🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. شَأْنُ نُزُولِ سُورَةِ الْأَنْفَالِ
سورۂ انفال کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2627
حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم الحِيري، حدثنا أحمد بن النضر بن عبد الوهاب، حدثنا وَهْب بن بقيّة الواسطي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ يوم بدر:"من فعل كذا وكذا، فله من النَّفَل كذا وكذا" قال: فقَدِمَ الفِتيانُ ولَزِمَ المَشْيَخةُ الراياتِ فلم يَبْرَحُوها، فلما فتح الله عليهم قالت المَشْيَخةُ: كنا رِدْءًا لكم، لو انهزمتُم فِئْتُم إلينا، فلا تذهَبُوا بالمَغْنم ونَبقى، فأبى الفتيانُ، وقالوا: جعلَه رسولُ الله ﷺ لنا، فأنزل الله تعالى: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ … كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ﴾ [الأنفال: 1 - 5] يقول: فكان ذلك خيرًا لهم، فكذلك أيضًا فأَطيعوني فإني أعلَمُ بعاقبةِ هذا منكم (1) . حديث صحيح فقد احتج البخاريُّ بعِكْرمة، واحتج مسلم بداود بن أبي هند، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع الآخر سنة ثمان وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2594 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا تھا: جو شخص فلاں فلاں (بہادری کا) کام کرے گا اسے غنیمت میں سے اتنا اتنا انعام (نفل) ملے گا، راوی کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) نوجوان تو آگے بڑھ گئے جبکہ بزرگوں نے جھنڈوں کے پاس رہنا ضروری سمجھا اور وہاں سے نہیں ہلے، پھر جب اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی تو بزرگوں نے کہا: ہم تمہارے لیے پشت پناہ تھے، اگر تم شکست کھاتے تو پلٹ کر ہمارے ہی پاس آتے، لہذا تم سارا مالِ غنیمت لے کر نہ جاؤ کہ ہم خالی ہاتھ رہ جائیں، نوجوانوں نے انکار کر دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انعام ہمارے لیے مقرر کیا ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ...﴾ وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں... یہاں تک کہ فرمایا: جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کو آپ کے گھر سے حق کے ساتھ نکالا اور مومنوں کی ایک جماعت اسے ناپسند کر رہی تھی [الأنفال: 1-5] ، یعنی وہ (تقسیم) ان کے لیے بہتر ثابت ہوئی، (ابن عباس فرماتے ہیں:) پس تم بھی اسی طرح (فیصلوں میں) میری اطاعت کرو کیونکہ میں ان امور کے انجام کو تم سے بہتر جانتا ہوں۔
یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے داؤد بن ابی ہند سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2627]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2627] [ترقيم الشركة 2610] [ترقيم العلميه 2594]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2628
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو بكر وعثمان ابنا أبي شَيْبة، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن عاصم، عن مصعب بن سعد، عن أبيه، قال: جئتُ إلى النبي ﷺ يوم بدر بسَيفٍ، فقلت: يا رسول الله، قد شُفِيَ صدري اليومَ من العدوّ، فَهَبْ لي هذا السيفَ، فقال:"إنَّ هذا السيفَ ليس لي ولا لكَ" فذهبتُ وأنا أقولُ: يُعطاهُ اليومَ مَن لم يُبْلِ بَلائي، فبَيْنا [أنا] (1) إذ جاءني الرسولُ، فقال: أجِبْ، فظننتُ أنه قد نَزَل فيَّ شيءٌ من كلامي، فجئتُ، فقال النبي ﷺ:"إنك سألتَني هذا السيفَ، وليس هو لي ولا لك، وإنَّ الله قد جعلَه لي، فهو لك" ثم قرأ: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ إلى آخر الآية (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2595 - صحيح
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بدر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تلوار لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آج (دشمن کے خلاف لڑ کر) میرا سینہ ٹھنڈا ہو گیا ہے، لہذا یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار نہ میری ہے اور نہ تمہاری (بلکہ اللہ کی ہے)، میں یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا کہ آج یہ اسے مل جائے گی جس نے میری جیسی مشقت نہیں اٹھائی، اسی دوران ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر) جواب دو، میں نے سوچا کہ شاید میری بات پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے، میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی حالانکہ وہ نہ میری تھی نہ تمہاری، اب اللہ نے وہ مجھے عطا فرما دی ہے، لہذا (اب) یہ تمہاری ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2628]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم» [ترقيم الرساله 2628] [ترقيم الشركة 2611] [ترقيم العلميه 2595]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں