🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. النَّهْيُ عَنْ قِتَالِ مَنْ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
لا إله إلا الله کہنے والے سے قتال کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2700
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن يونس بن المسيَّب الضَّبِّي، حدثنا جعفر بن عَوْن، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم وعامر الشَّعْبي، قالا: قال مروان بن الحكم لأيمن بن خُريم: ألا تخرجُ فتُقاتلَ معنا، فقال: إِنَّ أبي وعمِّي شهدا بدرًا، وإنهما عَهِدا إليّ أن لا أُقاتل أحدًا يقول: لا إله إلّا الله، فإن أنت جئتني ببراءةٍ من النار قاتلتُ معك، قال: فاخرُجْ عنا، قال: فخرج وهو يقول: ولست بقاتلٍ رجلًا يصلّي … على سلطانِ آخرَ من قريشِ له سُلْطانُه وعليَّ إثمي … معاذَ اللهِ مِن جَهلٍ وطَيشِ أأقتُلُ مسلمًا في غير جُرْمٍ … فليسَ بنافعي ما عشتُ عَيشي (2)
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والصحابيان اللذان ذُكِرا وشَهِدا بدرًا يصير الحديثُ به في حدود المسانيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2667 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قیس بن ابوحازم رضی اللہ عنہ اور عامر شعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مروان بن حکم نے ایمن بن خریم سے کہا: تم ہمارے ہمراہ جنگ میں شریک کیوں نہیں ہوتے؟ انہوں نے کہا: میرے والد اور میرے چچا بدر میں شریک ہوئے ہیں، انہوں نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میں کسی کلمہ گو کے خلاف نہیں لڑوں گا۔ اگر دوزخ سے براءت کا یقین دلاتے ہو تو میں آپ کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوتا ہوں۔ (مروان نے) کہا: یہاں سے نکل جاؤ۔ تو وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل آئے میں ایسے کسی شخص سے نہیں لڑوں گا جو قریش کے کسی دوسرے سلطان کی تعریف کرتا ہے۔ اس کے لیے اس کی سلطنت ہے اور میرے اوپر گناہ۔ میں ایسے جہل اور زوالِ عقل سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ کیا میں ایک مسلمان کو بلاوجہ قتل کروں گا۔ تو پھر میں جتنی بھی زندگی جی لوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور وہ دو صحابی جن کا ذکر ہوا ہے جو بدر میں شہید ہوئے ہیں ان کے متعلق حدیث مسانید کی حدود میں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2700]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2701
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي البَخْتَري، عن أبي ثَوْر الحُدّاني، قال: بعث عثمانُ بن عفان يومَ الجَرَعة سعيدَ بن العاص إلى الكوفة، قال: فخرجوا إليه فردُّوه، قال: وكنت قاعدًا مع أبي مسعود (1) وحذيفة، فقال أبو مسعود: ما كنتُ أرى أن يرجعَ هؤلاء ولم يُهرَقْ فيها مِحجَمةٌ من دمٍ، وما علمتُ من ذلك شيئًا إلّا شيئًا علمتُه ومحمدٌ ﷺ حيٌّ: أنَّ الرجل يُصبح مؤمنًا ويُمسي وما معه شيءٌ، ويُمسي مؤمنًا ويصبحُ وما معه شيءٌ، يُقاتِل في الفتنة اليومَ ويقتلُه اللهُ غدًا، يُنكِّسُ (2) قلبَه وتَعلُوه اسْتُه، قلت: أسفلُه؟ قال: بلِ استُه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2668 - صحيح
سیدنا ابوثور حدانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جرعہ کے دن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو جرعہ کے دن (جس دن اہل کوفہ نے سیدنا سعید بن العاص کے خلاف بغاوت کی تھی) کوفہ بھیجا (ابوثور) فرماتے ہیں: لیکن اہل کوفہ نے ان کے خلاف بغاوت کر دی اور ان کو واپس بھیج دیا۔ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بولے: میں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ واپس آ جائیں گے اور تھوڑا سا بھی خون نہ بہے۔ اور میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جان لی تھی کہ ایک شخص حالت ایمان میں صبح کرتا ہے لیکن شام کے وقت اس کے پاس (ایمان نام کی) کوئی چیز نہیں ہو گی۔ اور ایک شخص شام کے وقت صاحبِ ایمان ہو گا لیکن صبح کے وقت اس کے پاس (ایمان نام کی) کوئی شئے نہیں ہو گی۔ آج وہ فتنوں میں جنگ کرتا ہے اور کل اس کو اللہ تعالیٰ اس حالت میں مارے گا کہ اس کا دل اوندھا کر دے گا اور اس کی سرین اونچی کر دے گا۔ میں نے کہا: اس کا نچلا حصہ؟ اس نے کہا: (نہیں بلکہ) سرین۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2701]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2702
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا سليمان بن بلال، عن علقمة بن أبي علقمة، عن أمّه: أنَّ غلامًا كان لبابَى (1) ، وكان بابَى يضربه في أشياء ويُعاقِبه، وكان الغلامُ يُعادي سيِّدَه فباعه (2) ، فلقيه الغلامُ يومًا ومع الغلام سيفٌ، وذلك في إمْرة سعيد بن العاص، فشَهَرَ العبدُ على بابَى السيفَ وتَفلَّت به عليه، فأمسكَه الناسُ عنه، فدخل بابَى على عائشة، فأخبرها بما فعل العبدُ، فقالت عائشة: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن أشار بحديدةٍ إلى أحدٍ من المسلمين يريد قتلَه، فقد وَجَبَ دمُه". قالت: فخرج بابَى من عندها، فذهب إلى سيد العبدِ الذي ابتاعه منه فاستقالَه فأقالَه، وردَّ إليه، فأخذَه بابَى فقتلَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2669 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علقمہ بن ابوعلقمہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں بابی کا ایک غلام تھا جس کو بابی اکثر طور پر مارا کرتا تھا اور سزائیں دیا کرتا تھا اور وہ غلام اپنے آقا کے متعلق شدید غصہ رکھتا تھا۔ آقا نے اس کو بیچ دیا۔ ایک دن اس کی اسی غلام سے ملاقات ہو گئی اور غلام کے پاس اس وقت تلوار تھی۔ یہ واقعہ سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی ولایت میں پیش آیا۔ اس غلام نے بابی پر تلوار سونت لی اور اس پر حملہ کر دیا۔ لوگوں نے بچ بچاؤ کرا دیا۔ پھر بابی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان کو غلام کا واقعہ بتایا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو قتل کرنے کے لیے ہتھیار اٹھائے وہ مباح الدم ہو جاتا ہے۔ (علقمہ کی والدہ) کہتی ہیں: بابی ام المومنین رضی اللہ عنہا کے ہاں سے نکلا اور اس شخص کے پاس گیا جس نے اس سے یہ غلام خریدا تھا۔ اور اس سے کہا: اپنے دام واپس لے لو یہ غلام مجھے واپس کر دو۔ وہ مان گیا۔ اور غلام بابی کے حوالے کر دیا۔ بابی اس کو لے آیا اور لا کر اسے مار ڈالا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2702]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں