🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. الرُّسُلُ لَا تُقْتَلُ .
قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2664
أخبرنا أبو نصر أحمد بن سهل بن حَمْدَويه الفقيه ببُخارى، حدثنا إبراهيم بن مَعْقِل النَّسَفي، حدثنا محمد بن عمرو الرازي ويُلقَّب بزُنَيج، حدثنا سَلَمة بن الفضل، حدثني محمد بن إسحاق قال: كان مُسيلِمةُ كتب إلى رسول الله ﷺ. وقد حدَّثني محمد بن إسحاق، عن سعد بن طارق الأشجعي، عن سلمة بن نُعيم بن مسعود الأشجعي، عن أبيه نُعيم، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول لرسولَيْ مُسيلِمةَ حين قرأ كتاب مسيلمة:"ما تقولانِ أنتما؟" قالا: نقول كما قال، قال:"أما والله لولا أنَّ الرسلَ لا تُقتَل، لضربتُ أعناقَكُما" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2632 - على شرط مسلم
سیدنا نعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسیلمہ (کذاب) کے دو قاصدوں سے فرماتے سنا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ کا خط پڑھا: تم دونوں کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں جو اس (مسیلمہ) نے کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر یہ اصول نہ ہوتا کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا، تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2664]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق» [ترقيم الرساله 2664] [ترقيم الشركة 2647] [ترقيم العلميه 2632]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2665
أخبرنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا أبو إسحاق، عن حارثةَ بن مُضَرِّب، عن علي، قال: كنا إذا حَمِيَ البأسُ ولقيَ القومُ القومَ، اتَّقينا برسول الله ﷺ، فلا يكون أحدٌ منا أدنَى إلى القومِ منه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2633 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب لڑائی کی شدت بڑھ جاتی اور دونوں لشکر آمنے سامنے آ جاتے، تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اوٹ لے کر (دشمن کے حملوں سے) بچتے تھے، اور ہم میں سے کوئی بھی دشمن کے اتنا قریب نہ ہوتا جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دلیری کی وجہ سے) ہوتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2665]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2665] [ترقيم الشركة 2648] [ترقيم العلميه 2633]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں