🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. الْأَمْرُ بِقَتْلِ مَنْ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ .
اس شخص کے قتل کا حکم جو امتِ محمد ﷺ میں تفرقہ ڈالے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2697
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري وأبو محمد الحَليميّ جميعًا بمَرْو، وأبو إسحاق إبراهيم بن أحمد الفقيه البُخاري بنَيسابور، قالوا: حدثنا أبو المُوجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، حدثنا عَبْدان بن عثمان، حدثنا أبو حمزة محمد بن ميمون، عن زياد بن عِلَاقة، عن عَرْفجة بن شُريح الأسلميّ، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنها ستكون بعدي هَنَاتٌ وهَنَاتٌ - ورفع يديه - فمن رأيتُموه يريدُ أن يُفرِّقَ أَمرَ أمةِ محمدٍ وهم جَميعٌ، فاقتُلُوه، كائنًا مَن كان من الناس" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وإنما حكمتُ به على الشيخين، لأنَّ شعبة بن الحجّاج وسفيان بن سعيد وشَيبان بن عبد الرحمن ومَعمَر بن راشد قد رَوَوه عن زياد بن عِلاقة، ثم وجدتُ أبا حازم الأشجعي (2) وعامرًا الشعبي وأبا يَعفُور العَبْدي وغيرَهم تابعوا زياد بن عِلاقة على روايتِه عن عَرْفجة، والباب عندي مجموع في جزء، فأغنى ذلك عن ذكر هذه الروايات. وقد أخرج مسلم حديث أبي نَضْرة، عن أبي سعيد، عن النبي ﷺ قال:"إذا بُويع للخليفتَين، فاقتُلُوا الآخِرَ منهما" (1) . وشرَحَه حديث عبد الرحمن بن عبد ربّ الكعبة عن عبد الله بن عمرو، وقد أخرجه مسلم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2665 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عرفجہ بن شریح اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد عنقریب مصیبتیں ہی مصیبتیں ہوں گی۔ (یہ فرماتے ہوئے آپ نے) اپنے ہاتھ بلند کیے۔ (اور فرمایا) تم جس شخص کو دیکھو کہ وہ امت محمدیہ کا شیرازہ بکھیرنا چاہتا ہے اس کو قتل کر ڈالو، لوگوں میں اس کی کوئی بھی حیثیت ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور میں نے شیخین کے متعلق جو یہ بات کہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شعبہ بن حجاج، سفیان بن سعید، شیبان بن عبدالرحمن اور معمر بن ارشد نے اس حدیث کو زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ یہ حدیث عرفجہ سے روایت کرنے میں ابوحازم اشجعی، عامر الشعبی اور ابویعفور عبدی اور دیگر محدثین نے زیاد بن علاقہ کی متابعت کی ہے۔ اور میرے نزدیک یہ باب ایک جزء میں جمع ہے۔ جس کی بناء پر ان روایات کو بیان ذکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ البتہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابونضرہ کے واسطے سے ابوسعید کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو تم ان میں سے دوسرے (یعنی بعد والے) کو قتل کر دو ۔ اور اس حدیث کی شرح وہ حدیث ہے جس کو عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2697]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2698
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أبي عِمران الجَوْني، عن عبد الله بن الصامِت، عن أبي ذرٍّ، قال: قال رسول الله ﷺ:"يا أبا ذر، كيف أنتَ وموتٌ يصيبُ الناسَ حتَّى يكون البيتُ بالوَكِيف (3) ؟" - يعني: القَبْرَ - قلتُ: ما خارَ اللهُ لي ورسولُه، ثم قال:"كيف أنتَ وجوعٌ يصيبُ الناسَ حتى تأتيَ مسجدَك، فلا تستطيعَ أن ترجعَ إلى فِراشِك، ولا تستطيعَ أن تقومَ من فِراشِك إلى مسجدك؟" قلت: ما خارَ لي اللهُ ورسولُه، قال:"عليك بالعِفّة"، ثم قال:"كيف أنتَ وقتلٌ يصيب الناسَ حتى تَغرقَ حجارةُ الزيتِ بالدم؟" قال: قلت: ما خارَ اللهُ لي ورسولُه - أو الله ورسوله أعلم - قال:"الْزَمْ منزلَك" قال: فقلت: يا رسول الله، أفلا آخُذُ سيفي فأضربَ به مَن فعل ذاك؟ قال:"فقد شاركتَ القومَ إذًا" قلت: يا رسول الله، فإن دُخِل بيتي؟ قال:"إن خشيتَ أَن يَبْهَرَك شُعاعُ السَّيف، فقُلْ هكذا، فألْقِ طَرَفَ ثوبِك على وجهِك، فيَبُوءُ بإثمِه وإثمِك، ويكونُ من أصحاب النار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ حماد بن زيد رواه عن أبي عمران الجَوْني، عن المُشعَّث بن طَريف، عن عبد الله بن الصامت:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2666 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس وقت تو کیسا ہو گا جب لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارا جا رہا ہو گا یہاں تک کہ قبر ہی اصل مکان ٹھہرے گی۔ میں نے کہا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے منتخب کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس وقت کیا کرے گا؟ جب لوگ شدید بھوک کا شکار ہوں گے (اور کمزوری اس قدر شدید ہو چکی ہو گی کہ) تم میں نماز پڑھ کر بستر تک آنے کی یا بستر سے اُٹھ کر جائے نماز تک آنے کی بھی ہمت نہ ہو گی۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جو میرے لیے منتخب کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عفت کو اختیار کر لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تو کیا کرے گا؟ جب لوگوں میں قتل عام ہو گا یہاں تک کہ (مقام) حجارۃ الزیت خون میں ڈوب جائے گا۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول میرے لیے جو منتخب فرما دے۔ (شاید یہ فرمایا) اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر سے باہر مت نکلنا۔ (ابوذر) فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: کیا (ایسے حالات میں) میں، ایسا کرنے والوں کی گردن نہ ماروں؟ آپ نے فرمایا: تب تو تُو بھی انہی کا شریک ہو گا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر وہ میرے گھر میں گھس آئے (تو کیا پھر بھی میں تلوار نہ اٹھاؤں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھے اپنے قتل کا خوف ہو تو اپنے چہرے پر یوں کر کے کپڑے کا پلو ڈال لینا تو تیرے اور اس کے گناہ کا ذمہ دار وہی ہو گا۔ اور وہ جہنمی ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ حماد بن زید نے اس حدیث کو ابوعمران جونی سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: یہ حدیث مجھے منبعث بن طریف نے روایت کی ہے۔ اور وہ ہرات میں قاضی تھے۔ انہوں نے عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ذریعے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان نقل کیا ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2698]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2699
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، أخبرنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حماد بن زيد قال: حدثني المُشعَّث بن طَرِيف، وكان قاضيًا بهَراة، عن عبد الله بن الصامِت، عن أبي ذر، عن النبي ﷺ، نحوه (1) .
حماد بن زید نے ابو عمران الجونی کے واسطے سے روایت کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے منبعث بن طریف نے حدیث بیان کی - جو ہرات میں قاضی تھے - انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح (کی حدیث) روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2699]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں