المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ
ابنِ آدم اس چیز کی نذر نہیں مان سکتا جس کا وہ مالک نہیں
حدیث نمبر: 2856
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا حسين المعلّم، عن عمرو بن شعيب. وحدثنا عليٌّ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو بن عَون، حدثنا هُشَيم، حدثنا عامر الأحول، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: قال رسول الله ﷺ:"لا طلاقَ قبل نِكاح"، وفي حديث هُشَيم:"لا نَذْرَ لابن آدمَ فيما لا يَملِكُ، ولا طلاقَ فيما لا يَملِكُ، ولا عَتاقَ فيما لا يَملِك" (1) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں ہے“، اور ہشیم کی روایت میں ہے: ”ابن آدم کی کوئی نذر اس چیز میں معتبر نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو، نہ اس چیز میں طلاق ہے جس کا وہ مالک نہ ہو اور نہ ہی اس چیز میں آزادی ہے جس کا وہ مالک نہ ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2856]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. حسين المعلم: هو ابن ذكوان، وعامر الأحول: هو ابن عبد الواحد، وهُشيم: هو ابن بَشير.» [ترقيم الرساله 2856] [ترقيم الشركة 2836]
الحكم على الحديث: إسناده حسن. حسين المعلم: هو ابن ذكوان
حدیث نمبر: 2857
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا علي بن الحَسَن (2) بن شَقيق، أخبرنا الحسين بن واقِد وأبو حمزة جميعًا، عن يزيد النَّحْويّ، عن عِكرمة، عن ابن عباس قال: ما قالها ابنُ مسعود، وإن يكن قالها فزَلَّةٌ من عالِم؛ في الرجل يقول: إن تزوّجتُ فلانةَ فهي طالِق، قال الله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ﴾ [الأحزاب: 49] ، ولم يقُل: إذا طَلّقتم المؤمناتِ ثم نَكحتُموهن (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2821 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2821 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے اس شخص کے بارے میں جو یہ کہے کہ ”اگر میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اسے طلاق ہے“، فرمایا: ”یہ بات ابن مسعود نے نہیں کہی ہوگی، اور اگر انہوں نے کہی ہے تو یہ ایک عالم کی لغزش ہے (یعنی وہ عورت طلاق نہیں ہوگی)، کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ﴾ [سورة الأحزاب: 49] ”اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو، پھر انہیں طلاق دو“، اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ ”جب تم مومن عورتوں کو طلاق دو، پھر ان سے نکاح کرو“۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2857]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2857]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أبو حمزة: هو محمد بن ميمون السُّكّري، ويزيد النَّحْوي: هو ابن أبي سعيد.» [ترقيم الرساله 2857] [ترقيم الشركة 2838] [ترقيم العلميه 2821]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح