المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. الرسل لا تقتل .
قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا
حدیث نمبر: 2664
أخبرنا أبو نصر أحمد بن سهل بن حَمْدَويه الفقيه ببُخارى، حدثنا إبراهيم بن مَعْقِل النَّسَفي، حدثنا محمد بن عمرو الرازي ويُلقَّب بزُنَيج، حدثنا سَلَمة بن الفضل، حدثني محمد بن إسحاق قال: كان مُسيلِمةُ كتب إلى رسول الله ﷺ. وقد حدَّثني محمد بن إسحاق، عن سعد بن طارق الأشجعي، عن سلمة بن نُعيم بن مسعود الأشجعي، عن أبيه نُعيم، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول لرسولَيْ مُسيلِمةَ حين قرأ كتاب مسيلمة:"ما تقولانِ أنتما؟" قالا: نقول كما قال، قال:"أما والله لولا أنَّ الرسلَ لا تُقتَل، لضربتُ أعناقَكُما" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2632 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2632 - على شرط مسلم
سیدنا محمد ابن اسحاق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مسیلمہ کذاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک مکتوب لکھا تھا۔ اور ابونعیم فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ کا خط پڑھا تو اس کے دونوں قاصدوں سے دریافت کیا: تمہارا کیا نظریہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارا نظریہ بھی مسیلمہ والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر قاصدوں کو قتل کرنا ممنوع نہ ہوتا تو میں تمہیں قتل کروا دیتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2664]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2664 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار المطَّلِبي مولاهم - وقد صرَّح بسماعه في الطريق الآتية برقم (4425).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے، اور اس کی موجودہ سند محمد بن اسحاق (بن یسار مطلبی) کی وجہ سے "حسن" ہے، جنہوں نے نمبر (4425) پر آنے والی سند میں اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے۔
وأخرجه أبو داود (2761) عن محمد بن عمرو الرازي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد نے (2761) میں محمد بن عمرو رازی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (25/ 15989) عن إسحاق بن إبراهيم الرازي، عن سلمة بن الفضل، به. وصرَّح بسماع ابن إسحاق من سعد بن طارق.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (25/15989) میں اسحاق بن ابراہیم رازی از سلمہ بن فضل کے واسطے سے نقل کیا ہے، جس میں ابن اسحاق نے سعد بن طارق سے سماع کی تصریح کی ہے۔
وقد أشار البخاري فيما نقله عنه الترمذي في "علله الكبير" (715) إلى أن ابن أبي زائدة قد تابع فيه ابنَ إسحاق، لكن لم نقف على هذه الرواية، كما لم يقف عليها الدارقطني من قبل، فقد ذكر في كتابه "الغرائب والأفراد" - كما في "أطرافه" للمقدسي (4401) - أنَّ ابن إسحاق تفرَّد به عن أبي مالك سعد بن طارق.
🧩 متابعات و شواہد: امام بخاری نے (ترمذی کی العلل الکبیر: 715 میں) اشارہ کیا کہ ابن ابی زائدہ نے ابن اسحاق کی متابعت کی ہے، لیکن ہمیں یہ روایت نہیں مل سکی۔ امام دارقطنی کو بھی یہ نہیں ملی تھی، انہوں نے اپنی کتاب "الغرائب والأفراد" (اطراف مقدسی: 4401) میں ذکر کیا کہ ابن اسحاق اس روایت میں ابومالک سعد بن طارق سے تفرد (تنہا ہونا) رکھتے ہیں۔
ويشهد له حديث ابن مسعود الآتي عند المصنف برقم (4426)، وسمى فيه اسم الرسولين، وهما ابن النوَّاحة وابن أُثال.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی شاہد حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہے جو آگے نمبر (4426) پر آئے گی، جس میں دونوں قاصدوں کے نام "ابن نواحہ" اور "ابن اثال" صراحت سے مذکور ہیں۔