🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. لَا تَنْكِحُوا النِّسَاءَ حَتَّى تَسْتَأْمِرُوهُنَّ
عورتوں کا نکاح ان سے اجازت لیے بغیر نہ کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2737
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا ابن أبي فُدَيك، عن ابنِ أبي ذئب، عن عمر بن حسين، عن نافع، عن ابن عمر: أنه تزوج ابنةَ خاله عثمان بن مَظْعُون، قال: فذهبتْ أمُّها إلى النبي ﷺ، فقالت: إنَّ ابنتي تَكْرَه والله، فأمره رسول الله ﷺ أن يُفارقها، ففارَقَها، وقال:"لا تُنكِحُوا النساءَ حتى تَستأمروهُنّ، فإذا سَكتْنَ فهو إذنُهُنَّ". فتزوّجها بعدَ عبدِ الله المغيرةُ بن شُعبة (1) .
هذا حديث كبيرٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2703 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے ماموں عثمان بن مظعون کی صاحبزادی سے نکاح کیا، وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: میری بیٹی (اس نکاح کو) ناپسند کرتی ہے، اللہ کی قسم! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے جدا کر دیں، چنانچہ انہوں نے اسے جدا کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کا نکاح اس وقت تک نہ کرو جب تک ان سے مشورہ نہ کر لو، پس اگر وہ خاموش رہیں تو یہی ان کی اجازت ہے۔ بعد ازاں عبداللہ کے بعد ان سے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا۔
یہ ایک عظیم اور صحیح حدیث ہے جو شیخین کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2737]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن أبي فُديك: هو محمد بن إسماعيل بن مسلم بن أبي فُديك، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة، وعمر بن حسين: هو ابن عبد الله الجُمحي.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں