المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا
امِ ولد کی عدت جب اس کا آقا فوت ہو جائے
حدیث نمبر: 2872
حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم الحِيْري، حدثنا محمد بن عمرو بن النضر الحَرَشي، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة، حدثني عبد الأعلى، حدثنا سعيد، عن مَطَر، عن رجاء بن حَيْوة، عن قَبِيصة بن ذُؤيب، عن عمرو بن العاص، قال: لا تَلبِسُوا علينا سنّةَ نبينا محمد ﷺ في أمِّ الولد، إذا توفي عنها سيِّدُها عدّتُها ﴿أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2836 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2836 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:” ام ولد “ کے حوالے سے ہم پر ہمارے نبی کی سنت کو خلط ملط مت کرو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ ہے کہ) جب ام ولد کا آقا فوت ہو جائے تو اس کی عدت 4 ماہ اور دس دن ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2872]
حدیث نمبر: 2873
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا بشر بن بكر التِّنِّيسي، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن سُلَيم بن عامر الكَلَاعي، حدثني أبو أُمامة الباهِلي، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"بَيْنا أنا نائمٌ، إذ أتاني رجلان فأخَذا بضَبْعَيَّ، فأتَيا بي جبَلًا وَعْرًا، فقالا لي: اصعَدْ، فقلت: إني لا أُطيق، فقالا: إنا سنُسهِّله لك، فصَعَّدْتُ حتى كنتُ في سَواءِ الجَبَل إذا أنا بأصواتٍ شديدةٍ، فقلت: ما هذه الأصوات؟ قالوا: هذا عُواءُ أهل النار، ثم انطُلِق بي، فإذا بقوم مُعلَّقين بعَراقيبهم، مُشقَّقةٍ أَشْداقُهم تَسيلُ أشداقُهم دمًا، قلت: ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء الذين يُفطِرون قبل تَحِلّةِ صومِهم، ثم انطُلِق بي، فإذا بقومٍ أشدَّ شيءٍ انتفاخًا وأنتَنَه ريحًا، وأسوأَه منظرًا، فقلت: من هؤلاء؟ قال: هؤلاء الزانُون والزَّواني، ثم انطُلِق بي، فإذا أنا بنساءٍ يَنهَشنَ ثُدِيَّهن الحيّاتُ، فقال: ما بالُ هؤلاء؟ فقال: هؤلاء اللواتي يَمنَعنَ أولادهن ألبانَهُنَّ، ثم انطُلِق بي، فإذا أنا بغلمانٍ يَلعبُون بين نهرَين، فقلت: من هؤلاء؟ قالوا: هؤلاء ذَرَاريُّ المؤمنين، ثم شَرَفَ لي شَرَفٌ، فإذا أنا بثلاثة نَفَرٍ يَشربُون من خمْرٍ لهم، قلت: من هؤلاء؟ قالوا: هؤلاء جعفرُ بن أبي طالب وزيدٌ وابنُ رَوَاحةَ، ثم شَرَفَ لي شَرَفٌ آخرُ، فإذا أنا بثلاثةِ نفرٍ، قلت: من هؤلاء؟ قال: هذا إبراهيمُ وموسى وعيسى، وهم ينتظرونَك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ البخاري بجميع رُواته غير سُلَيم بن عامر، وقد احتجَّ به مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2837 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ البخاري بجميع رُواته غير سُلَيم بن عامر، وقد احتجَّ به مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2837 - على شرط مسلم
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑا اور ایک دشوار گزار پہاڑ پر لے گئے اور کہنے لگے: اس پر چڑھیئے! میں نے کہا: میرے اندر اس پر چڑھنے کی ہمت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اس پر چڑھنا ہم آپ کے لیے آسان کر دیں گے۔ پھر میں اس پر چڑھا جب میں پہاڑ کے برابر پہنچا تو میں نے بہت شدید آوازیں سنیں۔ میں نے پوچھا: یہ آوازیں کیسی ہیں؟ تو انہوں نے جواباً کہا: یہ جہنمیوں کی آوازیں ہیں، پھر مجھے مزید آگے لے جایا گیا، وہاں پر میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جنہیں اُلٹا لٹکایا گیا تھا، ان کے جبڑے پھاڑے ہوئے تھے اور ان سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ لوگ ہیں جو غروب آفتاب سے پہلے ہی روزہ افطار کر لیا کرتے تھے۔ وہ پھر مجھے مزید آگے لے گئے تو میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان سے زیادہ کبھی کسی کا جسم نہیں پھولا ہو گا، نہ ان سے زیادہ کوئی چیز بدبودار ہو گی اور نہ ہی ان سے بدصورت کوئی ہو گا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ زِنا کرنے والے مرد اور عورتیں ہیں۔ پھر مجھے مزید آگے لے گئے تو میں نے کچھ عورتوں کو دیکھا جن کے پستانوں کو سانپ ڈس رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانے سے گریز کیا کرتی تھیں، پھر وہ مجھے مزید آگے لے گئے تو میں نے کچھ بچے دیکھے جو دو نہروں کے درمیان کھیل رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا یہ مسلمانوں کے چھوٹے بچے ہیں (جو بچپن میں فوت ہو گئے تھے) پھر مجھے کچھ اوپر لے جایا گیا تو میں نے تین افراد کو دیکھا جو شراب پی رہے تھے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ جعفر بن ابی طالب، زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ پھر مجھے ایک اور بلندی پر لے گئے وہاں پر میں نے تین افراد کو دیکھا، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام ہیں جو کہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے سلیم بن عامر کے سوا اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی بھی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2873]
حدیث نمبر: 2874
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثني أبو ثابت زيد (1) بن إسحاق بن إسماعيل بن محمد بن ثابت بن قيس بن شَمّاس، حدثني جَدّي إسماعيل بن محمد بن ثابت بن قيس بن شَمّاس، عن أبيه محمد: أنَّ أباه ثابتَ بنَ قيس فارَقَ جَميلةَ بنتَ عبد الله بن أُبيّ، وهي حاملةٌ بمحمد (2) ، فلما ولَدَتْه حَلَفتْ أن لا تَلْبِنَه مِن لَبَنِها، فدعا به رسولُ الله ﷺ، فبَزَق في فِيه، وحَنَّكه بتمرة عَجْوة، وسمّاه محمدًا، وقال: اختَلِفْ به، فإن الله رازِقُه، فأتيتُه اليومَ الأولَ والثاني والثالث، فإذا امرأةٌ من العرب تسأل عن ثابت بن قيس، فقلت: ما تُريدين منه؟ أنا ثابت، قالت: رَأيتُ في مَنامي هذه (3) ، كأني أُرضع ابنًا له يقال له: محمد، فقال: فأنا ثابت، وهذا ابني محمد، قال: وإذا دِرْعُها يَنعصِر من لبنها (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2838 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2838 - صحيح
محمد بن ثابت بن قیس بن شماس روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد ثابت بن قیس نے عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ کو علیحدگی دے دی، اس وقت ان کے پیٹ میں محمد تھے، جب محمد پیدا ہو گئے تو انہوں نے قسم کھائی کہ میں اس کو اپنا دودھ نہیں پلاؤں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے پاس منگوایا، اس کے منہ میں اپنا لعاب دھن ڈالا عجوہ کھجور کے ساتھ اس کو گھٹی دی اور اس کا نام محمد رکھا اور فرمایا: اس کو میرے پاس بار بار لاتے رہنا، بے شک اللہ ہی اس کا رزاق ہے۔ میں تین دن تک اس کو آپ کی خدمت میں لے جاتا رہا (تیسرے دن) ایک عربی خاتون ثابت بن قیس کا پوچھتی پھر رہی تھی، میں نے اس سے کہا: تجھے اس سے کیا کام ہے؟ میں ہوں ثابت۔ اس نے کہا: میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ میں ثابت کے بیٹے کو دودھ پلا رہی ہوں جس کا نام محمد ہے۔ انہوں نے کہا: میں ثابت ہوں اور یہ میرا بیٹا محمد ہے (آپ فرماتے ہیں) اس خاتون کے کپڑوں سے اس کا دودھ رِس رہا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2874]
حدیث نمبر: 2875
أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا الحسن بن المثنَّى العَنْبري، حدثنا موسى بن مسعود، حدثنا شِبْل بن عَبّاد، عن ابن أبي نَجِيح، قال: قال عطاء: قال ابن عباس: نَسَخَت هذه الآيةُ عِدّتَها عند أهلها، فتَعتدُّ حيث شاءت، وهو قول الله تعالى: ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [البقرة: 240] . قال عطاء: إن شاءت اعتدّت عند أهلها وسكَنتْ في وصيّتها، وإن شاءت خرجت لقول الله تعالى: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ﴾ [البقرة: 240] ، قال عطاء: ثم جاء الميراثُ فنَسَخ السُّكْنى، تعتدُّ حيث شاءت (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2839 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2839 - على شرط البخاري
(سیدنا عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس آیت نے عورت کا اپنے اہل میں عدت گزارنے کا حکم منسوخ کر دیا ہے۔ اس لیے عورت جہاں چاہے عدت گزارے اور وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے ” غیر اخراج “ عطاء فرماتے ہیں: اگر وہ اپنے اہل کے ہاں عدت گزارنا چاہے تو وہاں گزار لے اور اپنی وصیت میں سکونت اختیار کرے اور اگر وہاں سے جانا چاہے تو چلی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:” فلا جناح علیکم فیما فعلن ” تو تم پر اس بارے میں کوئی حرج نہیں ہے اپنے معاملہ میں وہ جو کچھ بھی کریں “ عطا فرماتے ہیں: پھر میراث کا حکم آ گیا تو رہائش کا حکم منسوخ ہو گیا۔ اس لیے اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔ نوٹ: ابتدائے اسلام میں بیوہ کی عدت ایک سال کی تھی اور ایک سال کامل وہ شوہر کے یہاں رہ کر نان و نفقہ پانے کی مستحق ہوتی تھی۔ پھر ایک سال کی عدت تو ” یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشرا “ سے منسوخ ہوئی، جس میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر فرمائی گئی، اور سال بھر کا نفقہ آیتِ میراث سے منسوخ ہوا جس میں عورت کا حصہ شوہر کے ترکہ سے مقرر کیا گیا۔ لہٰذا اب اس وصیت کا حکم باقی نہ رہا (خزائن العرفان)۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2875]
حدیث نمبر: 2876
أخبرنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجّاج بن محمد، قال: وأخبرني [ابن جُرَيج] (1) حدثنا أبو الزُّبَير، أنه سمع جابر بن عبد الله يقول: جاء مِسكينٌ لبعض الأنصار، فقال (2) : إِنَّ سيِّدي يُكرِهُني على البِغاء، فنَزَل في ذلك: ﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ﴾ [النور: 33] (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (1) . ﷽ أول كتاب العِتق
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2840 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (1) . ﷽ أول كتاب العِتق
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2840 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک انصاری کا غلام آیا اور کہنے لگا: میرا آقا مجھے بدکاری پر مجبور کرتا ہے تو اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی (وَلَا تُکْرِھُوْا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَائِ) (النور: 33) ” اور مجبور نہ کرو اپنی کنیزوں کو بدکاری پر “ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2876]