🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. قصة إسلام راعي غنم وشهادته ولم يصل لله سجدة
ایک بکریاں چرانے والے کے اسلام لانے، شہید ہونے اور اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کرنے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2642
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، أخبرني حَيْوة بن شُرَيح، عن ابن الهادِ، عن شُرَحْبيل بن سعد، عن جابر بن عبد الله، قال: كنا مع رسول الله ﷺ في غزوة خيبر، خَرَجت سريّةٌ فأخذوا إنسانًا معه غنمٌ يرعاها، فجاؤوا به إلى رسول الله ﷺ، فكلَّمه النبيُّ ﷺ ما شاء الله أن يُكَلِّمه، فقال له الرجلُ: إني قد آمنتُ بك وبما جئتَ به، فكيف بالغَنَم يا رسول الله، فإنها أمانةٌ، وهي للناس، الشاةُ والشاتان وأكثرُ من ذلك؟ قال:"احصِبْ وجوهَها تَرجِعْ إلى أهلِها" فأخذَ قَبْضةً من حَصْباء - أو تراب - فرمى به وجُوهَها، فخرجت تَشْتَدُّ حتى دخلتْ كلُّ شاةٍ إلى أهلها، ثم تقدّم إلى الصفّ، فأصابه سهمٌ فقتَلَه ولم يصلِّ لله سجدةً قطُّ، قال رسولُ الله ﷺ:"أدخِلُوه الخِباءَ" فأُدخل خِباءَ رسولِ الله ﷺ، حتى إذا فرغَ رسولُ الله ﷺ دَخَلَ عليه ثم خرج، فقال:"لقد حَسُنَ إسلامُ صاحبِكم، لقد دخلتُ عليه وإن عندَه لَزوجتَين له من الحُورِ العِينِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2609 - بل كان شرحبيل متهما قاله ابن أبي ذؤيب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر میں تھے، اس دوران ہماری ایک جماعت نکلی، انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو بکریاں چرا رہا تھا وہ اس کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ کچھ گفت و شنید فرمائی، وہ شخص بولا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا ہوں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اس پر بھی ایمان لایا ہوں، لیکن یا رسول اللہ! میرے اس ریوڑ کا کیا بنے گا؟ کیونکہ یہ بکریاں تو امانت ہیں کسی کی ایک بکری، کسی کی دو، کسی کی اس سے زیادہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے چہروں پر کنکریاں پھینکو یہ اپنے مالکان کے پاس لوٹ جائیں گی، اس نے ایک مٹھی میں کنکریاں یا مٹی بھری اور ان کے چہروں پر پھینک دی تو وہ بکریاں بڑی تیزی سے بھاگیں اور اپنے اپنے مالکان کے پاس چلی گئیں۔ پھر وہ شخص صف میں شامل ہو گیا۔ اسے ایک تیر آ کر لگا جس کی وجہ سے وہ وہیں شہید ہو گیا۔ اس نے اللہ کی بارگاہ میں ایک سجدہ بھی نہیں کیا تھا۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ میں ڈال دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر خیمہ میں تشریف لائے اور پھر باہر نکل کر فرمانے لگے: تمہارے اس ساتھی کا اسلام بہت پسندیدہ ہے، میں ابھی خیمے میں اس کے پاس گیا تو دو حوریں اس کی بیویاں اس کے پاس موجود تھیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2642]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2642 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل شرحبيل بن سعد، وقد روي ما يشهد لخبره هذا، وقال الذهبي عن حديثه هذا في "تاريخ الإسلام" 1/ 281: حديث حسن أو صحيح. قلنا: وهذا أحسن من قوله في "تلخيص المستدرك" بأنَّ شرحبيل كان متهمًا، استنادًا إلى قول ابن أبي ذئب فيه. ¤ ¤ وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 143، وفي "دلائل النبوة" 4/ 220 - 221 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت (اپنے شواہد کی بنا پر) "صحیح" ہے، البتہ یہ مخصوص سند "شرحبیل بن سعد" کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس خبر کے شواہد مروی ہیں، اسی لیے امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (1/ 281) میں اسے "حسن یا صحیح" قرار دیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ امام ذہبی کا یہ قول ان کے "تلخیص المستدرک" والے قول سے بہتر ہے جس میں انہوں نے شرحبیل کو (ابن ابی ذئب کے قول کی بنا پر) متہم قرار دیا تھا۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (9/ 143) اور "دلائل النبوۃ" (4/ 220-221) میں مصنف (حاکم) کے واسطے سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو القاسم الأصبهاني في "دلائل النبوة" (241) من طريق يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو القاسم اصبہانی نے "دلائل النبوۃ" (241) میں یونس بن عبد الاعلیٰ عن عبد اللہ بن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له مرسل موسى بن عقبة ومرسل عروة بن الزُّبَير عند البيهقي في "الدلائل" 4/ 219 - 220، ورجال مرسل موسى بن عقبة لا بأس بهم.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید موسیٰ بن عقبہ اور عروہ بن زبیر کی "مرسل" روایات سے ہوتی ہے جو بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (4/ 219-220) میں ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ کی مرسل روایت کے رجال میں کوئی حرج نہیں (وہ معتبر ہیں)۔
ومرسل إسحاق بن يسار المطلبي مولاهم عند ابن الأثير في "أسد الغابة" 1/ 92.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی ایک اور شاہد اسحاق بن یسار المطلبی کی مرسل روایت ہے جو ابن الاثیر کی "اسد الغابہ" (1/ 92) میں مذکور ہے۔
ويشهد له أيضًا لكن دون قصة الغنم حديث أنس بن مالك المتقدم عند المصنف برقم (2494)، وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: بکریوں کے قصے کے بغیر اس کی تائید حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مصنف کے ہاں رقم (2494) پر گزر چکی ہے۔