🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مِنْ أَدِيمِ الْأَرْضِ كُلِّهَا فَخَرَجَتْ ذُرِّيَّتُهُ عَلَى حَسْبِ ذَلِكَ
اللہ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پوری زمین کی مٹی سے پیدا فرمایا، اسی مناسبت سے ان کی اولاد مختلف رنگوں اور طبیعتوں کی بنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3074
أخبرنا محمد بن محمد بن علي الصَّنعاني، بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، أخبرني عوف العَبْدي، عن قَسَامة بن زهير، عن أبي موسى الأشعري، عن النبي ﷺ قال:"خلق اللهُ آدمَ من أَدِيم الأرض كلِّها، فخرجت ذُرِّيتُه على حَسَبِ ذلك، منهم الأبيضُ والأسودُ، والأسمرُ والأحمرُ، ومنهم بينَ ذلك، ومنهم السهلُ، والخبيثُ والطيِّب" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3037 - صحيح
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پوری زمین کی بالائی سطح سے پیدا فرمایا، چنانچہ ان کی اولاد بھی اسی تناسب سے پیدا ہوئی، ان میں کوئی سفید ہے تو کوئی سیاہ، کوئی گندمی ہے تو کوئی سرخ اور کوئی ان کے درمیانی رنگ کا ہے، اسی طرح ان میں کوئی نرم مزاج ہے تو کوئی برا اور کوئی پاکیزہ طبع ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3074]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، عوف العبدي: هو ابن أبي جميلة الأعرابي. وأخرجه أحمد 32/ (19582) و (19583)، وأبو داود (4693)، والترمذي (2955)، وابن حبان (6160) و (6181) من طرق عن عوف، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3074] [ترقيم الشركة 3055] [ترقيم العلميه 3037]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3075
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهّاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة عن قَتَادة، عن الحسن، عن عُتَيّ بن ضَمْرة، عن أُبيِّ بن كعب، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ آدمَ كان رجلًا طُوَالًا كأنه نخلةٌ سَحُوقٌ، كثيرُ شعر الرأس، فلما رَكِبَ الخطيئةَ بَدَتْ له عورتُه، وكان لا يراها قبلَ ذلك، فانطلق هاربًا في الجنة، فتعلَّقَت به شجرهٌ، فقال لها: أرسِليني، قالت لستُ بمُرسِلَتِك، قال وناداه ربُّه: يا آدمُ، أمِنِّي تَفِرُّ؟ قال: يا ربِّ، إني استَحْيِيكَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3038 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک سیدنا آدم علیہ السلام ایک طویل القامت شخص تھے گویا کہ وہ ایک لمبا کھجور کا درخت ہوں، ان کے سر کے بال بہت گھنے تھے، پھر جب ان سے لغزش سرزد ہوئی تو ان کا ستر ان پر ظاہر ہو گیا حالانکہ اس سے پہلے وہ اسے نہیں دیکھتے تھے، چنانچہ وہ جنت میں بھاگنے لگے تو ایک درخت میں الجھ گئے، انہوں نے اس سے کہا: مجھے چھوڑ دے، اس نے کہا: میں تجھے نہیں چھوڑوں گا، پھر ان کے رب نے انہیں پکارا: اے آدم! کیا تم مجھ سے بھاگ رہے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! بلاشبہ مجھے تجھ سے حیا آ رہی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3075]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، وقد اختُلف في رفعه ووقفه، وأشار إلى ذلك البخاري في "التاريخ الكبير" 1/ 79. الحسن: هو البصري.» [ترقيم الرساله 3075] [ترقيم الشركة 3056] [ترقيم العلميه 3038]

الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں