المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. ثَلَاثٌ مِنَ السَّعَادَةِ وَثَلَاثٌ مِنَ الشَّقَاوَةِ .
تین چیزیں سعادت کی ہیں اور تین بدبختی کی
حدیث نمبر: 2717
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبَهاني، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبَهاني، حدثنا محمد بن بُكير الحَضْرمي، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا أبو إسحاق الشَّيباني، عن أبي بكر بن حَفْص، عن محمد بن سعد، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ثلاث من السَّعادة، وثلاث من الشَّقاوة، فمن السَّعادة: المرأةُ تراها تُعجِبُك، وتَغيبُ فتَأمنُها على نفسِها ومالِك، والدابةُ تكون وَطِيَّةً فتُلحِقُك بأصحابِك، والدارُ تكونُ واسعةً كثيرةَ المَرافقِ، ومن الشَّقاوة: المرأة تَراها فتَسوءُك، وتَحمِلُ لسانَها عليك، وإن غِبتَ عنها لم تأمنْها على نفسِها ومالِك، والدابةُ تكون قَطُوفا فإن ضربتَها أتعبَتكَ، وإن تركتَها لم تُلحِقْكَ بأصحابِك، والدارُ تكون ضيقةً قليلةَ المَرافق" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد مِن خالد بن عبد الله الواسطي إلى رسول الله ﷺ، تفرَّد به محمد بن بُكير عن خالد، إن كان حَفِظَه فإنه صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2684 - محمد قال أبو حاتم صدوق يغلط وقال يعقوب بن شيبة ثقة
هذا حديث صحيح الإسناد مِن خالد بن عبد الله الواسطي إلى رسول الله ﷺ، تفرَّد به محمد بن بُكير عن خالد، إن كان حَفِظَه فإنه صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2684 - محمد قال أبو حاتم صدوق يغلط وقال يعقوب بن شيبة ثقة
سیدنا محمد بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں سعادت کی علامت ہیں اور تین چیزیں بدبختی کی۔ سعادت میں سے یہ چیزیں ہیں: (1) ایسی عورت کہ جب تو اس کو دیکھے تو وہ تجھے خوش کرے۔ جب تو اس سے غائب ہو تو وہ اپنے نفس اور تیرے مال کی نگرانی کرے۔ (2) تیز رفتار سواری جو تجھے تیرے ہمراہیوں کے ساتھ ساتھ رکھے۔ (3) ایسا وسیع گھر جس میں تمام سہولتیں موجود ہوں۔ (جو تین چیزیں انسان کی) بدبختی (ہیں وہ) یہ ہیں: (1) ایسی بیوی کہ جب تو اسے دیکھے تو تجھے پریشان کر دے، تیرے خلاف زبان درازی کرے اور اگر تو اس سے غائب ہو تو وہ اپنی ذات کی اور تیرے مال کی حفاظت نہ کرے۔ (2) ایسی سست رفتار سواری اگر تو اس کے ساتھ پیدل چلے تو وہ تجھ کو تھکا دے اور اگر تو اس پر سواری کرے تو وہ تجھے تیرے ساتھیوں کے ساتھ ملا نہ سکے۔ (3) ایسا تنگ مکان جس میں بہت کم سہولیات ہوں۔ ٭٭ خالد بن عبداللہ واسطی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ اس حدیث کو خالد سے روایت کرنے میں محمد بن بکیر منفرد ہیں، اگر یہ اس تفرد سے سلامت ہے تو یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2717]