🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. خلق الله آدم من أديم الأرض كلها فخرجت ذريته على حسب ذلك
اللہ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پوری زمین کی مٹی سے پیدا فرمایا، اسی مناسبت سے ان کی اولاد مختلف رنگوں اور طبیعتوں کی بنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3075
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهّاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة عن قَتَادة، عن الحسن، عن عُتَيّ بن ضَمْرة، عن أُبيِّ بن كعب، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ آدمَ كان رجلًا طُوَالًا كأنه نخلةٌ سَحُوقٌ، كثيرُ شعر الرأس، فلما رَكِبَ الخطيئةَ بَدَتْ له عورتُه، وكان لا يراها قبلَ ذلك، فانطلق هاربًا في الجنة، فتعلَّقَت به شجرهٌ، فقال لها: أرسِليني، قالت لستُ بمُرسِلَتِك، قال وناداه ربُّه: يا آدمُ، أمِنِّي تَفِرُّ؟ قال: يا ربِّ، إني استَحْيِيكَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3038 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا آدم علیہ السلام کھجور کے درخت کی طرح دراز قد تھے اور آپ کے سر کے بال بہت گھنے تھے، جب آپ خطاء کے مرتکب ہوئے، آپ کی شرمگاہ ظاہر ہو گئی، اس سے پہلے آپ نے خود اپنی شرمگاہ کو نہیں دیکھا تھا، تو سیدنا آدم علیہ السلام جنت میں بھاگتے پھرتے تھے کہ ایک درخت آپ کے ساتھ چپک گیا۔ آپ نے کہا: مجھے چھوڑ دو، درخت نے کہا: میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو آواز دی، اے آدم علیہ السلام! کیا تو مجھ سے بھاگ رہا ہے؟ تو انہوں نے عرض کی: اے میرے رب مجھے حیاء آتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3075]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3075 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله لا بأس بهم، وقد اختُلف في رفعه ووقفه، وأشار إلى ذلك البخاري في "التاريخ الكبير" 1/ 79. الحسن: هو البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)، اور اس کے مرفوع و موقوف ہونے میں اختلاف کیا گیا ہے، جس کی طرف بخاری نے "التاریخ الکبیر" 1/ 79 میں اشارہ کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حسن سے مراد ’بصری‘ ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "البعث والنشور" (175) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "البعث والنشور" (175) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 1/ 15 عن عبد الوهاب بن عطاء به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" 1/ 15 میں عبدالوہاب بن عطاء سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد 1/ 15 من طريق عباد بن العوام، والطبري في "تفسيره" 8/ 143 من طريق يزيد بن هارون، كلاهما عن سعيد بن أبي عروبة به موقوفًا. ويزيد أسقط من إسناده عُتيًّا، والحسن لم يدرك أُبيًّا. ورواية عباد بن العوام ستأتي مختصرة عند المصنف برقم (4042).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے 1/ 15 میں عباد بن العوام کے طریق سے، اور طبری نے اپنی "تفسیر" 8/ 143 میں یزید بن ہارون کے طریق سے، دونوں نے سعید بن ابی عروبہ سے موقوفاً تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور یزید نے اپنی سند سے (راوی) عُتی کو گرا دیا (ساقط کر دیا) ہے، اور حسن بصری نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور عباد بن العوام کی روایت مصنف کے ہاں مختصراً نمبر (4042) پر آگے آئے گی۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 7 من طريق علي بن عاصم، عن سعيد بن أبي عروبة، به مرفوعًا بإسقاط عُتيٍّ من إسناده، وعلي بن عاصم فيه ضعف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 7 میں علی بن عاصم کے طریق سے، انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے مرفوعاً تخریج کیا ہے، اور اس میں (راوی) عُتی کو سند سے گرا دیا ہے، ⚖️ درجۂ حدیث: اور علی بن عاصم میں ضعف پایا جاتا ہے۔
وأخرجه أحمد في "الزهد" (265) من طريق شيبان النحوي، والطبراني في "مسند الشاميين" (2668) من طريق سعيد بن بشير، كلاهما عن قتادة به - مرفوعًا - وأسقطا منه عتيًّا. وسعيد ابن بشير ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے "الزهد" (265) میں شیبان النحوی کے طریق سے، اور طبرانی نے "مسند الشاميين" (2668) میں سعید بن بشیر کے طریق سے، دونوں نے قتادہ سے مرفوعاً تخریج کیا ہے - اور ان دونوں نے بھی اس میں سے عُتی کو ساقط کر دیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور سعید بن بشیر ضعیف ہیں۔
وسلف أوله برقم (1292) من طريق ابن الهاد عن الحسن عن أُبي.
🧾 تفصیلِ روایت: اس کا ابتدائی حصہ نمبر (1292) پر ابن الہاد عن الحسن عن ابی کے طریق سے گزر چکا ہے۔