🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. فَضِيلَةُ صِلَةِ الْقَرَابَةِ
رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2883
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق القاضي وأحمد بن حازم الغِفاري، قالا: حدثنا يعلى بن عُبيد الطَّنافسي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن بُكير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن سُليمان بن يَسَار، عن مَيمُونة، قالت: أعتقتُ جاريةً لي، فدخلَ عليَّ النبيُّ ﷺ، وأخبرتُه بعِتقها، قال:"أمَا إنكِ لو كنتِ أعطَيتِيها أَخوالَك، كان أعظمَ لأجرِكِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2847 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے آزاد کرنے کے متعلق بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو وہ لونڈی اپنے کسی بھائی کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے اس سے بھی زیادہ ثواب کا باعث ہوتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2883]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2884
أخبرنا أبو بكر بن سلْمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكْرَم البَزَّاز، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا أبو عامر صالح بن رُستُم، عن الحسن، عن سعد مولى أبي بكر الصِّدِّيق: أنَّ رسول الله ﷺ قال لأبي بكر الصِّدِّيق - وكان سعد مملوكًا له وكان رسول الله ﷺ يُعجِبُه خدمتُه - فقال رسول الله ﷺ:"يا أبا بكر، أعتِقْ سعدًا" فقال: يا رسول الله، ما لَنا ماهِنٌ غيرُه، فقال رسول الله ﷺ:"أتتكَ الرجالُ، أتتكَ الرجالُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2848 - صحيح
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (سعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا غلام تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی خدمت بہت پسند تھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابوبکر! تم سعد کو آزاد کر دو۔ ابوبکر نے کہا: ہمارے پاس اس کے علاوہ دوسرا کوئی غلام نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس (بہت) لوگ آ جائیں گے۔ تمہارے پاس (بہت) لوگ آ جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2884]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں