المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا
سب سے بابرکت عورت وہ ہے جس کا مہر کم ہو
حدیث نمبر: 2767
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفّان، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرني عمر بن طُفيل بن سَخْبرة المدني، عن القاسم بن محمد، عن عائشة، أنَّ النبي ﷺ قال:"أعظمُ النساء بَرَكةً أيسَرُهنَّ صَدَاقًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2732 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2732 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے زیادہ بابرکت وہ خاتون ہے جس کا مہر سب سے کم ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2767]
حدیث نمبر: 2768
أخبرني محمد بن عبد الله بن قُريش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو ثَوْر، حدثنا إبراهيم بن خالد الصنعاني، حدثنا عبد الله بن مصعب بن ثابت، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: زَوَّج رسول الله ﷺ رجلًا امرأةً بخاتم من حديد فَصُّهُ فِضّةٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2733 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2733 - صحيح
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی ایک عورت کے ساتھ لوہے کی ایک انگوٹھی کے عوض شادی کرائی جس کا نگینہ چاندی کا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2768]
حدیث نمبر: 2769
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت البُناني، حدثني عمر بن أبي سلمة، عن أمه أم سَلَمة، قالت: قال رسول الله ﷺ:"مَن أصابَه مُصيبةٌ فليقُل: إنا لله وإنا إليه راجعون، اللهم عندك أحتسِبُ مُصيبتي، فأْجُرْنِي فيها وأَبدِلْني خيرًا منها"، فلما مات أبو سلمة قُلتُها، فجعلتُ كلّما بلغتُ أبدِلْني بها خيرًا منها، قلت في نفسي: ومَن خيرٌ من أبي سلمة؟! ثم قلتُها. فلما انقَضَت عِدّتُها بعثَ إليها رسولُ الله ﷺ عمرَ بنَ الخطاب يَخطُبها عليه، فقالت لابنها: يا عمرُ، قم فزَوِّجْ رسولَ الله ﷺ، فزوَّجَه، فكان رسولُ الله ﷺ يأتيها ليدخُلَ بها، فإذا رأتْه أخذت ابنتَها زينبَ فجعلتْها في حَجْرها، فيَنقلِبُ رسولُ الله ﷺ، فعَلِمَ بذلك عمارُ بن ياسر، وكان أخاها من الرَّضاعة، فجاء إليها، فقال: أين هذه المَقبُوحة المَنبُوحة التي قد آذتْ رسولَ الله ﷺ، فأخذها فذهب بها، فجاءَها (1) رسولُ الله ﷺ فدخل عليها، فجعلَ يَضرِبُ ببصره في جوانب البيت، فقال:"ما فعلتْ زُنابُ؟" قالت: جاء عمارٌ فأخذها فذهب بها. فبَنَى بها رسولُ الله ﷺ، وقال:"إني لا أنقُصُكِ شيئًا مما أعطيتُ فلانةَ: رَحَاءَينِ وجَرَّتين ومِرفَقةً حَشْوُها لِيفٌ"، وقال:"إن سَبَّعتُ لكِ، سَبَّعتُ لنسائي" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2734 - على شرط النسائي
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2734 - على شرط النسائي
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی کو کوئی مصیبت آئے تو وہے کہے: (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اللّٰھُمَّ عَنْدَکَ اَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِیْ، فَأْجُرْنِیْ فِیْھَا، وَاَبْدِلْنِیْ خَیْرً مِّنْھَا) ” ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی جانب ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے اے اللہ! میں اپنی مصیبت کا تجھ ہی سے ثواب چاہتا ہوں تو مجھے اس میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما “۔ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب ان کے شوہر) ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا تو میں نے یہ دعا پڑھی (اور یہ دعا پڑھتے ہوئے) جب میں (اَبْدِلْنِیْ خَیْرً مِّنْھَا) کے الفاظ پر پہنچتی تو میں اپنے دل میں سوچتی کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ لیکن بہرحال میں یہ پڑھتی رہی، جب ان کی عدت گزر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ ان کی جانب پیغام نکاح بھیجا، انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر! جاؤ اور اس کا (یعنی میرا) نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دو۔ چنانچہ ان کے بیٹے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ہمبستری کے لیے تشریف لاتے تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیتی، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (بغیر ہمبستری کے) واپس چلے جاتے، اس بات کا عمار بن یاسر کو پتا چلا، عمار، ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے رضاعی بھائی تھے، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بولے: کہاں ہے یہ قبیحہ اور گالیوں کی مستحق؟ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے۔ عمار اس (زینب) کو اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمرے کی چاروں جانب نظریں گھما کر دیکھا (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زینب کہیں نظر نہ آئی تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: زینب کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: عمار آئے تھے، وہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمبستری کی اور فرمایا: میں نے جو کچھ دوسری ازواج کو دیا تھا، تجھے اس سے کم نہیں دوں گا، وہ دو چکیاں، دو مٹکے اور ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تجھے سات چیزیں دوں تو پھر تمام بیویوں کو سات سات دوں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2769]