🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. عِدَّةُ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
حاملہ بیوہ کی عدت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2870
أخبرني أبو حفص أحمد بن أَحْيَد الفقيه ببُخارَى من أصل كتابه، حدثنا أبو علي صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا علي بن حكيم الأَوْدي، حدثنا شَريك، عن إبراهيم بن مهاجر، عن مصعب بن عامر، عن عائشة، أنها قالت: طُلِّقَتِ امرأةٌ فَمَكَثَت ثلاثًا وعشرين ليلةً، فوَضَعتْ حَمْلَها، ثم أتتِ النبيَّ ﷺ فَذَكَرَت ذلك له، فقال لها:"تَزوّجي" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في ذي القَعْدة سنة ثمانٍ وتسعين وثلاثِ مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2834 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک عورت کو طلاق دے دی گئی، وہ 23 راتیں عدت بیٹھی تھی کہ اس کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس معاملہ کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم نکاح کر سکتی ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2870]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2871
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، قال: حدثنا هاشم بن يونس العَصّار بمصر، حدثنا علي بن مَعبَد، حدثنا أبو المَلِيح الرَّقِّي، حدثني عبد الملك بن أبي القاسم، عن أم كُلْثوم بنت عُقبة: أنها كانت تحت الزُّبَير بن العوام فكرهتْه، وكان شديدًا على النساء، فقالت للزُّبير: يا أبا عبد الله، رَوِّحْني بتطليقةٍ، قالت: وذلك حين وجدْتُ الطَّلْق، قال: وما يَنفعُكِ أن أُطلِّقَكِ تطليقةً واحدةً ثم أُراجعَك؟ قالت: إني أجدُني أستَرْوِحُ إلى ذلك، قال: فطلَّقها تطليقةً واحدةً، ثم خرج، فقالت لجاريتها: غَلِّقي الأبواب، قال: فوَضَعَتْ جاريةً، قال: فأُتي الزُّبَير فبُشِّر بها، فقال: مَكَرَت بي ابنةُ أبي مُعَيط، ثم خرج إلى رسول الله ﷺ فذكر ذلك له، فأبانَها منه (1) .
هذا حديث غريب صحيح الإسناد. وأبو المَلِيح وإن لم يخرجاه، فغير متَّهم بالوَضْع (2) ، فإنه إمام أهل الجزيرة في عصره، وأم كُلثوم هي ابنة عُقبة بن أبي مُعَيط، وهي التي يروي عنها ابنُها حميد بن عبد الرحمن عن رسول الله ﷺ:"ليس بالكذاب الذي يُصلِح بين الناس" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2835 - صحيح غريب
اُم کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ وہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، وہ ان کو ناپسند کرتی تھیں اور زبیر عورتوں پر بڑے سخت تھے۔ اُم کلثوم نے زبیر سے کہا: اے ابوعبداللہ! تم مجھے ایک طلاق دے کر راحت دے دو (اُم کلثوم) کہتی ہیں: اس وقت میں دردزہ محسوس کر رہی تھی۔ زبیر نے کہا: اگر میں تجھے ایک طلاق دے دوں تو اس کا تجھے کیا فائدہ ہو گا؟ کیونکہ اس کے بعد میں تجھ سے رجوع کر لوں گا۔ اُم کلثوم نے کہا: میرا خیال ہے کہ مجھے اس سے کچھ آرام مل جائے گا۔ زبیر نے اس کو ایک طلاق دی اور گھر سے چلا گیا۔ ام کلثوم نے اپنی لونڈی سے کہا: تمام دروازے بند کر دو۔ کچھ ہی دیر میں اس کے ہاں ایک بچی پیدا ہو گئی۔ پھر زبیر گھر آئے تو ان کو بچی کی پیدائش کی خبر سنائی گئی۔ تو وہ بولے: ابومعیط کی بیٹی نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا آیا اور تمام معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اس سے علیحدہ کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث غریب صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اگرچہ ابوالملیح کی روایات نقل نہیں کی ہیں جبکہ ان پر وضع حدیث کی تہمت نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے زمانے میں اہلِ جزیرہ کے امام ہیں اور ام کلثوم عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ہے۔ یہ وہی خاتون ہیں جن کے حوالے سے ان کے بیٹے حمید بن عبدالرحمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان روایت کرتے ہیں: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2871]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں