المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ
سیدنا رسول اللہ ﷺ سے جو چیز بھی مانگی جاتی یا تو عطا فرما دیتے یا خاموش رہتے
حدیث نمبر: 2623
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل وعبد الله بن الحُسين القاضي، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس بن مالك: أنَّ هوازنَ جاءت يوم حُنين بالنساء والصِّبيان، والإبل والغنم، فصَفُّوهم صفوفًا ليَكْثُروا على رسولِ الله ﷺ، فالتقى المسلمون والمشركون، فولَّى المسلمون مُدبِرين، كما قال الله، فقال رسول الله ﷺ:"أنا عبدُ الله ورسولُه" وقال:"يا معشرَ الأنصار، أنا عبدُ الله ورسولُه" فهزمَ الله المشركين، ولم يُطْعَن بُرمْحٍ ولم يُضْرَب بسَيفٍ، فقال النبي ﷺ يومئذٍ:"من قتل كافرًا فله سَلَبُه"، فقتل أبو قَتَادة يومئذٍ عشرين رجلًا، وأخذ أسلابهم، فقال أبو قَتَادة: يا رسول الله، ضربتُ رجلًا على حَبْل العاتِقِ وعليه دِرْعٌ له، فأعجَلْتُ عنه أن آخذ سَلَبَه، فانظر مع من هو يا رسول الله، فقال رجل: يا رسول الله، أنا أخذتها، فأرْضِهِ منها وأعطِنِيها، فسكتَ النبيُّ ﷺ، وكان لا يُسأل شيئًا إلّا أعطاهُ أو سكتَ، فقال عمر: لا واللهِ لا يُفيءُ اللهُ على أَسَدٍ من أُسْده ويُعطيكَها، فضحكَ رسولُ الله ﷺ (1) . حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2591 - على شرط مسلم أ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2591 - على شرط مسلم أ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن قبیلہ ہوازن (مسلمانوں پر رعب ڈالنے اور) اپنی کثرت جتانے کے لیے اپنی عورتوں، بچوں، اونٹوں اور بکریوں کو بھی ساتھ لے آئے اور ان کی صفیں بنا لیں۔ جب مسلمانوں اور مشرکین کا مقابلہ ہوا تو (ابتداء میں) مسلمان پیٹھ پھیر کر مڑے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن میں) فرمایا ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ثابت قدم رہتے ہوئے) فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“ اور پکارا: ”اے گروہِ انصار! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“، پھر اللہ نے مشرکوں کو شکست دے دی۔ اس دن (دشمن کے بھاگنے کی وجہ سے) نہ کوئی نیزہ مارا گیا اور نہ تلوار چلائی گئی (یعنی غیبی مدد سے فتح ہوئی)۔ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضابطہ بیان فرمایا: ”جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس مقتول کا سامان (سلب) اسی کا ہے“۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کا سامان حاصل کیا۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک شخص کے کندھے کی رگ پر وار کیا تھا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں جلدی میں اس کا سامان نہ لے سکا، آپ دیکھئے وہ (زرہ) کس کے پاس ہے۔ ایک شخص بولا: اے اللہ کے رسول! وہ میرے پاس ہے، آپ انہیں (کچھ دے کر) راضی کر دیں اور وہ زرہ مجھے عطا فرما دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب بھی آپ سے کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ یا تو عطا فرما دیتے یا خاموش رہتے۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (اس شخص سے) کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ اپنے شیروں میں سے ایک شیر (ابو قتادہ) کو غنیمت عطا فرمائے اور وہ (تم جیسے کو) دے دی جائے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2623]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2623]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إلّا أنَّ قوله هنا عند المصنف: فقتل أبو قتادة يومئذٍ عشرين رجلًا، وهمٌ لا ندري هو من روح أو ممَّن دونه، لأن المحفوظ فيه أنَّ الذي قتل العشرين رجلًا هو أبو طلحة الأنصاري، وأنَّ أبا قتادة إنما قتل رجلًا واحدًا فقط، كما في تتمة الحديث هنا، كذلك رواه سائر ...» [ترقيم الرساله 2623] [ترقيم الشركة 2606] [ترقيم العلميه 2591]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2624
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصفهاني الزاهد، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّي، حدثني أبي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا زهير بن محمد، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده: أنَّ رسول الله ﷺ وأبا بكر وعمر أحرَقوا مَتاعَ الغالِّ، ومَنَعوه سَهْمَه وضربوه (1) . حديث غريب صحيح، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کا سامان جلا دیا تھا، اسے (غنیمت کے) حصے سے محروم کر دیا تھا اور اسے (تعزیراً) مارا تھا۔
یہ ایک غریب صحیح حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2624]
یہ ایک غریب صحیح حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2624]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، زهير بن محمد - وهو التميمي - رواية أهل الشام عنه غير مستقيمة، لأنَّه كان يحدث هناك من حفظه فيكثر غلطه، والوليد بن مسلم دمشقي، ولم يرو هذا الحديث عنه غيره، وقد اختُلِف عليه في هذا الحديث فروي عنه مرفوعًا موصولًا، كما في رواية المصنف، وروي عنه من ...» [ترقيم الرساله 2624] [ترقيم الشركة 2607]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2625
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، عن بشر بن المُفضَّل، حدثنا محمد بن زيد - هو ابن مُهاجِر الأنصاري - حدثني عُمير مولى آبي اللَّحْم، قال: شهدتُ خيبرَ (1) مع سادتي، فكلَّموا فيَّ رسولَ الله ﷺ، فأَمَرني فقُلِّدتُ سيفًا، فأخبر أني مملوكٌ، فأمَرَ لي بشيءٍ من خُرْثيِّ المَتاعِ (2) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2592 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2592 - صحيح
آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے مالکوں کے ساتھ غزوہ خیبر میں حاضر ہوا، انہوں نے میرے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی (کہ میں جنگ میں شریک ہونا چاہتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور میرے گلے میں تلوار لٹکا دی گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (باقاعدہ فوجی حصے کے بجائے) میرے لیے معمولی گھریلو سامان (خرثی المتاع) دینے کا حکم فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2625]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2625]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2625] [ترقيم الشركة 2608] [ترقيم العلميه 2592]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح