🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. فَضِيلَةُ الشَّامِ
شام کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2936
حدثنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي وِبْشر بن موسى الأَسَدي والحارث بن أبي أُسامة التميمي قالوا: حدثنا يحيى بن إسحاق السّالَحِيني، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثني يزيد بن أبي حَبِيب، أنَّ عبد الرحمن بن شُمَاسَة حدَّثه عن زيد بن ثابت قال: كنَّا حولَ رسول الله ﷺ نُؤلِّفُ القرآنَ، إذ قال:"طُوبَى للشَّام"، فقيل له: ولِمَ؟ قال:"إنَّ ملائكةَ الرحمنِ باسطةٌ أجنِحتَها عليهم" (1) . رواه جرير بن حازم عن يحيى بن أيوب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2900 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قرآن جمع کیا کرتے تھے، ایک دفعہ آپ نے فرمایا: شام کے لیے خوشخبری ہو، آپ سے دریافت کیا گیا کس بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ رحمت کے فرشتے ان پر اپنے پر پھیلاتے ہیں۔ ٭٭ اس حدیث کو جریر بن حازم نے یحیی بن ایوب سے روایت کیا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2936]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2937
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أَبي، سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسةَ، عن زيد بن ثابت قال: كنَّا عند رسول الله ﷺ نُؤلِّفُ القرآن من الرِّقَاع، فقال رسول الله ﷺ:"طُوبَى للشَّام"، فقلنا: لأيِّ شيءٍ ذاك؟ فقال:"لأنَّ ملائكةَ الرحمن باسطةٌ أجنِحتَها عليهم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وفيه البيانُ الواضحُ: أنَّ جَمْعَ القرآن لم يكن مرةً واحدةً، فقد جُمِعَ بعضُه بحَضْرة رسول الله ﷺ، ثم جُمِعَ بحَضْرة أبي بكر الصِّدّيق، والجمعُ الثالث - وهو ترتيب السُّوَر - كان في خلافة أمير المؤمنين عثمان، ﵃ أجمعين.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کاغذ یا چمڑے کے ٹکڑوں پر قرآن جمع کیا کرتے تھے، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شام کے لیے خوشخبری ہے، ہم نے پوچھا: کس بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان پر رحمت کے فرشتے اپنے پر پھیلاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث میں یہ واضح بیان موجود ہے کہ قرآن پاک صرف ایک دفعہ ہی جمع نہیں کیا گیا بلکہ اس کا کچھ حصہ تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جمع کر لیا گیا تھا، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی جمع کیا گیا اور تیسری دفعہ جب سورتوں کی ترتیب کے ساتھ اس کی تالیف ہوئی ہے وہ سیدنا عثمانی غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2937]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2938
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن أيوب العَلَّاف، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا محمد بن جعفر بن أبي كَثير، حدثنا شَرِيك بن عبد الله بن أبي نَمِرٍ، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي ذرٍّ أنه قال: دخلتُ المسجدَ يومَ الجُمُعة، والنبيُّ ﷺ يَخطُب، فجلستُ قريبًا من أُبيِّ بن كعب، فقرأَ النبيُّ ﷺ سورةَ براءةَ، فقلت لأُبي: متى نَزَلَت هذه السورةُ؟ قال: فتجهَّمَني ولم يُكلِّمْني؛ قال: وذكر الحديث (1) . هكذا وجدتُه في كتابي، وطلبتُه في المسانيد فلم أجده بطوله، والحديث بإسنادٍ صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2902 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں جمعہ کے دن مسجد نبوی میں گیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ براءت پڑھی، میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ سورۃ کب نازل ہوئی؟ انہوں نے میری طرف غصے سے دیکھا اور کوئی کلام نہیں کیا۔ اس کے بعد پوری حدیث کا ذکر ہے۔ ٭٭ میں نے اپنی کتاب میں بھی اس حدیث کو ایسا ہی پایا ہے۔ میں نے اس کو مسانید میں بھی بہت ڈھونڈا لیکن پوری مفصل حدیث مجھے کہیں سے بھی نہیں مل سکی بہرحال یہ حدیث اپنی اسناد کے ہمراہ صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 2938]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں