🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. النَّهْيُ عَنِ الْخُلْسَةِ وَالْمُجَسَّمَةِ وَأَنْ تُوطَأَ السَّبَايَا حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ
چوری چھپے مال لینے، باندھ کر مارے گئے جانور اور قیدی عورتوں سے حمل وضع ہونے سے پہلے ہم بستری کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2639
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا محمد بن معاذ، حدثنا أبو عاصم الضحّاك بن مَخلَد، حدثني وهب بن خالد الحِمصي، حدثتني أم حَبيبة بنت العِرْباض بن ساريَة، قالت: حدثني أبي: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن الخَلِيسة (1) والمُجثَّمة، وأن تُوطأَ السَّبايا حتى يَضعْنَ ما في بُطونِهن (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2606 - صحيح
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلسہ (جھپٹ) اور مجشمہ (وہ پرندہ یا خرگوش جس کو باندھ کر تیر وغیرہ مارا جائے حتیٰ کہ وہ مر جائے) سے منع کیا ہے اور لونڈیوں کے ساتھ وطی کرنے سے منع کیا ہے جب تک کہ جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے وہ پیدا نہ ہو جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2639]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2640
أخبرني دَعْلَج بن أحمد السِّجِسْتاني، حدثنا عبد العزيز بن معاوية البصري، حدثنا محمد بن جَهضَم الخُراساني، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثني عبد الرحمن بن الحارث، عن سليمان بن موسى (1) الأشْدق، عن مكحول، عن أبي سلَّام، عن أبي أُمامة الباهِلي صاحبِ رسول الله ﷺ، عن عُبادة بن الصامت، أنه قال: خَرجَ رسولُ الله ﷺ إلى بدر فلقي العدوّ، فلما هزمَهم اتَّبعهم طائفةٌ من المسلمين يقتلونهم، وأحْدَقَت طائفةٌ برسول الله ﷺ، واستولت طائفةٌ بالعسكر، فلما كفى اللهُ العدوَّ، ورجع الذين قتلوهم قالوا: لنا النَّفَل، نحن قتلْنا العدوَّ، وبنا نفاهُم الله وهزمَهم، وقال الذين كانوا أحدَقُوا برسول الله ﷺ: واللهِ ما أنتم بأحقَّ به منا، هو لنا، نحن أحدَقْنا برسول الله ﷺ لا ينالُ العدوُّ منه غِرَّةً، وقال الذين استولَوا على العسكر: والله ما أنتم بأحقَّ به منا، نحن استولَينا على العسكر، فأنزل الله ﷿: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ إلى قوله: ﴿إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾، فقسَمه رسولُ الله ﷺ بينهم عن فُوَاقٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث محمد بن إسحاق القرشي صحيح أيضًا على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2607 - على شرط مسلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ بدر میں شریک ہوا، جب مشرکین کو شکست ہو گئی تو مسلمانوں کا ایک گروہ لڑائی کرتے ہوئے ان کے تعاقب میں نکلا اور ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد حصار جما لیا اور ایک گروہ نے لشکر پر قبضہ کیا، جب دشمن بھاگ گئے تو ان کو قتل کرنے والے واپس لوٹ آئے اور کہنے لگے: مالِ غنیمت کے حقدار ہم ہیں کیونکہ ان کو قتل تو ہم نے کیا ہے اور ہماری وجہ سے ان کو شکست ہوئی ہے اور وہ بھاگے ہیں۔ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد حصار جمایا ہوا تھا وہ بولے: تم ہم سے زیادہ مالِ غنیمت کے حقدار نہیں ہو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد حصار کیے ہوئے تھے تاکہ دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ جو لوگ لشکر پر قبضہ کیے ہوئے تھے وہ بولے: تم لوگ ہم سے زیادہ مالِ غنیمت کے مستحق نہیں ہو کیونکہ لشکر پر غلبہ تو ہم نے پایا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ…… کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ) (الانفال: 1) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان مختصر وقت میں مال تقسیم کر لیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابن اسحاق قرشی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2640]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2641
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، حدثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الرحمن بن الحارث، عن سليمان بن الأشْدق، عن مكحول، عن أبي أُمامة الباهِلي، قال: سألتُ عُبادة بن الصامت عن الأنفال، فقال: فينا معشرَ أصحابِ بدرٍ نزلت، ثم ذكر الحديث بطُوله (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2608 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوامامہ باملی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سورۃ انفال کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: یہ ہم اہل بدر کے متعلق نازل ہوئی ہے، پھر اس کے بعد تفصیلی حدیث بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2641]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں