المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. طَلَاقُ الْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَقَرْؤُهَا حَيْضَتَانِ
لونڈی کی طلاق دو ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہیں
حدیث نمبر: 2858
حدثنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا أبو بكر محمد بن سليمان الواسطي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا ابن جُرَيج، عن مُظاهِر بن أسلم، عن القاسم، عن عائشة، عن النبي ﷺ، قال:"طَلاقُ الأَمَة تطليقتان وقُرْؤُها حَيضتانِ". قال أبو عاصم: فذكرتُه لِمُظاهر بن أسلم، فقلت: حدِّثْني كما حدثتَ ابنَ جُرَيج، فحدَّثَني مُظاهِر، عن القاسم، عن عائشة، عن النبي ﷺ قال:"طَلاقُ الأَمَة تطليقتان، وقُرؤُها حَيضتان"، مثلَ ما حدّثَه (1) . مُظاهِر بن أسلم شيخٌ من أهل البصرة، لم يذكره أحدٌ من مُقَدَّمي مشايخنا بجَرْح، فإذًا الحديثُ صحيح، ولم يُخرجاه. وقد روي عن ابن عباس حديث يُعارضه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2822 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2822 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لونڈی کی طلاق دو مرتبہ ہے اور اس کی عدت دو حیض ہے۔“ ابوعاصم کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر مظاہر بن اسلم سے کیا اور کہا: ”مجھے ویسے ہی حدیث سنائیں جیسے آپ نے ابن جریج کو سنائی“، تو انہوں نے مجھے بھی اسی طرح سیدہ عائشہ کے واسطے سے سنائی۔
مظاہر بن اسلم بصرہ کے بزرگ ہیں جن پر کسی جلیل القدر محدث نے جرح نہیں کی، لہٰذا یہ حدیث صحیح ہے مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ابن عباس سے ایک ایسی حدیث مروی ہے جو اس کے بظاہر معارض ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2858]
مظاہر بن اسلم بصرہ کے بزرگ ہیں جن پر کسی جلیل القدر محدث نے جرح نہیں کی، لہٰذا یہ حدیث صحیح ہے مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ابن عباس سے ایک ایسی حدیث مروی ہے جو اس کے بظاہر معارض ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2858]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف مُظاهِر بن أسلم، وقد وهم في هذا الحديث بذكر عائشة ورفعِه،- والصحيح أنه من قول القاسم - وهو ابن محمد بن أبي بكر الصدّيق - كما جزم به البخاري في "التاريخ الأوسط" 3/ 559، والدارقطني في "العلل" (3885)، والبيهقي في "الكبرى" 7/ 426، بل قال القاسم في رواية عنه - عند الدارقطني والبيهقي - وسئل: أبلغك عن النبي ﷺ في هذا؟ فقال: لا.»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف مُظاهِر بن أسلم
حدیث نمبر: 2859
أخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا علي بن المبارك، حدثني يحيى بن أبي كثير، أنَّ عُمر (1) بن مُعتِّب، أخبره، أنَّ أبا حسن مولى بني نَوفَل أخبره: أنه استفتَى ابنَ عباس في مملوك كانت تحتَه مملوكةٌ فطلّقَها تطليقتين، ثم أُعتقا بعد ذلك، هل يَصلُحُ له أن يَخطُبَها، قال: نعم، قَضَى بذلك رسولُ الله ﷺ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2823 - يعارضه حديث علي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2823 - يعارضه حديث علي
ابوحسن (بنو نوفل کے مولیٰ) سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں ایک لونڈی تھی، اس نے اسے دو طلاقیں دیں، پھر اس کے بعد وہ دونوں آزاد ہو گئے، کیا اب وہ (دوبارہ) اسے نکاح کا پیغام دے سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2859]
حدیث نمبر: 2860
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، قال: قلت لأيوب: هل تعلمُ أحدًا قال بقول الحسن في"أمرُكِ بيدِكِ" أنه ثلاث؟ فقال: لا، إلّا شيء حدّثَنا به قَتَادة، عن كثيرٍ مولى عبد الرحمن بن سَمُرة، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، بنحوه (3) . قال أيوب: فقدم علينا كثيرٌ فسألتُه، فقال: ما حدَّثْتُ بهذا قَطُّ، فذكرتُه لقَتَادة، فقال: بلى، ولكن قد نَسِيَ.
هذا حديث غريب صحيح من حديث أيوب السَّختِياني، وقد ذكرتُ في باب النكاح بغير وليٍّ أساميَ جماعةٍ من ثقات المحدّثين من الصحابة والتابعين وأتباعِهم حدَّثوا بالحديث ثم نَسُوه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2824 - صحيح غريب
هذا حديث غريب صحيح من حديث أيوب السَّختِياني، وقد ذكرتُ في باب النكاح بغير وليٍّ أساميَ جماعةٍ من ثقات المحدّثين من الصحابة والتابعين وأتباعِهم حدَّثوا بالحديث ثم نَسُوه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2824 - صحيح غريب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عورت کو یہ کہہ دیا جائے کہ ”تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے ( «امرك بيدك»)“ تو اس سے (تین) طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔ ایوب کہتے ہیں کہ جب کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ”میں نے یہ حدیث کبھی بیان نہیں کی“، میں نے یہ بات قتادہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں (انہوں نے بیان کی تھی) مگر وہ اب بھول گئے ہیں۔“
یہ ایوب سختیانی کی روایت سے ایک غریب اور صحیح حدیث ہے، اور میں نے کتاب النکاح میں ”بغیر ولی کے نکاح“ کے باب میں ایسے ثقہ محدثین، صحابہ اور تابعین کے ناموں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے حدیث بیان کی اور پھر اسے بھول گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2860]
یہ ایوب سختیانی کی روایت سے ایک غریب اور صحیح حدیث ہے، اور میں نے کتاب النکاح میں ”بغیر ولی کے نکاح“ کے باب میں ایسے ثقہ محدثین، صحابہ اور تابعین کے ناموں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے حدیث بیان کی اور پھر اسے بھول گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2860]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير كثير مولى عبد الرحمن: وهو ابن أبي كثير البصري، روى عنه جمع، ووثقه العجلي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد انفردَ بهذا الحديث، وقد أعلّه البخاري بالوقف فيما نقله عنه الترمذي في "الجامع"، وفي "العلل الكبير" (300)، إذ رواه البخاري عن سليمان بن حرب موقوفًا، وأعلَّه النسائي في "المجتبى" (3410) بالنكارة.»
الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير كثير مولى عبد الرحمن: وهو ابن أبي كثير البصري