المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. الطَّلَاقُ بِمَا نَوَى بِهِ الْمُطَلِّقُ
طلاق نیت کے مطابق واقع ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2843
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا جرير بن حازم، عن الزُّبَير بن سعيد، عن عبد الله بن علي بن يزيد بن رُكَانة، عن جده (2) رُكانة بن عبد يَزيد: أنه طلَّق امرأتَه البَتّةَ على عهد النبيّ ﷺ، قال: فسألتُ النبيَّ ﷺ عن ذلك، فقال:"ما أردتَ بذلك؟" قال: أردتُ به واحدةً، قال:"آللهِ"، قال: آللهِ، قال:"فهو ما أردتَ" (3) . قد انحرف الشيخان عن الزُّبَير بن سعيد الهاشمي في"الصحيحين"، غير أنَّ لهذا الحديث متابعًا من بيت رُكانة بن عبد يَزيد المُطَّلبي، فيَصحُّ به الحديثُ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2807 - قد انحرف في الصحيحين عن الزبير بن سعيد لكن له متابعا يصح به الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2807 - قد انحرف في الصحيحين عن الزبير بن سعيد لكن له متابعا يصح به الحديث
سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ کے زمانے میں ” طلاق بتہ “ دی۔ وہ فرماتے ہیں: میں نے اس سلسلہ میں نبی اکرم سے مسئلہ دریافت کیا اور کہا: میرا یہ ارادہ نہیں تھا بلکہ میرا ارادہ صرف ایک طلاق کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم دلائی، میں نے قسم اٹھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ٹھیک ہے) جو تو نے ارادہ کیا تھا (وہی ہوا ہے)۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے زبیر بن سعید ہاشمی کی روایات صحیحین میں نقل نہیں کی ہیں۔ تاہم رکانہ بن عبد یزید کی بیٹی کے حوالے سے اس حدیث کی متابعت موجود ہے۔ اس بناء پر اس حدیث کو صحیح قرار دیا جا سکتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2843]
حدیث نمبر: 2844
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرني عَمِّي محمد بن علي بن شافِع [عن عبد الله بن علي بن السائب] (1) عن نافع بن عُجَير بن عبدِ يزيد: أنَّ رُكانةَ بن عبدِ يزيد طلَّق امرأتَه سُهَيمةَ البتّةَ، ثم أتى رسولَ الله ﷺ فقال: إني طلقتُ امرأتي سُهَيمة البتّةَ، ووالله ما أردتُ إلّا واحدةً، فردَّها إليه رسولُ الله ﷺ، فطلَّقها الثانيةَ في زمن عُمر، والثالثة في زمن عثمان (2) . قد صحَّ الحديثُ بهذه الرواية، فإنَّ الإمام الشافعي قد أتقنَه، وحفِظه عن أهل بيتِه، والسائبُ بن عبد يزيد أبو الشافِع بن السائب، وهو أخو رُكانة بن عبد يزيد، ومحمدُ بن علي بن شافع عمُّ الشافعي شيخُ قريش في عصره.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
نافع بن عجیر بن عبدیزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: رکانہ بن عبدیزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہیمہ کو ” طلاق بتہ “ دے دی، پھر وہ رسول اکرم کے پاس آئے اور بولے: میں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی ہے اور خدا کی قسم میرا ارادہ صرف ایک طلاق کا تھا تو رسول اللہ نے اس کی بیوی کو اس کی طرف لوٹا دیا۔ پھر انہوں نے دوسری طلاق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور تیسری طلاق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں دی۔ ٭٭ یہ حدیث اس روایت کے ہمراہ صحیح ہے کیونکہ امام شافعی نے اس پر اعتماد کیا ہے اور اس کو اہلِ بیت کے حوالے سے محفوظ کیا ہے اور سائب بن عبدیزید شافع بن سائب کے والد ہیں اور رکانہ بن عبدیزید کے بھائی ہیں اور محمد بن علی بن شافع شافعی کے چچا ہیں اور اپنے زمانے میں قریش کے شیخ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2844]