علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. شأن نزول سورة الأنفال
سورۂ انفال کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2627
حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم الحِيري، حدثنا أحمد بن النضر بن عبد الوهاب، حدثنا وَهْب بن بقيّة الواسطي، حدثنا خالد بن عبد الله، عن داود بن أبي هند، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ يوم بدر:"من فعل كذا وكذا، فله من النَّفَل كذا وكذا" قال: فقَدِمَ الفِتيانُ ولَزِمَ المَشْيَخةُ الراياتِ فلم يَبْرَحُوها، فلما فتح الله عليهم قالت المَشْيَخةُ: كنا رِدْءًا لكم، لو انهزمتُم فِئْتُم إلينا، فلا تذهَبُوا بالمَغْنم ونَبقى، فأبى الفتيانُ، وقالوا: جعلَه رسولُ الله ﷺ لنا، فأنزل الله تعالى: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ … كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ﴾ [الأنفال: 1 - 5] يقول: فكان ذلك خيرًا لهم، فكذلك أيضًا فأَطيعوني فإني أعلَمُ بعاقبةِ هذا منكم (1) . حديث صحيح فقد احتج البخاريُّ بعِكْرمة، واحتج مسلم بداود بن أبي هند، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع الآخر سنة ثمان وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2594 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2594 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا تھا: ”جو شخص فلاں فلاں (بہادری کا) کام کرے گا اسے غنیمت میں سے اتنا اتنا انعام (نفل) ملے گا“، راوی کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) نوجوان تو آگے بڑھ گئے جبکہ بزرگوں نے جھنڈوں کے پاس رہنا ضروری سمجھا اور وہاں سے نہیں ہلے، پھر جب اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی تو بزرگوں نے کہا: ”ہم تمہارے لیے پشت پناہ تھے، اگر تم شکست کھاتے تو پلٹ کر ہمارے ہی پاس آتے، لہذا تم سارا مالِ غنیمت لے کر نہ جاؤ کہ ہم خالی ہاتھ رہ جائیں“، نوجوانوں نے انکار کر دیا اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انعام ہمارے لیے مقرر کیا ہے“، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ...﴾ ”وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں...“ یہاں تک کہ فرمایا: ”جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کو آپ کے گھر سے حق کے ساتھ نکالا اور مومنوں کی ایک جماعت اسے ناپسند کر رہی تھی“ [الأنفال: 1-5] ، یعنی وہ (تقسیم) ان کے لیے بہتر ثابت ہوئی، (ابن عباس فرماتے ہیں:) پس تم بھی اسی طرح (فیصلوں میں) میری اطاعت کرو کیونکہ میں ان امور کے انجام کو تم سے بہتر جانتا ہوں۔
یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے داؤد بن ابی ہند سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2627]
یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے داؤد بن ابی ہند سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2627]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2627 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (2737) عن وهب بن بقية، بهذا الإسناد. وسيأتي برقم (2912) و (3299).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2737) نے وہب بن بقیہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز یہ روایت آگے رقم (2912) اور (3299) پر بھی آئے گی۔
والنَّفَل: ما زاد من العطاء على القدر المستحق منه بالقسمة يخص به الإمام من أبلى بلاءً حسنًا، وسعى سعيًا حميدًا.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: "نفل" (مالِ غنیمت کا اضافی حصہ) اس عطیے کو کہتے ہیں جو تقسیم کے طے شدہ واجب حق سے زائد ہو؛ یہ امام (حاکم) کی طرف سے اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے جنگ میں بہترین کارکردگی دکھائی ہو اور قابلِ ستائش کوشش کی ہو۔
والمشيخة: جمع شيخ.
📝 نوٹ / توضیح: "المشيخة" کا لفظ "شیخ" کی جمع ہے۔
وفئتم، أي: رجعتم.
📝 نوٹ / توضیح: "فئتم" کا معنی ہے: تم لوٹ آئے (رجوع کیا)۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2627 in Urdu