ملا۔ اس نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف چل دیا، جب مسلمانوں نے اس کو دیکھا تو کہنے لگے، اے عمرو! پیچھے ہٹ کر رہو۔ اس نے کہا: میں ایمان لا چکا ہوں۔ پھر وہ جہاد میں شریک ہو گیا یہاں تک کہ زخمی ہو گیا، اس کو زخمی حالت میں اس کے گھر بھیج دیا گیا۔ پھر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان کی بہن سے کہا: اس سے پوچھو کہ تو نے اپنی قوم کی مروت یا ان کے لیے کسی غصہ میں جنگ لڑی ہے یا اللہ اور اس کے رسول کے لیے غصے میں لڑے ہو؟ اس نے کہا: میں تو محض اللہ اور اس کے رسول کے لیے غصے میں لڑا ہوں، وہ شخص فوت ہو گیا اور جنت میں داخل ہوا، حالانکہ اس نے ایک بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2565]
حدیث نمبر: 2566
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك البَزار، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا موسى بن يعقوب الزَّمْعي، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: قال رسول الله ﷺ: ثِنْتَانِ لا تُرَدّان -: أو قال ما تُرَدّان-: الدعاءُ عند النَّداء، أو عند البَأْسِ حين (2) يُلحِمُ بعضُهم بعضًا" (3) . قال موسى بن يعقوب: وحدثني رِزْق بن سعيد بن عبد الرحمن المدني (1) ، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعد، عن النبي ﷺ، قال:"وتحتَ المطَر" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2534 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2534 - صحيح
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو (دعائیں) کبھی رد نہیں ہوتیں یا (شاید فرمایا) بہت کم رد ہوتی ہیں: (1) اذان کے وقت کی دعا۔ (2) جنگ کے وقت (جبکہ گھمسان کی جنگ ہو رہی ہو) مانگی ہوئی دعا۔ ٭٭ ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ بارش میں مانگی ہوئی دعا بھی قبول ہوتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2566]