🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. تَزْوِيجُ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2738
أخبرنا مَخْلَد (2) بن جعفر الباقَرْحِيّ، حدثنا محمد بن جَرير (3) ، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُموي، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن عمرو بن علقمة، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عائشة قالت: لما تُوفِّيَت خديجةُ قالت خولة بنت حكيم بنِ أُميّة بن الأَوْقَص امرأة عثمان بن مَظْعُون، وذلك بمكة: أيْ رسولَ الله، ألا تَزَوَّجُ؟ قال:"ومَن؟" قالت: إن شئت بِكرًا، وإن شئت ثيِّبًا، قال:"ومَن البِكرُ؟" قالت: ابنةُ أحبِّ خلق الله إليك، عائشةُ بنت أبي بكر، قال:"ومَن الثيِّبُ؟" قالت: سَوْدَةُ بنت زَمْعة بن قيس، قد آمنتْ بك واتبعتْك على ما أنتَ عليه، قال:"فاذهبي فاذكُرِيهما"، فجاءت فدخلتْ بيت أبي بكر، فقالت: يا أبا بكر، ماذا أدخلَ اللهُ عليك من الخير والبَرَكة، أرسلَني رسولُ الله ﷺ أخطُبُ عليه عائشةَ، قال: ادعِي لي رسولَ الله ﷺ، فدعَتْه، فجاء فأنكحه، وهي يومئذٍ ابنةُ سبع سنين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2704 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی، حکیم بن امیہ بن الاوقص کی بیٹی خولہ نے کہا: (یہ مکہ کا واقعہ ہے) یا رسول اللہ! آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کس کے ساتھ؟ اس نے کہا: اگر آپ کنواری لڑکی سے کرنا چاہتے تو اس کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے اور ثیبہ کے ساتھ کرنا چاہیں تو وہ بھی مل سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کنواری لڑکی کون سی ہے؟ اس نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اور ثیبہ کون سی ہے؟ اس نے کہا: زمعہ بن قیس کی بیٹی سودہ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان بھی لا چکی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پیروی بھی کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ! دونوں کی بات کر کے آؤ۔ تو خولہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آئیں اور بولیں: اے ابوبکر! اللہ تعالیٰ نے تجھے کیسی خیر و برکت سے نوازا ہے، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی طرف عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے پیغام نکاح دے کر بھیجا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلا کر لاؤ، وہ بلا کر لے آئیں۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسی دن عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا اس وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر صرف سات سال تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2738]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2739
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، حدثنا الحسين بن واقِد، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه قال: خطب أبو بكر وعمرُ فاطمةَ، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّها صغيرة"، فخطبها عليٌّ فزَوَّجَها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2705 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بہت چھوٹی ہے۔ پھر علی نے پیغام بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2739]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں