🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. شأن نزول سورة الأنفال
سورۂ انفال کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2628
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو بكر وعثمان ابنا أبي شَيْبة، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن عاصم، عن مصعب بن سعد، عن أبيه، قال: جئتُ إلى النبي ﷺ يوم بدر بسَيفٍ، فقلت: يا رسول الله، قد شُفِيَ صدري اليومَ من العدوّ، فَهَبْ لي هذا السيفَ، فقال:"إنَّ هذا السيفَ ليس لي ولا لكَ" فذهبتُ وأنا أقولُ: يُعطاهُ اليومَ مَن لم يُبْلِ بَلائي، فبَيْنا [أنا] (1) إذ جاءني الرسولُ، فقال: أجِبْ، فظننتُ أنه قد نَزَل فيَّ شيءٌ من كلامي، فجئتُ، فقال النبي ﷺ:"إنك سألتَني هذا السيفَ، وليس هو لي ولا لك، وإنَّ الله قد جعلَه لي، فهو لك" ثم قرأ: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ إلى آخر الآية (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2595 - صحيح
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بدر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تلوار لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آج (دشمن کے خلاف لڑ کر) میرا سینہ ٹھنڈا ہو گیا ہے، لہذا یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار نہ میری ہے اور نہ تمہاری (بلکہ اللہ کی ہے)، میں یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا کہ آج یہ اسے مل جائے گی جس نے میری جیسی مشقت نہیں اٹھائی، اسی دوران ایک قاصد میرے پاس آیا اور کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر) جواب دو، میں نے سوچا کہ شاید میری بات پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے، میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی حالانکہ وہ نہ میری تھی نہ تمہاری، اب اللہ نے وہ مجھے عطا فرما دی ہے، لہذا (اب) یہ تمہاری ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2628]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2628 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) من "السنن الكبرى" للبيهقي 6/ 291 حيث رواه عن المصنف.
📖 حوالہ / مصدر: یہ بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (6/ 291) سے ماخوذ ہے جہاں انہوں نے اسے مصنف (امام حاکم) سے روایت کیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم - وهو ابن أبي النَّجُود. وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند عاصم بن ابی النجود کی وجہ سے "حسن" ہے، تاہم ان کی متابعت (تائید) موجود ہے جس سے یہ صحیح کے درجے کو پہنچ جاتی ہے۔
وأخرجه أحمد (3/ 1538) عن أسود بن عامر، وأبو داود (2740)، والنسائي (11132) عن هنّاد بن السَّرِي، والترمذي (3079) عن أبي كريب محمد بن العلاء، ثلاثتهم عن أبي بكر بن عياش، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/ 1538) نے اسود بن عامر سے، ابو داود (2740) اور نسائی (11132) نے ہناد بن السری سے، اور ترمذی (3079) نے ابو کریب محمد بن العلاء سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں ابوبکر بن عیاش کے واسطے سے اسی سند سے روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (1567)، ومسلم (1748) و (2412) (43)، وابن حبان (5349) و (6992) من طريق سماك بن حرب، عن مصعب بن سعد، عن أبيه. لكن ليس فيه أنه ﷺ أعطاه السيف بعد ذلك.
🧾 تفصیلِ روایت: اسی کے ہم معنی روایت امام احمد (1567)، مسلم (1748، 2412/43) اور ابن حبان (5349، 6992) نے سماک بن حرب عن مصعب بن سعد عن ابیہ (سعد بن ابی وقاص) کے طریق سے روایت کی ہے، لیکن ان روایات میں یہ ذکر نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے اس کے بعد انہیں وہ تلوار عطا فرما دی تھی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2628 in Urdu