🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

99. مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَهُ عِدْلُ مُحَرَّرٍ .
جو اللہ کی راہ میں تیر چلائے اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2592
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو قُدامة ومحمد بن المثنَّى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن سالم بن أبي الجعد، عن مَعْدان بن أبي طلحة اليَعْمَري، عن أبي نجيح السُّلَمي، قال: حاصَرْنا قَصْر الطائف، فسمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن رمى بسَهُمٍ في سبيل الله فله عَدْلُ محرّر، ومن بَلَغَ بسهمٍ في سبيل الله فله درجةٌ في الجنة"، فبلَّغتُ ستةَ عشَرَ سهمًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ أبا نَجِيح هذا هو عَمرو بن عَبَسة السُّلَمي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2560 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے طائف کے قلعے کا محاصرہ کیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جو اللہ کی راہ میں ایک تیر چلائے گا، اس کو ایک غلام آزاد کرنے والے کے برابر ثواب دیا جائے گا اور جس کا اللہ کی راہ میں چلایا ہوا تیر نشانے پر لگ جائے، اس کے لیے جنت میں ایک درجہ ہے (ابونجیح فرماتے ہیں) اس دن میں نے سولہ تیر ٹھیک نشانے پر لگائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ یہ ابونجیح عمرو بن عبسہ سلمی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2592]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2593
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا الحسن بن علي القَبّاني (1) ، حدثنا المنذر بن الوليد الجارودي، حدثنا عبد الأعلى (2) ، حدثنا يحيى بن سعيد الأنصاري، حدثني أبو الزُّبَير، عن جابر بن عبد الله، قال: كنا مع رسولَ الله ﷺ بالطائف في غزوة حُنين، فلما بلغ الجغرانةَ قَسَم فِضَةً بين الناس (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2561 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم غزوۂ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طائف میں تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ پہنچے تو لوگوں کے درمیان چاندی تقسیم کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2593]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں