🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. غَزْوَةٌ فِي الْبَحْرِ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ غَزَوَاتٍ فِي الْبَرِّ .
سمندر میں ایک غزوہ خشکی کے دس غزوات سے بہتر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2666
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا يحيى بن أيوب، عن يحيى بن سعيد، عن عطاء بن يَسَار، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنه قال: قال رسول الله ﷺ:"غزوةٌ في البحر خيرٌ من عشر غَزَوات في البَرِّ، ومن أجازَ البحرَ، فكأنما أجازَ الأوديةَ كلَّها، والمائدُ فيه كالمُتشَحِّط في دَمِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2634 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر میں ایک بار جہاد کرنا خشکی کے دس جہادوں سے بہتر ہے، اور جس نے سمندر عبور کیا گویا اس نے تمام وادیاں پار کر لیں، اور سمندر میں (موجوں کی وجہ سے) سر چکرانے والے کا ثواب اللہ کی راہ میں اپنے خون میں لتھڑنے والے کے برابر ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2666]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا على عبد الله بن عمرو بن العاص، دون قوله: "ومن أجاز البحر فكأنما أجاز الأودية كلها"، وهذا إسناد ضعيف، عبد الله بن صالح - وهو كاتب الليث - في حفظه سوءٌ، وقد أخطأ في إسناد هذا الحديث في موضعين منه، فأسقط ذكر الواسطة فيه بين يحيى بن سعيد ...» [ترقيم الرساله 2666] [ترقيم الشركة 2649] [ترقيم العلميه 2634]

الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا على عبد الله بن عمرو بن العاص
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2667
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل وبكر بن محمد الصَّيرفي، قالا: حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا ليث بن سعد، عن أبي عَقِيل زُهْرة بن مَعْبَد، عن أبي صالح مولى عثمان بن عفّان، قال: سمعت عثمان بن عفّان، يقول: سمعت النبي ﷺ يقول:"رِبَاطُ يومٍ في سبيل الله خيرٌ من ألف يومٍ فيما سِواه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2635 - صحيح
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ کی راہ میں ایک دن کی سرحد پر پہرہ داری (رباط) اس کے علاوہ ہزار دنوں (کی عبادت) سے بہتر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2667]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،كما تقدم بيانه برقم (2412)، وحسَّنه الترمذي.» [ترقيم الرساله 2667] [ترقيم الشركة 2650] [ترقيم العلميه 2635]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2668
وأخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، عن زُهرة بن مَعْبَد، أنه سمع أبا صالح يقول: سمعت عثمان بن عفان، وهو بمنًى يقول: إني أحدِّثُكم حديثًا لم أكن حدَّثْتُكُموه قطُّ، إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"رِباطُ يومٍ في سبيلِ الله خيرٌ من ألفِ يومٍ فيما سواه"، هل بلّغتُكم؟ قالوا: نعم، قال: اللهم اشْهَدْ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ منیٰ کے مقام پر لوگوں سے بیان کر رہے تھے: میں تمہیں ایک ایسی حدیث سنا رہا ہوں جو میں نے پہلے کبھی نہیں سنائی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ کی راہ میں ایک دن کی پہرہ داری اس کے علاوہ ہزار دنوں سے بہتر ہے، (پھر پوچھا) کیا میں نے تم تک یہ پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ! تو گواہ رہنا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2668]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،كسابقه.» [ترقيم الرساله 2668] [ترقيم الشركة 2651]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں