المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي بَيْتِ زَوْجِهَا
شوہر کے انتقال کے بعد عدت شوہر کے گھر میں گزارنا
حدیث نمبر: 2868
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا أبو النعمان محمد بن الفضل وسليمان بن حَرْب، قالا: حدثنا حماد بن زيد، حدثنا إسحاق بن سعد بن كعب بن عُجْرة، حدثَتْني زينبُ بنت كعب، عن فُرَيعة بنت مالك: أنَّ زوجها خَرَجَ في طلب أعلاج له، فقُتل بطَرَف القَدُّوم - قال حماد: وهو موضعُ ماء - قالت: فأتيتُ النبي ﷺ فذكرتُ ذلك له من حالي، وذكرت النُّقلةَ إلى إخوتي، قالت: فرخَّص لي، فلما تجاوزتُ ناداني، فقال:"امكُثي في بيتِك حتى يبلُغَ الكتابُ أجلَه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2832 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2832 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کا شوہر اپنے کچھ بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلا اور مقامِ قدوم پر قتل کر دیا گیا، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اپنی صورتحال بتائی اور اپنے بھائیوں کے گھر منتقل ہونے کی اجازت چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اجازت دے دی لیکن جب میں پلٹنے لگی تو مجھے پکارا اور فرمایا: ”اپنے (شوہر کے) گھر میں ہی قیام کرو یہاں تک کہ مقررہ عدت پوری ہو جائے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2868]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، زينب بنت كعب - وهو ابن عُجْرة - روى عنها ابنا أخويها سعد بن إسحاق - وليس إسحاق بن سعد كما سُمِّي في رواية حماد بن زيد عند المصنف هنا، على أنَّ الذُّهلي جعلهما اثنين، كما سينقله المصنف - وسليمان بن محمد، وهما ثقتان، وذكرها ابن حبان في "الثقات"، وصحَّح حديثها، واحتجَّ بها مالك والشافعي، كما صحَّح حديثها الذُّهلي والترمذي وابن عبد البر والذهبي وابن القطان وغيرهم.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2869
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، أنَّ سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة أخبره، أنَّ عمته زينب بنت كعب بن عُجْرة أخبرته، أنها سمعت فُريعة بنت مالك أختَ أبي سعيد الخُدْري قالت: خرج زَوجي في طلب أعبُدٍ له فأدركهم بطَرَف القَدوم فقتلوه، فأتاني نَعْيُه وأنا في دارٍ شاسعةٍ من دُور أهلي، فأتيتُ رسول الله ﷺ فقلت: إنه أتاني نَعْيُ زوجي، وأنا في دارٍ شاسعةٍ من دُور أهلي، ولم يَدَعْ لي نفقةً ولا مالًا، وليس المسكنُ لي، ولو تحوّلْتُ إلى إخوتي وأهلي كان أرفَقَ بي في بعض شأني، فقال:"تَحوّلي"، فلما خرجتُ إلى المسجد - أو (1) الحُجرة - دعاني - أو أُمِر بي فدُعِيتُ له - فقال:"امكُثي في البيت الذي أتاكِ فيه نَعْيُ زوجِك، حتى يَبلُغَ الكتابُ أجلَه"، فاعتددتُ فيه أربعةَ أشهرٍ وعشرًا. قالت: فأرسل عثمانُ بن عفّان، فأتيتُه فحدَّثتُه فأخذَ به (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد من الوجهين جميعًا، ولم يُخرجاه. رواه مالك بن أنس في"الموطَّأ" (1) عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة. قال محمد بن يحيى الذُّهْلي:
هذا حديث صحيح محفُوظ، وهما اثنان سعد بن إسحاق، وهو أشهرُهما، وإسحاق بن سعد بن كعب (2) ، وقد روى عنهما جميعًا يحيى بن سعيد الأنصاري، فقد ارتفعت عنهما جميعًا الجهالةُ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2833 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد من الوجهين جميعًا، ولم يُخرجاه. رواه مالك بن أنس في"الموطَّأ" (1) عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة. قال محمد بن يحيى الذُّهْلي:
هذا حديث صحيح محفُوظ، وهما اثنان سعد بن إسحاق، وهو أشهرُهما، وإسحاق بن سعد بن كعب (2) ، وقد روى عنهما جميعًا يحيى بن سعيد الأنصاري، فقد ارتفعت عنهما جميعًا الجهالةُ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2833 - صحيح
سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا (جو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں) سے روایت ہے کہ میرے شوہر اپنے چند بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلے اور مقامِ قدوم کے ایک کنارے پر انہیں پا لیا تو ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا۔ ان کی وفات کی خبر مجھے اس وقت ملی جب میں اپنے میکے کے گھروں سے دور ایک مکان میں مقیم تھی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ مجھے شوہر کی وفات کی خبر ملی ہے جبکہ میں اپنے خاندان کے گھروں سے دور ایک مکان میں ہوں، اور شوہر نے میرے لیے نہ کوئی نفقہ (خرچہ) چھوڑا ہے، نہ مال، اور نہ ہی یہ رہائشی مکان میرا اپنا ہے، اگر میں اپنے بھائیوں اور خاندان والوں کے پاس منتقل ہو جاؤں تو میرے بعض معاملات میں میرے لیے زیادہ آسانی ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منتقل ہو جاؤ۔“ پھر جب میں مسجد یا حجرہ مبارک تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا (یا مجھے بلانے کا حکم دیا) اور فرمایا: ”اسی گھر میں ٹھہری رہو جہاں تمہیں اپنے شوہر کی وفات کی خبر ملی ہے، یہاں تک کہ لکھی ہوئی مدت (عدت) پوری ہو جائے۔“ چنانچہ میں نے وہیں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے (اپنی خلافت میں) مجھے بلا بھیجا، میں نے انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اسی پر عمل کیا۔
یہ حدیث دونوں سندوں سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام مالک بن انس نے اسے موطا میں سعد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔ امام محمد بن یحییٰ ذہلی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح اور محفوظ ہے، اور سعد بن اسحاق اور اسحاق بن سعد دو الگ راوی ہیں جن میں سے سعد زیادہ مشہور ہیں، اور ان دونوں سے یحییٰ بن سعید انصاری نے روایت کی ہے، جس سے ان دونوں کی جہالت ختم ہو جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2869]
یہ حدیث دونوں سندوں سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام مالک بن انس نے اسے موطا میں سعد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔ امام محمد بن یحییٰ ذہلی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح اور محفوظ ہے، اور سعد بن اسحاق اور اسحاق بن سعد دو الگ راوی ہیں جن میں سے سعد زیادہ مشہور ہیں، اور ان دونوں سے یحییٰ بن سعید انصاری نے روایت کی ہے، جس سے ان دونوں کی جہالت ختم ہو جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2869]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح كسابقه، يحيى بن سعيد: هو الأنصاري.- وأخرجه أحمد 45/ (27087)، والترمذي بإثر (1204)، والنسائي (5692) من طريق عبد الله بن إدريس، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، بهذا الإسناد.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح كسابقه