المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. مَا أَحْسَنَ مُحْسِنٌ مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا كَافِرٍ إِلَّا أَثَابَهُ اللَّهُ
جو بھی نیکی کرنے والا ہو، خواہ مسلمان ہو یا کافر، اللہ اسے اس کا بدلہ ضرور دیتا ہے
حدیث نمبر: 3038
حدثنا أبو بكر محمد بن داود الزاهد، حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا زيد بن أخزَمَ الطائي، حدثنا عامر بن مُدرِك الحارثي، حدثنا عُتْبة بن يَقْظان، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شِهاب، عن ابن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"ما أحسَنَ محسنٌ من مسلم ولا كافرٍ إلّا أثابَه الله" قال: فقلنا: يا رسول الله، ما إثابةُ الله الكافرِ؟ قال:"إن كان قد وَصَلَ رَحِمًا، أو تصدَّق بصدقة، أو عَمِلَ حسنةً، أثابهُ اللهُ المالَ والولدَ والصِّحَّة وأشباهَ ذلك" قال: فقلنا: وما إثابتُه في الآخرة؟ فقال:"عذابًا دونَ العذاب" قال: وقرأ رسول الله ﷺ: ﴿أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾ [غافر: 46] ؛ هكذا قرأَه رسول الله ﷺ مقطوعةَ الألف (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3001 - عتبة بن يقظان واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3001 - عتبة بن يقظان واه
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان یا کافر نے کوئی بھی نیکی نہیں کی مگر اللہ اسے اس کا صلہ عطا فرماتا ہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کافر کو اللہ کیا صلہ دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے صلہ رحمی کی ہو، یا صدقہ دیا ہو، یا کوئی اور نیکی کی ہو، تو اللہ اسے مال، اولاد، صحت اور اس جیسی دیگر نعمتوں کی صورت میں بدلہ دیتا ہے۔“ ہم نے عرض کیا: اور آخرت میں اس کا کیا صلہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جہنم کے) عذاب سے کم درجے کا عذاب۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾ ”آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔“ [سورة غافر: 46] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو اسی طرح مقطوع الالف تلاوت فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3038]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3038]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، عامر بن مدرك ليّن الحديث، وعتبة بن يقظان وهّاه الذهبي في "تلخيصه"، واستنكر خبره هذا في "ميزان الاعتدال".»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 3039
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتري عبد الله بن محمد ابن شاكر، حدثنا جعفر بن عَوْن، حدثنا الأجلَح بن عبد الله، عن الذَّيَّال بن حَرمَلة، عن جابر بن عبد الله قال: اجتمعت قريشٌ يومًا، فأتاه عتبةُ بن رَبيعة بن عبد شمس فقال: يا محمد، أنت خيرٌ أم عبدُ الله؟ فَسَكَتَ رسولُ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ:"أَفَرَغْتَ؟" قال: نعم، فقال رسول الله ﷺ: ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. حم (1) تَنْزِيلٌ﴾ حتى بلغ ﴿فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ﴾ [فصلت: 1 - 13] ، فقال له عُتْبة: حَسْبُكَ حَسْبُك، ما عندَك غيرُ هذا؟ قال:"لا" فرجع عتبةُ إلى قريش فقالوا: ما وراءَك؟ فقال: ما تركتُ شيئًا أرى أنكم تكلِّمونه إلّا كلَّمتُه، قالوا: فهل أجابَك؟ قال: نعم، لا والذي نَصَبَها بَنِيَّةً ما فهمتُ شيئًا مما قال، غيرَ أنه قال: أنذرتُكم صاعقةً مثلَ صاعقة عاد وثمود، قالوا: ويلَك، يكلِّمُك رجلٌ بالعربية، ولا تدري ما قال! قال: لا والله ما فهمتُ شيئًا ممّا قال غيرَ ذِكْر الصاعقة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3002 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3002 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دن قریش جمع ہوئے تو ان کے پاس عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! کیا آپ بہتر ہیں یا (آپ کے والد) عبداللہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تم اپنی بات مکمل کر چکے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمائی: ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. حم تَنْزِيلٌ﴾ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر پہنچے: ﴿فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ﴾ ”پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو آپ کہہ دیں کہ میں تمہیں کڑک (بجلی کے عذاب) سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد اور ثمود پر کڑک نازل ہوئی تھی۔“ [سورة فصلت: 1 - 13] تو عتبہ نے کہا: بس کریں بس کریں، کیا آپ کے پاس اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ عتبہ قریش کے پاس واپس گیا تو انہوں نے پوچھا: کیا خبر ہے؟ اس نے کہا: کوئی ایسی بات نہیں بچی جو میں سمجھتا تھا کہ تم اس سے کہو گے مگر میں نے وہ کہہ دی، انہوں نے پوچھا: کیا اس نے تمہیں جواب دیا؟ اس نے کہا: جی ہاں، مگر اس ذات کی قسم جس نے کعبہ کو تعمیر کیا، میں نے اس کی کہی ہوئی کسی بات کو نہیں سمجھا سوائے اس کے کہ اس نے کہا: میں تمہیں عاد اور ثمود کی کڑک جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں، انہوں نے کہا: تمہارا برا ہو، ایک آدمی تم سے عربی میں بات کر رہا ہے اور تمہیں سمجھ نہیں آئی کہ اس نے کیا کہا! اس نے کہا: نہیں اللہ کی قسم، مجھے کڑک کے ذکر کے سوا کچھ سمجھ نہیں آیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3039]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3039]
تخریج الحدیث: «في إسناده لِين، الأجلح بن عبد الله يعتبر به في المتابعات والشواهد، وقد تفرد به من هذا الوجه، والذيّال بن حرملة روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات".»
الحكم على الحديث: في إسناده لِين
حدیث نمبر: 3040
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا العبَّاس بن الوليد بن مَزْيَد، حدثنا محمد بن شعيب، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن عاصم، عن أبي رزين، عن أبي يحيى، عن ابن عبَّاس، عن النبي ﷺ: (وإنَّه لَعَلَمٌ لِلسَّاعةِ) [الزخرف: 61] قال:"خروجُ عيسى قبل يوم القيامة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3003 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3003 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت ﴿وَإِنَّهُ لَعَلَمٌ لِلسَّاعَةِ﴾ ”اور بے شک وہ قیامت کی ایک نشانی ہے“ کے بارے میں فرمایا: ”(اس سے مراد) قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا خروج ہے۔“ [سورة الزخرف: 61]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3040]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3040]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، إلّا أنَّ المحفوظ فيه عن ابن عبَّاس من قوله موقوفًا لا مرفوعًا ما هو مبيَّن في تعليقنا على "مسند أحمد" 5/ (2918) حيث أخرجه ضمن حديث عن هاشم بن القاسم عن شيبان موقوفًا، وهو الصحيح. وأخرجه كرواية المصنف هنا ابنُ حبان (6817) من طريق الوليد بن مسلم عن شيبان، به. وسيأتي برقم (3716) من حديث عكرمة عن ابن عبَّاس موقوفًا.»
الحكم على الحديث: إسناده حسن