المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. مَسْأَلَةُ الظِّهَارِ وَحِكَايَةُ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ
ظہار کا مسئلہ اور سلمہ بن صخر کا واقعہ
حدیث نمبر: 2851
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سليمان بن يَسَار، عن سلمة بن صَخْر الأنصاري، قال: كنتُ امرَأً قد أُوتِيتُ من جِماع النساء ما لم يُؤتَ غَيري، فلما دخلَ رمضانُ ظاهرتُ من امرأتي مخافةَ أن أُصيبَ منها شيئًا في بعض الليل، وأتتَابَعَ (2) من ذلك، ولا أستطيع أن أَنزِعَ حتى يُدركَني الصبحُ، فبينا هي ذاتَ ليلة تَخدُمني إذ انكشفَ لي منها شيءٌ، فوَثَبتُ عليها، فلما أصبحتُ، غدَوتُ على قومي فأخبرتهم خَبَري، فقلتُ: انطلقوا معي إلى رسول الله ﷺ، فقالوا: لا والله لا نذهبُ معك، نَخافُ أن يَنزِلَ فينا قرآنٌ ويقولَ فينا رسولُ الله ﷺ مَقالةً يبقى علينا عارُها، فاذهب أنت فاصنَعْ ما بَدَا لك، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فأخبرتُه خَبَري، فقال:"أنت ذاكَ؟" فقلتُ: أنا ذاك، فاقضِ فِيَّ حكمَ الله، فإني صابِرٌ مُحتَسِبٌ، قال:"اعتِقْ رقَبةً"، فضربتُ صفحةَ عُنقِ رقَبتي بيدي، فقلت: والذي بعثكَ بالحقّ، ما أصبحتُ أملِكُ غيرَها، قال:"صُمْ شَهرَين متتابِعَين" فقلتُ: يا رسول الله، وهل أصابني ما أصابني إلّا في الصيام؟ قال:"فأطعِمْ ستين مِسكينًا" قلتُ: يا رسول الله، والذي بعثكَ بالحقّ، لقد بِتْنا ليلتَنا هذه وَحْشًا ما نجدُ عشاءً، قال:"انطلِقْ إلى صاحب الصدقة صدقةِ بني زُرَيق، فليدفَعْها لك، فأطعِمْ منها وَسْقًا ستين مسكينًا، واستعِنْ بسائرها على عيالِك"، فأتيتُ قومي، فقلت: وجدتُ عندكم الضّيقَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، غير أنه قال: سلمان بن صخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2815 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، غير أنه قال: سلمان بن صخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2815 - على شرط مسلم
سیدنا سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے عام لوگوں کی بہ نسبت کچھ غیرمعمولی قوت جماع حاصل تھی، اس لیے جب رمضان المبارک آتا تو میں اپنی بیوی سے ظہار کر لیتا تاکہ کہیں رمضان کی رات میں، میں ہمبستری کا مرتکب نہ ہو جاؤں اور یہ عمل میں مسلسل کیا کرتا تھا اور میں صبح ہونے تک اس سے باز رہنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ ایک مرتبہ رات کے وقت میری بیوی میری خدمت کر رہی تھی کہ اس کے جسم کے ایک حصہ پر میری نظر پڑی (پھر مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور) میں نے اس کے ساتھ جماع کر لیا، جب دن چڑھا تو میں نے اپنی قوم کو یہ ماجرا سنایا اور کہا کہ میرے ہمراہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو تو وہ لوگ بولے: خدا کی قسم! ہم تیرے ساتھ نہیں جائیں گے کیونکہ ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ہمارے متعلق قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق کوئی ایسی بات کہہ دیں جو ہمارے لیے رہتی دنیا تک شرمندگی کا باعث رہے۔ اس لیے تو اکیلا چلا جا اور جو تجھے سمجھ میں آئے وہ کر۔ چنانچہ میں وہاں سے چلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آ گیا اور اپنا تمام ماجرا کہہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: وہ تم ہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ میں ہی ہوں۔ آپ میرے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ صادر فرمایئے۔ میں ثواب کی نیت رکھتا ہوں اور صبر کرنے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم ایک غلام آزاد کرو، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھتے ہوئے عرض کی: یا رسول اللہ آج تو میری ملکیت میں اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! روزہ کی حالت میں ہی تو مجھ سے یہ خطا ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو 60 مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے آج رات ہمارے پاس رات کا کھانا تک نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں صدقہ کے ذمہ دار کے پاس چلا جا، اس کے پاس بنی زریق کا صدقہ (کا مال) موجود ہے (اس کو کہنا کہ) وہ تجھے دے دے۔ اس میں سے ایک وسق 60 مسکینوں کو کھلا دینا اور بقیہ جتنا بھی ہو وہ اپنے اہل و عیال کے لیے لے جانا۔ پھر میں اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے کہا: میں نے تمہارے اندر تنگ (نظری) پائی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ مذکورہ حدیث کی درج ذیل شاہد حدیث موجود ہے جو کہ یحیی بن ابی کثیر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے تاہم انہوں نے ان کا نام سلمان بن صخر کہا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2851]
حدیث نمبر: 2852
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا هشام بن علي، حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا حرب بن شَدّاد، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، ومحمد بن عبد الرحمن بن ثوبان: أنَّ سلمان بن صَخْر الأنصاري جعل امرأتَه عليه كظَهْر أمّه، ثم ذكر الحديث بنحوه منه (1) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2816 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2816 - على شرط البخاري ومسلم
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سلمان بن صخرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کے ساتھ ظہار کیا پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2852]
حدیث نمبر: 2853
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا حفص بن عمر العَدَني، حدثنا الحَكَم بن أبان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ، وقد ظاهَرَ من امرأته فوقَعَ عليها، فقال: يا رسول الله، إني ظاهَرتُ من امرأتي فوقعتُ عليها مِن قبلِ أن أُكفِّر، قال:"وما حَمَلَك على ذلك يَرحمُك اللهُ؟"، قال: رأيتُ خَلْخالَها في ضَوْء القمر، قال:"فلا تَقْربُها حتى تفعلَ ما أَمر الله" (1) . شاهدُه حديث إسماعيل بن مسلم عن عمرو بن دينار، ولم يحتجَّ الشيخان بإسماعيل ولا بالحَكَم بن أبان إلّا أنَّ الحكم بن أبان صَدُوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2817 - العدني غير ثقة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2817 - العدني غير ثقة
(سیدنا عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن اس کے ساتھ جماع کر بیٹھا تھا اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ظہار کیا تھا لیکن کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی میں اس کے ساتھ جماع کر بیٹھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تجھ پر رحم کرے، تجھے اس بات پر کس نے اُبھارا تھا؟ اس نے کہا: چاند کی چاندنی میں میری نظر اس کے باریک کپڑوں پر پڑ گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ اس وقت تک اس کے قریب مت جانا جب تک کفارہ ادا نہ کر دے۔ ٭٭ اسماعیل بن مسلم کی عمرو بن دینار سے روایت کردہ (درج ذیل) حدیث اس کی شاہد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسماعیل اور حکم بن ابان کی روایات نقل نہیں کیں جبکہ حکم بن ابان ” صدوق “ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2853]
حدیث نمبر: 2854
حدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا عمار بن خالد ومحمد بن معاوية، قالا: حدثنا علي بن هاشم حدثنا إسماعيل بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن طاووس، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا ظاهَرَ من امرأته، فرأى خَلْخالَها في ضَوْء القمر، فأعجبَه فوَقَع عليها، فأتى النبيَّ ﷺ، فذكر ذلك له، فقال:"قال الله ﷿: ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ [المجادلة: 3] "، فقال: قد كان ذلك، فقال رسول الله ﷺ:"أمسِكْ حتى تُكفِّرَ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2818 - إسماعيل واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2818 - إسماعيل واه
(سیدنا عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، پھر (دوران ظہار ایک دفعہ) چاند کی چاندنی میں اس کی نظر اس کے باریک کپڑوں پر پڑ گئی جس کی وجہ سے وہ اس کو بہت اچھی لگی اور اس نے اس کے ساتھ ہمبستری کر لی۔ بعد میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس معاملہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا) ” قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں “ اس نے کہا: اب تو ہو چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کفارہ ادا ہونے تک اپنے پر کنٹرول رکھو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2854]