المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. الْأَمْرُ بِقَتْلِ مَنْ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ .
اس شخص کے قتل کا حکم جو امتِ محمد ﷺ میں تفرقہ ڈالے
حدیث نمبر: 2697
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري وأبو محمد الحَليميّ جميعًا بمَرْو، وأبو إسحاق إبراهيم بن أحمد الفقيه البُخاري بنَيسابور، قالوا: حدثنا أبو المُوجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، حدثنا عَبْدان بن عثمان، حدثنا أبو حمزة محمد بن ميمون، عن زياد بن عِلَاقة، عن عَرْفجة بن شُريح الأسلميّ، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنها ستكون بعدي هَنَاتٌ وهَنَاتٌ - ورفع يديه - فمن رأيتُموه يريدُ أن يُفرِّقَ أَمرَ أمةِ محمدٍ وهم جَميعٌ، فاقتُلُوه، كائنًا مَن كان من الناس" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وإنما حكمتُ به على الشيخين، لأنَّ شعبة بن الحجّاج وسفيان بن سعيد وشَيبان بن عبد الرحمن ومَعمَر بن راشد قد رَوَوه عن زياد بن عِلاقة، ثم وجدتُ أبا حازم الأشجعي (2) وعامرًا الشعبي وأبا يَعفُور العَبْدي وغيرَهم تابعوا زياد بن عِلاقة على روايتِه عن عَرْفجة، والباب عندي مجموع في جزء، فأغنى ذلك عن ذكر هذه الروايات. وقد أخرج مسلم حديث أبي نَضْرة، عن أبي سعيد، عن النبي ﷺ قال:"إذا بُويع للخليفتَين، فاقتُلُوا الآخِرَ منهما" (1) . وشرَحَه حديث عبد الرحمن بن عبد ربّ الكعبة عن عبد الله بن عمرو، وقد أخرجه مسلم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2665 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وإنما حكمتُ به على الشيخين، لأنَّ شعبة بن الحجّاج وسفيان بن سعيد وشَيبان بن عبد الرحمن ومَعمَر بن راشد قد رَوَوه عن زياد بن عِلاقة، ثم وجدتُ أبا حازم الأشجعي (2) وعامرًا الشعبي وأبا يَعفُور العَبْدي وغيرَهم تابعوا زياد بن عِلاقة على روايتِه عن عَرْفجة، والباب عندي مجموع في جزء، فأغنى ذلك عن ذكر هذه الروايات. وقد أخرج مسلم حديث أبي نَضْرة، عن أبي سعيد، عن النبي ﷺ قال:"إذا بُويع للخليفتَين، فاقتُلُوا الآخِرَ منهما" (1) . وشرَحَه حديث عبد الرحمن بن عبد ربّ الكعبة عن عبد الله بن عمرو، وقد أخرجه مسلم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2665 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عرفجہ بن شریح اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے ہاتھ اٹھا کر) فرمایا: ”عنقریب میرے بعد بہت سے فتنے اور فسادات ہوں گے، پس تم جسے دیکھو کہ وہ امتِ محمدیہ کے معاملے میں تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے جبکہ وہ سب متحد ہوں، تو اسے قتل کر دو، خواہ وہ لوگوں میں سے کوئی بھی ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میں نے اس پر شیخین کی شرط کا حکم اس لیے لگایا ہے کیونکہ شعبہ بن حجاج، سفیان بن سعید، شیبان بن عبدالرحمن اور معمر بن راشد نے اسے زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے، پھر مجھے ابوحازم اشجعی، عامر شعبی، ابویعفور عبدی اور دیگر ایسے راوی بھی ملے جنہوں نے عرفجہ سے روایت کرنے میں زیاد بن علاقہ کی متابعت کی ہے، اور اس باب کی تمام روایات میرے پاس ایک جزء میں جمع ہیں اس لیے ان روایات کے ذکر کی مزید ضرورت نہیں رہی۔ نیز امام مسلم نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ابونضرہ کی حدیث نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو خلیفوں کے لیے بیعت کر لی جائے تو ان میں سے بعد والے کو قتل کر دو۔“ اور اس کی شرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ کی حدیث سے ہوتی ہے جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2697]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میں نے اس پر شیخین کی شرط کا حکم اس لیے لگایا ہے کیونکہ شعبہ بن حجاج، سفیان بن سعید، شیبان بن عبدالرحمن اور معمر بن راشد نے اسے زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے، پھر مجھے ابوحازم اشجعی، عامر شعبی، ابویعفور عبدی اور دیگر ایسے راوی بھی ملے جنہوں نے عرفجہ سے روایت کرنے میں زیاد بن علاقہ کی متابعت کی ہے، اور اس باب کی تمام روایات میرے پاس ایک جزء میں جمع ہیں اس لیے ان روایات کے ذکر کی مزید ضرورت نہیں رہی۔ نیز امام مسلم نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ابونضرہ کی حدیث نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو خلیفوں کے لیے بیعت کر لی جائے تو ان میں سے بعد والے کو قتل کر دو۔“ اور اس کی شرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ کی حدیث سے ہوتی ہے جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2697]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وقد رواه صدقة بن الفضل المروَزي عن أبي حمزة محمد بن ميمون السّكري عند أبي عوانة (7142) فزاد فيه بين أبي حمزة وبين زياد ليث بن أبي سُليم، وليث بن أبي سليم حسن الحديث في المتابعات والشواهد، لكن أبا حمزة السُّكري لا يُعرف بتدليس، فالظاهر أنه سمعه على الوجهين، ...» [ترقيم الرساله 2697] [ترقيم الشركة 2680] [ترقيم العلميه 2665]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2698
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أبي عِمران الجَوْني، عن عبد الله بن الصامِت، عن أبي ذرٍّ، قال: قال رسول الله ﷺ:"يا أبا ذر، كيف أنتَ وموتٌ يصيبُ الناسَ حتَّى يكون البيتُ بالوَكِيف (3) ؟" - يعني: القَبْرَ - قلتُ: ما خارَ اللهُ لي ورسولُه، ثم قال:"كيف أنتَ وجوعٌ يصيبُ الناسَ حتى تأتيَ مسجدَك، فلا تستطيعَ أن ترجعَ إلى فِراشِك، ولا تستطيعَ أن تقومَ من فِراشِك إلى مسجدك؟" قلت: ما خارَ لي اللهُ ورسولُه، قال:"عليك بالعِفّة"، ثم قال:"كيف أنتَ وقتلٌ يصيب الناسَ حتى تَغرقَ حجارةُ الزيتِ بالدم؟" قال: قلت: ما خارَ اللهُ لي ورسولُه - أو الله ورسوله أعلم - قال:"الْزَمْ منزلَك" قال: فقلت: يا رسول الله، أفلا آخُذُ سيفي فأضربَ به مَن فعل ذاك؟ قال:"فقد شاركتَ القومَ إذًا" قلت: يا رسول الله، فإن دُخِل بيتي؟ قال:"إن خشيتَ أَن يَبْهَرَك شُعاعُ السَّيف، فقُلْ هكذا، فألْقِ طَرَفَ ثوبِك على وجهِك، فيَبُوءُ بإثمِه وإثمِك، ويكونُ من أصحاب النار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ حماد بن زيد رواه عن أبي عمران الجَوْني، عن المُشعَّث بن طَريف، عن عبد الله بن الصامت:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2666 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ حماد بن زيد رواه عن أبي عمران الجَوْني، عن المُشعَّث بن طَريف، عن عبد الله بن الصامت:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2666 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب لوگوں میں ایسی کثرت سے موت واقع ہوگی کہ گھر (یعنی قبر) ایک غلام کے بدلے ملے گا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول جو میرے لیے پسند فرمائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب لوگوں پر ایسی شدید بھوک آئے گی کہ تم اپنی مسجد تک تو آؤ گے لیکن نقاہت کی وجہ سے واپس اپنے بستر تک جانے کی ہمت نہ پاؤ گے اور بستر سے اٹھ کر مسجد تک آنا تمہارے لیے محال ہو جائے گا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول جو میرے لیے بہتر سمجھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عفت و پاکدامنی اختیار کرنا“ پھر فرمایا: ”تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب لوگوں میں اس قدر قتل و غارت ہوگا کہ «حِجَارَةُ الزَّيْتِ» (مدینہ کا ایک مقام) خون میں ڈوب جائے گا؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر میں رہنا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار اٹھا کر اس شخص کا مقابلہ نہ کروں جو ایسا (فتنہ) کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی صورت میں تو تم بھی ان لوگوں کے گناہ میں شریک ہو جاؤ گے“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی زبردستی میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں مرعوب کر دے گی تو اس طرح کرنا (اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) اپنی چادر کا ایک کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا، تاکہ وہ اپنے اور تمہارے گناہوں کا بوجھ سمیٹ کر جہنمیوں میں شامل ہو جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ حماد بن زید نے اسے ابوعمران جونی سے، انہوں نے مشعث بن طریف سے اور انہوں نے عبداللہ بن صامت سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2698]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ حماد بن زید نے اسے ابوعمران جونی سے، انہوں نے مشعث بن طریف سے اور انہوں نے عبداللہ بن صامت سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2698]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وقد رواه حماد بن زيد - كما سيأتي بعده - فزاد فيه بين أبي عمران الجوني - واسمه عبد الملك بن حبيب - وبين عبد الله بن الصامت رجلًا هو المشعَّث بن طريف - ويقال في اسمه: المنبعث - وهو رجل معروف جليل القدر كما وصفه الحافظ صالح جزرة، ...» [ترقيم الرساله 2698] [ترقيم الشركة 2681] [ترقيم العلميه 2666]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2699
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، أخبرنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حماد بن زيد قال: حدثني المُشعَّث بن طَرِيف، وكان قاضيًا بهَراة، عن عبد الله بن الصامِت، عن أبي ذر، عن النبي ﷺ، نحوه (1) .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مثل (گزشتہ حدیث کی طرح) ارشاد فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2699]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد تفرَّد حماد بن زيد فيه بزيادة المشعَّث بن طريف في إسناده كما أوضحناه عند الطريق السابق. والمشعَّث هذا رجل جليل القدر كما وصفه الحافظ صالح بن محمد جزرة، فلو فرضنا ثبوته في هذا الإسناد فإنه يكون صحيحًا أيضًا، ويكون من المزيد في متصل الأسانيد، لكن يعكّر ...» [ترقيم الرساله 2699] [ترقيم الشركة 2681/1]
الحكم على الحديث: حديث صحيح