🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. شَأْنُ نُزُولِ سُورَةِ الصَّفِّ وَإِسْنَادِهَا مُسَلْسَلًا
سورۂ صف کے نزول کا سبب اور اس کی مسلسل سند
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2935
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك إملاءً في مسجده ببغداد، حدثنا إبراهيم بن هيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كَثير الصَّنعاني، حدثنا الأوزاعي. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مَهْران، حدثنا هشام بن عمَّار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني الأوزاعي، حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سَلَمة، حدثني عبد الله بن سَلَام قال: قَعَدْنا نَفَرٌ من أصحاب النبي ﷺ، فقلنا: لو نَعلَمُ أيُّ الأعمال أحبُّ إلى الله، عَمِلْنا، فأنزل الله ﵎: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (1) يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (3) إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ﴾ إلى آخر السورة، وقرأَها علينا رسولُ الله ﷺ (1) . زاد محمد بن كثير في حديثه: وقال لنا الأوزاعيُّ: قرأَها علينا يحيى بن أبي كثير هكذا، قال محمد بن كثير: وقرأَها علينا الأوزاعيُّ إلى آخر السورة هكذا، قال إبراهيم: وقرأها علينا محمد بن كثير إلى آخر السورة هكذا، قال لنا أبو عمرو بن السَّمّاك: وقرأها علينا إبراهيم بن الهيثم إلى آخر السورة هكذا. قال الحاكم: وقرأَ علينا أبو عمرو بن السَّمّاك من أول السورة إلى آخرها هكذا، وقرأَها علينا الحاكم من أول السورة إلى آخرها هكذا.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2899 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ اگر ہمیں یہ پتہ چل جائے کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہے تو ہم اس کو اپنا لیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: (سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِج وَ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمْ بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌ) اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے۔ اے ایمان والو کیوں کہتے وہ جو نہیں کرتے۔ کتنی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات وہ کہو جو نہ کرو۔ بے شک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں رانگا پلائی ۔ سورۃ کے آخر تک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ آیات سنائیں۔ ٭٭ محمد بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے، اوزاعی کہتے ہیں: یحیی بن کثیر نے یہ سورۃ آخر تک اسی طرح ہمارے سامنے تلاوت کی۔ ابراہیم نے کہا: ہمارے سامنے محمد بن کثیر نے سورۃ کے آخر تک تلاوت کی۔ ابوعمرو بن سماک کہتے ہیں: ابراہیم نے یہ سورۃ آخر تک اسی طرح ہمارے سامنے تلاوت کی۔ امام حاکم کہتے ہیں: ابوعمرو بن سماک نے یہ سورۃ آخر تک اسی طرح ہمارے سامنے تلاوت کی۔ (راوی کتاب کہتے ہیں:) امام حاکم نے یہ سورۃ آخر تک اسی طرح ہمارے سامنے تلاوت کی۔ یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق صحیح ہے تاہم ان دونوں حضرات نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2935]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں