🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. الرُّخْصَةُ فِي الْعَزْلِ
عزل کی اجازت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3141
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن أبي إسحاق، عن زائدة بن عُمير قال: سألت ابنَ عبَّاس عن العَزْل، فقال: إنكم قد أكثرتُم، فإن كان قال فيه رسولُ الله ﷺ شيئًا، فهو كما قال، وإن لم يكن قال فيه شيئًا، فأنا أقول: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [البقرة:223] ، فإن شئتم فاعزِلُوا، وإن شئتم فلا تَفعَلوا (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3104 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ زائدہ بن عمیر نے ان سے عزل (بچہ دانی سے باہر مادہ منویہ خارج کرنے) کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: تم لوگوں نے اس مسئلے پر بہت کلام کر رکھا ہے، پس اگر اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم فرمایا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں خاموشی اختیار فرمائی ہے تو میں یہ کہتا ہوں: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، پس اپنی کھیتیوں میں جہاں سے چاہو آؤ۔ [سورة البقرة: 223] ، لہٰذا اگر تم چاہو تو عزل کرو اور اگر چاہو تو نہ کرو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3141]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي.» [ترقيم الرساله 3141] [ترقيم الشركة 3122] [ترقيم العلميه 3104]

الحكم على الحديث: إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3142
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرحمن بن محمد المحارِبي، عن محمد بن إسحاق سَمِعَ أبانَ بن صالح يحدِّث عن مجاهد قال: عَرَضتُ القرآن على ابن عبَّاس ثلاثَ عَرَضات، أُوقِفُه على كل آية أسألُه فيما أُنزلت وكيف كانت، فأَتيتُ على قوله: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ الآية، قال: كان هذا الحيُّ من المهاجرين يَشرَحُون النساءَ شَرْحًا مُنكَرًا حيثما لَقُوهُنَّ مُقبلاتٍ ومدبراتٍ، فلما قَدِموا المدينةَ تزوَّجوا النساءَ من الأنصار، فأرادوهنَّ على ما كانوا يفعلون بالمهاجرات، فأنكرنَ ذلك فشَكَيْنَ ذلك إلى رسول الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾، يقول: مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ من دُبُرِها بعد أن يكون للفَرْج، قال ابن عبَّاس: وإنما كان من قِبَل دُبُرها في قُبُلها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3105 - على شرط مسلم
مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو تین مرتبہ پورا قرآن پیش کیا، میں انہیں ہر آیت پر روکتا اور ان سے اس کے نزول اور پس منظر کے بارے میں سوال کرتا تھا، جب میں اس آیت ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] پر پہنچا تو انہوں نے بتایا: مہاجرین کا یہ قبیلہ اپنی عورتوں کو (جماع کے وقت) مختلف پوزیشنز میں لٹایا کرتے تھے، خواہ وہ سامنے سے ہوں یا پیچھے سے، جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے نکاح کیا اور ان کے ساتھ بھی ویسا ہی کرنا چاہا جیسا وہ مہاجر عورتوں کے ساتھ کرتے تھے، انصاری خواتین نے اس بات کو ناپسند کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، پس اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ، اس کا مفہوم یہ ہے کہ سامنے سے ہو یا پیچھے سے، بشرطیکہ وہ مقامِ ولادت (شرمگاہ) میں ہو، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب پیچھے کی جانب سے ہو کر شرمگاہ ہی میں آنا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3142]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن. وقد سلف برقم (2827).» [ترقيم الرساله 3142] [ترقيم الشركة 3123] [ترقيم العلميه 3105]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں