المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. قِصَّةُ إِسْلَامِ رَاعِي غَنَمٍ وَشَهَادَتِهِ وَلَمْ يُصَلِّ لِلَّهِ سَجْدَةً
ایک بکریاں چرانے والے کے اسلام لانے، شہید ہونے اور اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کرنے کا واقعہ
حدیث نمبر: 2642
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، أخبرني حَيْوة بن شُرَيح، عن ابن الهادِ، عن شُرَحْبيل بن سعد، عن جابر بن عبد الله، قال: كنا مع رسول الله ﷺ في غزوة خيبر، خَرَجت سريّةٌ فأخذوا إنسانًا معه غنمٌ يرعاها، فجاؤوا به إلى رسول الله ﷺ، فكلَّمه النبيُّ ﷺ ما شاء الله أن يُكَلِّمه، فقال له الرجلُ: إني قد آمنتُ بك وبما جئتَ به، فكيف بالغَنَم يا رسول الله، فإنها أمانةٌ، وهي للناس، الشاةُ والشاتان وأكثرُ من ذلك؟ قال:"احصِبْ وجوهَها تَرجِعْ إلى أهلِها" فأخذَ قَبْضةً من حَصْباء - أو تراب - فرمى به وجُوهَها، فخرجت تَشْتَدُّ حتى دخلتْ كلُّ شاةٍ إلى أهلها، ثم تقدّم إلى الصفّ، فأصابه سهمٌ فقتَلَه ولم يصلِّ لله سجدةً قطُّ، قال رسولُ الله ﷺ:"أدخِلُوه الخِباءَ" فأُدخل خِباءَ رسولِ الله ﷺ، حتى إذا فرغَ رسولُ الله ﷺ دَخَلَ عليه ثم خرج، فقال:"لقد حَسُنَ إسلامُ صاحبِكم، لقد دخلتُ عليه وإن عندَه لَزوجتَين له من الحُورِ العِينِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2609 - بل كان شرحبيل متهما قاله ابن أبي ذؤيب
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2609 - بل كان شرحبيل متهما قاله ابن أبي ذؤيب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں تھے، ایک فوجی دستہ نکلا اور وہ ایک ایسے شخص کو پکڑ لائے جس کے پاس کچھ بکریاں تھیں جنہیں وہ چرا رہا تھا، وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے طویل گفتگو فرمائی، اس شخص نے عرض کیا: میں آپ پر اور اس پیغام پر جو آپ لائے ہیں ایمان لاتا ہوں، لیکن اے اللہ کے رسول! ان بکریوں کا کیا بنے گا کیونکہ یہ امانت ہیں اور لوگوں کی ملکیت ہیں، خواہ ایک دو ہوں یا اس سے زیادہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے چہروں پر کنکریاں مارو، یہ خود ہی اپنے مالکوں کے پاس واپس چلی جائیں گی۔“ چنانچہ اس نے مٹھی بھر کنکریاں —یا مٹی— لی اور ان کے چہروں پر ماری تو وہ دوڑتی ہوئی نکل گئیں یہاں تک کہ ہر بکری اپنے مالک کے گھر داخل ہو گئی۔ پھر وہ شخص جنگی صف میں آگے بڑھا تو اسے ایک تیر لگا جس نے اسے شہید کر دیا حالانکہ اس نے اللہ کے لیے کبھی ایک سجدہ بھی نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خیمے میں لے جاؤ۔“ پس اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں رکھ دیا گیا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کام سے) فارغ ہوئے تو اس کے پاس تشریف لے گئے، پھر باہر نکل کر فرمایا: ”تمہارے ساتھی کا اسلام بہت عمدہ رہا، میں جب اس کے پاس گیا تو اس کے پاس حورِ عین میں سے اس کی دو بیویاں موجود تھیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2642]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2642]
تخریج الحدیث: «صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل شرحبيل بن سعد، وقد روي ما يشهد لخبره هذا، وقال الذهبي عن حديثه هذا في "تاريخ الإسلام" 1/ 281: حديث حسن أو صحيح. قلنا: وهذا أحسن من قوله في "تلخيص المستدرك" بأنَّ شرحبيل كان متهمًا، استنادًا إلى قول ابن أبي ذئب فيه، وأخرجه البيهقي ...» [ترقيم الرساله 2642] [ترقيم الشركة 2625] [ترقيم العلميه 2609]
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2643
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عثمان بن عمر، أخبرنا ابن أبي ذِئب، عن القاسم بن عباس، عن عبد الله بن نِيَار، عن عُرْوة، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ أُتيَ بظَبْيةٍ فيها خَرَزٌ من الغنيمة، فقسمها بين الحُرّةِ والأمَة سواءً (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2610 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2610 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غنیمت کے مال میں سے چمڑے کا ایک ٹکڑا لایا گیا جس میں منکے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد عورتوں اور لونڈیوں کے درمیان برابر تقسیم فرما دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2643]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2643]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.» [ترقيم الرساله 2643] [ترقيم الشركة 2626] [ترقيم العلميه 2610]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح