المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. الأوقية أربعون درهما
ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے
حدیث نمبر: 2764
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المُعَافى بن سليمان الحرّاني، حدثنا زهير، حدثنا أبو إسماعيل الأسْلمي، أنَّ أبا حازم حدّثه عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ، فقال: إني تزوّجتُ امرأةً من الأنصار على ثماني أَواقٍ، فتَفزَّع لها رسولُ الله ﷺ، فقال:"كأنما تَنحِتُون الفضةَ من عُرْضِ هذا الجبل، هل رأيتَها، فإنَّ في عُيون الأنصار شيئًا؟" قال: قد رأيتُها، قال:"ما عندنا شيءٌ، ولكنا سنبعثُك في بَعْثٍ، وأنا أرجو أن تُصيبَ خيرًا"، فبعثه في ناسٍ إلى ناسٍ من بني عَبْس، وأمر لهم النبي ﷺ بناقةٍ فحَمَلُوا عليها متاعَهم، فلم تَرِمْ إلّا قليلًا حتى بَرَكَتْ فأعْيَتْهم أن تَنبَعِثَ، فلم يكن في القوم أصغرَ من الذي تزوّج، فجاء إلى نبيّ الله ﷺ وهو مُستلْقٍ في المسجد، فقام عند رأسه كراهيةَ أن يُوقظه، فانتبه نبيُّ الله ﷺ، فقال: يا نبيّ الله، إنَّ الذي أعطيتَنا أحببنا أن تَبتَعِثَه، فناولَه نبيُّ الله ﷺ يمينَه، وأخذَ رداءه بشمالِه فوضعه على عاتِقِه، وانطلق يمشي حتى أتاها، فضربها بباطن قدمِه، والذي نفسُ أبي هريرة بيده لقد كانت بعدَ ذلك تَسبِقُ القائد، وإنهم نزلوا بحَضْرة العدوّ، وقد أوقَدُوا النيران، فأحاط بهم فتفرَّقوا عليهم، وكبَّروا تكبيرةَ رجلٍ واحدٍ، وإِنَّ الله هَزمَهم وأَسَرَ منهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرج مسلم من حديث شعبة (1) ، عن أبي إسماعيل، عن أبي حازم، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا تزوج، فقال رسول الله ﷺ:"هلّا نظرتَ إليها" فقط، وأبو إسماعيل هذا هو بَشير بن سلْمان، وقد احتجا جميعًا به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2729 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرج مسلم من حديث شعبة (1) ، عن أبي إسماعيل، عن أبي حازم، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا تزوج، فقال رسول الله ﷺ:"هلّا نظرتَ إليها" فقط، وأبو إسماعيل هذا هو بَشير بن سلْمان، وقد احتجا جميعًا به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2729 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میں نے ایک انصاری خاتون کے ساتھ 8 اوقیہ حق مہر کے بدلے شادی کر لی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ بات سن کر) گھبرا کر بولے: لگتا ہے پہاڑ کے اس پہلو سے تمہاری چاندی نکلتی ہے۔ کیا تو نے اس کو دیکھا ہے؟ کیونکہ (بعض) انصاری عورتوں کی آنکھ میں کچھ (عیب سا) ہوتا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ میں نے اس کو دیکھ لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تیرے مہر کی ادائیگی کے لیے) فی الحال تو میرے پاس کچھ نہیں ہے، البتہ بہت جلد میں تجھے ایک لشکر کے ہمراہ بھیج دوں گا، مجھے امید ہے کہ وہاں سے آپ کو کچھ مال مل جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک لشکر کے ہمراہ بنی عبس کی جانب بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک اونٹنی کا حکم دیا۔ انہوں نے اس پر اپنا سامان لاد دیا۔ ابھی یہ قافلہ زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ اونٹنی بیٹھ گئی اور اس نے ان کو تھکا ڈالا لیکن چلنے کا نام تک نہیں لے رہی تھی، اور اس شادی شدہ آدمی سے چھوٹا اس لشکر میں کوئی نہیں تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آرام کر رہے تھے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کی جانب (خاموش) کھڑا ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بیدار ہوئے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا فرمائی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے ہاتھوں سے روانہ فرمائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اس کو پکڑایا اور بائیں ہاتھ سے اپنی چادر اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈالی۔ اور چلتے ہوئے اس اونٹنی کے پاس آ پہنچے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے قدم کی نچلی جانب سے مارا، (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے، اس کے بعد وہ اس قدر تیز چلنے لگی کہ سب سے اگلے اونٹ کو بھی پیچھے چھوڑ گئی۔ پھر یہ لوگ دشمن کے مقابلے میں جا کر خیمہ زن ہوئے، دشمن آگ جلا کر بیٹھے ہوئے تھے، ان لوگوں نے بکھر کر ان کا گھیراؤ کیا اور ایک شخص کی آواز پر نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یکبارگی حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو شکست دی۔ اور بہت لوگ قیدی بھی ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابوحازم کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے شادی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو دیکھ کیوں نہیں لیا؟ (امام کی روایت کردہ حدیث کا متن صرف اتنا ہی ہے) اور یہ ابواسماعیل بشیر بن سلیمان ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے ان کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2764]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2764 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وأبو إسماعيل الأسلمي هو بَشير بن سلمان، كما جَزَمَ المصنِّف، ويؤيده أنه وقع مقيدًا بذلك في إسناد حديث آخر من طريق زهير - وهو ابن معاوية - عنه عن أبي حازم - وهو سلمان الأشجعي - عن أبي هريرة، عند أبي عوانة (8305)، حيث قال فيه زهير: حدثنا بشير أبو إسماعيل، ولم ينسبه، لكن نسبته هنا بالأسلمي فيها نظر، لأنَّ بشيرًا المذكور نَهْدي لا أسلمي، إلّا إن كان الأسلمي بضم اللام فهو يجتمع مع النَّهدي، فإنَّ في أجداد نَهْد أَسْلُم بن الحاف بن قضاعة. وليس أبو إسماعيل هو يزيد بن كيسان، وإن كان يُكنى أيضًا بأبي إسماعيل، ¤ ¤ وشاركه في هذا الحديث بعينه كذلك وفي غيره، كما أفاده ابن الجارود في "الكنى" فيما نقله عنه أبو علي الجياني في "تقييد المهمل" 3/ 931 ووافقه عليه. قلنا: ولأنه لا تعرف لزهير رواية عن يزيد بن كيسان، ولأنَّ يزيد بن كيسان مشهور باسمه لا بكنيته، كما أفاده المزّي في "التحفة" (13395)، ولأنَّ يزيد بن كيسان يشكريٌّ وأبا إسماعيل أسلميٌّ نَهْدي، ولا يجتمعون، كما أفاده المزّي أيضًا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی اسناد "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: "ابو اسماعیل الاسلمی" سے مراد بشیر بن سلمان ہیں؛ اگرچہ ان کی نسبت "الاسلمی" میں اختلاف ہے کیونکہ وہ قبیلہ "نہد" سے ہیں، تاہم نہد کے اجداد میں "اسلُم" (لام کے پیش کے ساتھ) نامی شخص موجود ہے جس سے یہ نسبت درست ہو سکتی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: یہ ابو اسماعیل، یزید بن کیسان نہیں ہیں (اگرچہ ان کی کنیت بھی ابو اسماعیل ہے)۔ اس کی وجوہات یہ ہیں کہ زہیر کی یزید بن کیسان سے کوئی روایت معروف نہیں، اور یزید اپنی کنیت کے بجائے نام سے مشہور ہیں، نیز یزید بن کیسان "یشکری" ہیں جبکہ یہ راوی "نہدی" ہیں۔
وأخرجه الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (5058) من طريق سفيان بن عيينة، عن أبي إسماعيل، به. دون ذكر قصة الناقة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طحاوی نے "شرح مشکل الآثار" (5058) میں سفیان بن عیینہ عن ابی اسماعیل کی سند سے اونٹنی کے قصے کے بغیر روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (1424)، والنسائي (5329)، وابن حبان (4041) من طريق سفيان بن عيينة، ومسلم (1424)، وابن حبان (4094) من طريق مروان بن معاوية الفزاري، والنسائي (5330) من طريق علي بن هاشم بن البريد، ثلاثتهم عن يزيد بن كيسان، عن أبي حازم، به. لكن اقتصر سفيان وعلي بن هاشم في روايتهما على أمر النبي ﷺ لذلك الرجل بالنظر للمرأة الأنصارية لأنَّ في أعين الأنصار شيئًا. ولم يذكر مروان في روايته قصة الناقة. وسمَّى المهرَ في روايته أربع أواق، بدل ثماني أواق.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (1424)، نسائی (5329) اور ابن حبان (4041) نے یزید بن کیسان عن ابی حازم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: سفیان اور علی بن ہاشم کی روایت صرف انصاری عورت کو دیکھنے کے حکم پر مشتمل ہے کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ (مخصوص رنگ یا کیفیت) ہوتی ہے۔ مروان نے اونٹنی کا قصہ ذکر نہیں کیا اور مہر کی مقدار 8 اوقیہ کے بجائے 4 اوقیہ بیان کی ہے۔
وقوله: "فلم تُرِم" أي: لم تَبرَح.
📝 نوٹ / توضیح: "فلم تُرِم" کا لغوی مطلب ہے: "وہ اپنی جگہ سے نہ ہلی" یا "وہاں سے نہ ٹلی"۔
(1) لم يخرج مسلم هذا الحديث من طريق شعبة، وإنما أخرجه من طريق سفيان، كما قدَّمنا، وهو ابن عيينة، فلعلَّ ما وقع هنا تحريف، تحرَّف فيه سفيان إلى شعبة، إذ كان يُكتَب سفيان في كثير من الأصول القديمة بغير ألف، وأخطأ المصنف ﵀ في تسمية شيخ سفيان عند مسلم بأبي إسماعيل، وإنما هو يزيد بن كيسان، فإنَّ مسلمًا لم يخرج هذا الحديث من طريق أبي إسماعيل، وإن كان سفيانُ بن عيينة قد روى هذا الحديث عنهما جميعًا كما بيناه في تخريجه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام مسلم نے یہ حدیث شعبہ کے طریق سے روایت نہیں کی بلکہ سفیان بن عیینہ کے طریق سے کی ہے؛ غالباً متن میں "سفیان" تحریف ہو کر "شعبہ" بن گیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: مصنف سے سہو ہوا کہ انہوں نے مسلم کی سند میں سفیان کے استاد کا نام "ابو اسماعیل" لکھا، حالانکہ وہ یزید بن کیسان ہیں۔ اگرچہ سفیان بن عیینہ نے ان دونوں (ابو اسماعیل اور یزید بن کیسان) سے یہ حدیث سنی ہے۔