🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. مَسْأَلَةُ الظِّهَارِ وَحِكَايَةُ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ
ظہار کا مسئلہ اور سلمہ بن صخر کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2851
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سليمان بن يَسَار، عن سلمة بن صَخْر الأنصاري، قال: كنتُ امرَأً قد أُوتِيتُ من جِماع النساء ما لم يُؤتَ غَيري، فلما دخلَ رمضانُ ظاهرتُ من امرأتي مخافةَ أن أُصيبَ منها شيئًا في بعض الليل، وأتتَابَعَ (2) من ذلك، ولا أستطيع أن أَنزِعَ حتى يُدركَني الصبحُ، فبينا هي ذاتَ ليلة تَخدُمني إذ انكشفَ لي منها شيءٌ، فوَثَبتُ عليها، فلما أصبحتُ، غدَوتُ على قومي فأخبرتهم خَبَري، فقلتُ: انطلقوا معي إلى رسول الله ﷺ، فقالوا: لا والله لا نذهبُ معك، نَخافُ أن يَنزِلَ فينا قرآنٌ ويقولَ فينا رسولُ الله ﷺ مَقالةً يبقى علينا عارُها، فاذهب أنت فاصنَعْ ما بَدَا لك، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فأخبرتُه خَبَري، فقال:"أنت ذاكَ؟" فقلتُ: أنا ذاك، فاقضِ فِيَّ حكمَ الله، فإني صابِرٌ مُحتَسِبٌ، قال:"اعتِقْ رقَبةً"، فضربتُ صفحةَ عُنقِ رقَبتي بيدي، فقلت: والذي بعثكَ بالحقّ، ما أصبحتُ أملِكُ غيرَها، قال:"صُمْ شَهرَين متتابِعَين" فقلتُ: يا رسول الله، وهل أصابني ما أصابني إلّا في الصيام؟ قال:"فأطعِمْ ستين مِسكينًا" قلتُ: يا رسول الله، والذي بعثكَ بالحقّ، لقد بِتْنا ليلتَنا هذه وَحْشًا ما نجدُ عشاءً، قال:"انطلِقْ إلى صاحب الصدقة صدقةِ بني زُرَيق، فليدفَعْها لك، فأطعِمْ منها وَسْقًا ستين مسكينًا، واستعِنْ بسائرها على عيالِك"، فأتيتُ قومي، فقلت: وجدتُ عندكم الضّيقَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، غير أنه قال: سلمان بن صخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2815 - على شرط مسلم
سیدنا سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جسے عورتوں سے قربت کے معاملے میں (غیر معمولی قوت و اشتہا) دی گئی تھی جو کسی دوسرے کو نہیں ملی، پس جب رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا (یعنی اسے اپنی ماں کی پشت کے برابر قرار دے دیا) اس خوف سے کہ کہیں میں رات کے کسی حصے میں اس سے کچھ (قربت) نہ کر بیٹھوں اور پھر یہ سلسلہ جاری رہے یہاں تک کہ صبح ہو جائے اور میں خود کو روک نہ پاؤں۔ ایک رات کا واقعہ ہے کہ وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اس کا جسم مجھ پر ظاہر ہو گیا، تو میں (جذبات سے مغلوب ہو کر) اس پر ٹوٹ پڑا، جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس گیا اور انہیں اپنی خبر دی، میں نے کہا: میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں چلو۔ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم تمہارے ساتھ نہیں جائیں گے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے بارے میں قرآن نازل نہ ہو جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق ایسی بات نہ کہہ دیں جس کی عار ہم پر باقی رہ جائے، لہٰذا تم خود ہی جاؤ اور جو مناسب سمجھو کرو۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا قصہ سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم وہی شخص ہو؟ میں نے عرض کیا: میں وہی ہوں، پس مجھ پر اللہ کا حکم جاری فرمائیں، میں صبر کرنے والا اور اجر کی امید رکھنے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام آزاد کرو۔ میں نے اپنے ہاتھ سے اپنی گردن کے پچھلے حصے پر تھپکی دی اور عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں اس (اپنی جان) کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے یہ سب کچھ روزوں کی وجہ سے ہی پیش نہیں آیا (کہ میں نے روزے ٹوٹنے کے ڈر سے ظہار کیا اور پھر روزے میں ہی جذبات بے قابو ہوئے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! ہم نے یہ رات اس حال میں گزاری کہ ہمارے پاس رات کے کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو زریق کے صدقہ جمع کرنے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں صدقہ کا مال دے دے گا، تم اس میں سے ایک وسق (تقریباً 180 کلو غلہ) ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اور باقی سے اپنے اہل و عیال کی مدد کرو۔ پھر میں اپنی قوم کے پاس واپس آیا اور کہا: میں نے تمہارے پاس تنگی اور بزدلی پائی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وسعت اور برکت پائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد روایت یحییٰ بن ابی کثیر کی ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے، مگر اس میں انہوں نے (سلمہ کے بجائے) سلمان بن صخر کہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2851]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2851] [ترقيم الشركة 2831] [ترقيم العلميه 2815]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2852
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا هشام بن علي، حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا حرب بن شَدّاد، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، ومحمد بن عبد الرحمن بن ثوبان: أنَّ سلمان بن صَخْر الأنصاري جعل امرأتَه عليه كظَهْر أمّه، ثم ذكر الحديث بنحوه منه (1) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2816 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے روایت ہے کہ سیدنا سلمان بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا (یعنی اسے اپنی ماں کی پشت کے برابر قرار دے دیا)، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث (کفارے سے متعلق) ذکر کی۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2852]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة محمد بن إسحاق، وجزم البخاري - فيما نقله عنه الترمذي - بأنَّ سليمان بن يسار لم يدرك سلمة بن صخر، ومع ذلك فقد حسّن الحديثَ من هذه الطريق الترمذيُّ وصحّحه ابن خُزيمة (2378)، وحسَّن إسنادَه الحافظُ ابن حجر في "الفتح" 16/ 198.» [ترقيم الرساله 2852] [ترقيم الشركة 2832] [ترقيم العلميه 2816]

الحكم على الحديث: صحيح بطرقه وشاهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2853
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا حفص بن عمر العَدَني، حدثنا الحَكَم بن أبان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ، وقد ظاهَرَ من امرأته فوقَعَ عليها، فقال: يا رسول الله، إني ظاهَرتُ من امرأتي فوقعتُ عليها مِن قبلِ أن أُكفِّر، قال:"وما حَمَلَك على ذلك يَرحمُك اللهُ؟"، قال: رأيتُ خَلْخالَها في ضَوْء القمر، قال:"فلا تَقْربُها حتى تفعلَ ما أَمر الله" (1) . شاهدُه حديث إسماعيل بن مسلم عن عمرو بن دينار، ولم يحتجَّ الشيخان بإسماعيل ولا بالحَكَم بن أبان إلّا أنَّ الحكم بن أبان صَدُوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2817 - العدني غير ثقة
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا جس نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا تھا لیکن کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اس سے ہمبستری کر لی، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا مگر کفارہ سے قبل ہی اس سے قربت کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تم پر رحم فرمائے، تمہیں اس پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے عرض کیا: میں نے چاند کی روشنی میں اس کی پازیب (خَلْخَال) دیکھ لی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس اس وقت تک اس کے قریب نہ جانا جب تک تم وہ (کفارہ) ادا نہ کر دو جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
اس کی شاہد روایت اسماعیل بن مسلم کی عمرو بن دینار سے مروی حدیث ہے، اگرچہ شیخین نے اسماعیل اور حکم بن ابان سے احتجاج نہیں کیا مگر حکم بن ابان صدوق راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2853]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف حفص بن عمر العَدَني كما قال الذهبي في "تلخيصه"، لكنه قد توبع، وقد اختُلف في وصل هذا الحديث وإرساله، وقد صحَّح وصله الترمذي وابن الجارود وابن حزم والضياء وغيرهم، وحسَّنه الحافظ في "الفتح" 16/ 198، ورجح أبو حاتم والنسائي إرسالَه، لكن يشهد له ...» [ترقيم الرساله 2853] [ترقيم الشركة 2833] [ترقيم العلميه 2817]

الحكم على الحديث: صحيح بطرقه وشاهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2854
حدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا عمار بن خالد ومحمد بن معاوية، قالا: حدثنا علي بن هاشم حدثنا إسماعيل بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن طاووس، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا ظاهَرَ من امرأته، فرأى خَلْخالَها في ضَوْء القمر، فأعجبَه فوَقَع عليها، فأتى النبيَّ ﷺ، فذكر ذلك له، فقال:"قال الله ﷿: ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ [المجادلة: 3] "، فقال: قد كان ذلك، فقال رسول الله ﷺ:"أمسِكْ حتى تُكفِّرَ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2818 - إسماعيل واه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، پھر چاندنی رات میں اس کی پازیب دیکھی تو وہ اسے بھلی لگی اور اس نے اس سے ہمبستری کر لی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سارا معاملہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ اس سے پہلے کہ وہ ایک دوسرے کو چھوئیں [سورة المجادلة: 3] ، اس نے عرض کیا: (مجھ سے ہمبستری) ہو گئی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب (دوبارہ قربت سے) رکے رہو جب تک تم کفارہ ادا نہ کر دو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2854]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشاهده كسابقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم - وهو المكي - فهو ضعيف كما أشار إليه الذهبي في "تلخيصه"، وقد تقدم قبله من طريق أخرى عن ابن عباس، لكنه اختُلف فيها في الوصل والإرسال كما بيَّنّاه هناك، والحكم بوصله بجملة طرقه غير مستبعد.» [ترقيم الرساله 2854] [ترقيم الشركة 2834] [ترقيم العلميه 2818]

الحكم على الحديث: صحيح بطرقه وشاهده كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں