🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. الْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا
ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2763
حدَّثَناه أبو الحسن بن منصور، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجيَة، حدثنا كُردُوس بن محمد أبو الحسن القافِلَاني، حدثنا مُعلَّى بن عبد الرحمن، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب: أنَّ عمر بن الخطاب قام على مِنبره، فحمِد اللهَ وأثنى عليه، فقال: ألا لا تُغالُوا في صَدُقات النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً في الدنيا أو تقوى عند الله، كان أَولاكُم بها نبيُّكم ﷺ، والله ما زِيدَتِ امرأةٌ من نسائه ولا بناتِه على اثنتي عشرةُ أُوقيّة؛ وذلك أربع مئة درهم وثمانون درهمًا، الأُوقية أربعون درهمًا (2) . فقد تواترت الأسانيدُ الصحيحة بصحَّة خطبة أمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁، وهذا البابُ لي مجموعٌ في جزء كبير، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: خبردار! عورتوں کے حق مہر بہت مہنگے مقرر مت کرو اس لیے کہ یہ بات اگر دنیاوی طور پر باعث عزت و تکریم ہوتی یا عنداللہ تقویٰ کا درجہ رکھتی تو تمہارے نبی اس بات کے تم سے زیادہ حقدار تھے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی کسی زوجہ اور بیٹی کا حق مہر 12 اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا۔ اور یہ 480 درہم بنتے ہیں۔ کیونکہ ایک اوقیہ 40 درہموں کا ہوتا ہے۔ ٭٭ سیدنا امیرالمومنین عمر بن خظاب رضی اللہ عنہ کے خطبہ کے صحیح ہونے کے متعلق صحیح سندیں حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں اور میرا یہ باب ایک بہت بڑے جزء کا مجموعہ ہے۔ لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2763]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2764
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المُعَافى بن سليمان الحرّاني، حدثنا زهير، حدثنا أبو إسماعيل الأسْلمي، أنَّ أبا حازم حدّثه عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ، فقال: إني تزوّجتُ امرأةً من الأنصار على ثماني أَواقٍ، فتَفزَّع لها رسولُ الله ﷺ، فقال:"كأنما تَنحِتُون الفضةَ من عُرْضِ هذا الجبل، هل رأيتَها، فإنَّ في عُيون الأنصار شيئًا؟" قال: قد رأيتُها، قال:"ما عندنا شيءٌ، ولكنا سنبعثُك في بَعْثٍ، وأنا أرجو أن تُصيبَ خيرًا"، فبعثه في ناسٍ إلى ناسٍ من بني عَبْس، وأمر لهم النبي ﷺ بناقةٍ فحَمَلُوا عليها متاعَهم، فلم تَرِمْ إلّا قليلًا حتى بَرَكَتْ فأعْيَتْهم أن تَنبَعِثَ، فلم يكن في القوم أصغرَ من الذي تزوّج، فجاء إلى نبيّ الله ﷺ وهو مُستلْقٍ في المسجد، فقام عند رأسه كراهيةَ أن يُوقظه، فانتبه نبيُّ الله ﷺ، فقال: يا نبيّ الله، إنَّ الذي أعطيتَنا أحببنا أن تَبتَعِثَه، فناولَه نبيُّ الله ﷺ يمينَه، وأخذَ رداءه بشمالِه فوضعه على عاتِقِه، وانطلق يمشي حتى أتاها، فضربها بباطن قدمِه، والذي نفسُ أبي هريرة بيده لقد كانت بعدَ ذلك تَسبِقُ القائد، وإنهم نزلوا بحَضْرة العدوّ، وقد أوقَدُوا النيران، فأحاط بهم فتفرَّقوا عليهم، وكبَّروا تكبيرةَ رجلٍ واحدٍ، وإِنَّ الله هَزمَهم وأَسَرَ منهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرج مسلم من حديث شعبة (1) ، عن أبي إسماعيل، عن أبي حازم، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا تزوج، فقال رسول الله ﷺ:"هلّا نظرتَ إليها" فقط، وأبو إسماعيل هذا هو بَشير بن سلْمان، وقد احتجا جميعًا به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2729 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میں نے ایک انصاری خاتون کے ساتھ 8 اوقیہ حق مہر کے بدلے شادی کر لی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ بات سن کر) گھبرا کر بولے: لگتا ہے پہاڑ کے اس پہلو سے تمہاری چاندی نکلتی ہے۔ کیا تو نے اس کو دیکھا ہے؟ کیونکہ (بعض) انصاری عورتوں کی آنکھ میں کچھ (عیب سا) ہوتا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے اس کو دیکھ لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تیرے مہر کی ادائیگی کے لیے) فی الحال تو میرے پاس کچھ نہیں ہے، البتہ بہت جلد میں تجھے ایک لشکر کے ہمراہ بھیج دوں گا، مجھے امید ہے کہ وہاں سے آپ کو کچھ مال مل جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک لشکر کے ہمراہ بنی عبس کی جانب بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک اونٹنی کا حکم دیا۔ انہوں نے اس پر اپنا سامان لاد دیا۔ ابھی یہ قافلہ زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ اونٹنی بیٹھ گئی اور اس نے ان کو تھکا ڈالا لیکن چلنے کا نام تک نہیں لے رہی تھی، اور اس شادی شدہ آدمی سے چھوٹا اس لشکر میں کوئی نہیں تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آرام کر رہے تھے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کی جانب (خاموش) کھڑا ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بیدار ہوئے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا فرمائی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے ہاتھوں سے روانہ فرمائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اس کو پکڑایا اور بائیں ہاتھ سے اپنی چادر اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈالی۔ اور چلتے ہوئے اس اونٹنی کے پاس آ پہنچے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے قدم کی نچلی جانب سے مارا، (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے، اس کے بعد وہ اس قدر تیز چلنے لگی کہ سب سے اگلے اونٹ کو بھی پیچھے چھوڑ گئی۔ پھر یہ لوگ دشمن کے مقابلے میں جا کر خیمہ زن ہوئے، دشمن آگ جلا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان لوگوں نے بکھر کر ان کا گھیراؤ کیا اور ایک شخص کی آواز پر نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یکبارگی حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو شکست دی۔ اور بہت لوگ قیدی بھی ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابوحازم کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے شادی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو دیکھ کیوں نہیں لیا؟ (امام کی روایت کردہ حدیث کا متن صرف اتنا ہی ہے) اور یہ ابواسماعیل بشیر بن سلیمان ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے ان کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2764]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2765
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد. وأخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن أبي حَدْرد الأسلَمي: أنه أتى النبي ﷺ يَستعينُه في مهر امرأةٍ، فقال:"كم أمهَرْتَها؟"، فقال: مئتي درهم، فقال ﷺ:"لو كنتم تَعْرِفُون من بُطحانَ ما زِدْتُم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2730 - صحيح
سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، وہ اپنے مہر کی ادائیگی کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد لینے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو نے کتنا مہر مقرر کیا ہے؟ اس نے کہا 200 درہم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بطحان وادی سے چلو بھرتے تب بھی تم زیادہ نہ دیتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2765]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں