🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. أَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا
سوار مجاہد کو دو حصے اور پیدل مجاہد کو ایک حصہ دیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2626
حدثنا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل بن إبراهيم بن المنصورِ أميرِ المؤمنين إملاءً في دار المنصور، حدثنا أبو جعفر محمد بن يوسف بن الطبّاع، حدثنا عمِّي محمد بن عيسى بن الطبّاع، حدثنا مجمِّع بن يعقوب بن مجمِّع بن يزيد الأنصاري قال: سمعت أبي يعقوبُ بن مُجمِّع يذكُر عن عمّه عبد الرحمن بن يزيد بن مُجمِّع الأنصاري، عن عمّه مجمِّع بن جارية الأنصاري - وكان أحدَ القُرّاء الذين قرؤوا القرآن - قال: شَهِدْنا الحُدَيبيَةَ مع رسول الله ﷺ، فلما انصرفْنا عنها إذا الناسُ يَهُزُّون بالأباعِر، فقال بعض الناس لبعض: ما لِلناسِ؟ قالوا: أُوحيَ إلى رسول الله ﷺ، فخرجنا مع الناس نُوجِفُ فوجَدْنا النبيَّ ﷺ واقفًا على راحلته عند كُرَاع الغَمِيم، فلما اجتمعَ عَليه الناسُ قرأ عليهم: ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾، فقال رجل: يا رسول الله، أفتْحٌ هو؟ قال:"نعم والذي نفسُ محمد بيدِه، إنه لَفَتحٌ". فقُسِمَت خيبرُ على أهل الحُدَيبيَة، فقَسَمها رسولُ الله ﷺ على ستةَ عشرَ (1) سهمًا، وكان الجيشُ ألفًا وخمس مئة، منهم ثلاث مئة فارِسٍ، فأعطى الفارسَ سهمَين، وأعطى الراجِلَ سهمًا (2) . حديث كبير صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2593 - صحيح
سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ قرآن پڑھنے والے قاریوں میں سے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جب ہم وہاں سے واپس پلٹے تو لوگ حدی خوانی کر کے اپنے اونٹوں کو نشاط میں لا رہے تھے بعض لوگوں نے دوسروں سے پوچھا: لوگوں کو کیا ہو گیا؟ (یہ اتنی جلدی کوچ کی تیاری کیوں کر رہے ہیں) تو انہوں نے جواب دیا (کوچ کرنے کے متعلق) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ہے چنانچہ ہم بھی گھوڑے دوڑاتے ہوئے لوگوں کے ہمراہ چل دیئے (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ) کراع الغمیم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے، جب سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت (اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا) (الفتح: 1) بے شک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح فرما دی پڑھی، تو ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! کیا (اس سے مراد) فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد کی جان ہے، وہ فتح ہے۔ پھر حدیبیہ کے شرکاء پر خیبر (کا مالِ غنیمت) تقسیم کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال 13 حصوں پر تقسیم کیا، اس وقت لشکر کی تعداد 1500 تھی، جن میں سے 300 گھڑسوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک حصہ عطا فرمایا (یعنی سوار کو پیدل سے ڈبل حصہ دیا) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2626]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں