🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. لَعَنَ اللَّهُ الْمُحِلَّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2840
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو زكريا يحيى بن عثمان بن صالح بن صفوان السَّهْمي بمصر، حدثنا أبي، قال: سمعتُ الليث بن سعد، في المسجد الجامع يقول: قال أبو مصعب مِشرَحُ بن هاعانَ: قال عُقْبة بن عامر الجُهَني: قال رسول الله ﷺ:"ألا أُخبركم بالتَّيس المُستعارِ؟"، قالوا: بلى يا رسول الله، قال:"هو المُحِلُّ، فلعنَ اللهُ المُحِلَّ والمُحَلَّلَ له" (2) . وقد ذكر أبو صالح كاتب الليث عن الليث سماعَه من مِشرَحِ بن هاعان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2804 - صحيح
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ گرمیوں کے دنوں میں ان کے مال کے ساتھ مدینہ کی قریبی بستیوں میں تھا، جب انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی اونٹ کے دو بچوں کو ہانک رہا ہے اور زمین پر پروانوں کی طرح گرمی کی شدت کی وجہ سے جا رہا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی کو کیا ہے، کیوں نہ یہ مدینہ میں رہا حتیٰ کہ ٹھنڈک ہو جاتی، پھر چلتا۔ پھر وہ آدمی قریب ہوا تو فرمایا: دیکھو یہ کون ہے؟ میں نے کہا: ایک آدمی چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپے اونٹ کے بچوں کو ہانک رہا ہے۔ پھر وہ آدمی اور قریب ہوا تو انہوں نے پھر کہا: دیکھو! میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے کہا: یہ تو امیر المؤمنین ہیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنا سر دروازے سے باہر نکالا تو انہیں گرمی کی لُو سے تکلیف پہنچی، اپنا سر واپس داخل کر لیا حتیٰ کہ جب وہ قریب آگئے تو پوچھا: آپ کس لیے اس وقت نکلے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صدقے کے اونٹوں کے دو بچے پیچھے رہ گئے جبکہ صدقے کے اونٹ چلے جا چکے ہیں، میں نے چاہا کہ ان کو بھی چراگاہ میں ان سے ملا دوں، میں ڈرا کہیں یہ ضائع نہ ہو جائیں کہ پھر اللہ مجھ سے ان کے متعلق دریافت کرے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے امیر المؤمنین! آؤ ہمارے پانی اور سایہ کی طرف (یعنی پانی پی لو اور سایہ میں آرام کر لو)۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنے سایہ میں ٹھہرے رہو۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے پاس آپ کی ضرورت کی چیزیں ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنے سایہ میں ٹھہرے رہو۔ پھر وہ چلے گئے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو آدمی چاہتا ہے کہ وہ کسی امانت دار، مضبوط آدمی کو دیکھے وہ ان کی طرف دیکھ لے۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ واپس ہماری طرف (سایہ میں) آئے اور سوچ و بچار میں مشغول ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2840]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون ذكر التشبيه بالتيس المستعار، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن جزمِ يحيى بن عبد الله بن بكير فيما نقله عنه أبو زرعة الرازي كما في "العلل" لابن أبي حاتم (1233) بأنَّ الليث لم يسمع هذا الحديث من مشرح، وأنه لم يرو عنه شيئًا، وأنَّ الليث حدثه ...» [ترقيم الرساله 2840] [ترقيم الشركة 2820] [ترقيم العلميه 2804]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره دون ذكر التشبيه بالتيس المستعار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2841
أخبرَنيهِ أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا أبو صالح، حدثنا الليث بن سعد، قال: سمعت مِشرَحَ بن هاعان يحدِّث عن عُقبة بن عامر، قال: قال رسول الله ﷺ:"ألا أُخبركم بالتَّيس المُستعار؟ هو المُحِلُّ"، ثم قال رسول الله ﷺ:"لَعَنَ الله المُحِلَّ والمُحلَّلَ له (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آدم علیہ السلام نے حج کیا تو ان سے فرشتے ملے اور انہوں نے کہا: اے آدم (علیہ السلام)! آپ کا حج قبول ہو گیا۔ ہم نے آپ سے دو ہزار سال پہلے حج کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2841]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره كسابقه، وما وقع من تصريح الليث هنا بسماعه من مِشْرح فيه نظر، لما قدّمنا بيانه في الطريق السابقة من نفي يحيى بن عبد الله بن بكير أن يكون الليث سمع من مشرح شيئًا وأنَّ الليث إنما حدثه بهذا الحديث عن سليمان بن عبد الرحمن مرسلًا، ويحيى هذا أوثق ...» [ترقيم الرساله 2841] [ترقيم الشركة 2821]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2842
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا أبو غسان محمد بن مُطرِّف المدني، عن عمر بن نافع، عن أبيه، أنه قال: جاء رجل إلى ابن عمر، فسأله عن رجل طلَّق امرأتَه ثلاثًا، فتزوجها أخٌ له عن غير مُؤامَرة منه، لِيُحلَّها لأخيه: هل تَحِلُّ للأول؟ قال: لا، إلّا نِكاحَ رَغبةٍ، كنا نَعُدُّ هذا سِفاحًا على عهد رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2806 - على شرط البخاري ومسلم
ابو صالح الحنفی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج جہاد ہے اور عمرہ نفلی عبادت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2842]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وجوَّد إسناده الإمام ابن تيمية كما في "الفتاوى الكبرى" 6/ 242.» [ترقيم الرساله 2842] [ترقيم الشركة 2822] [ترقيم العلميه 2806]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں