المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
52. الرُّخْصَةُ فِي الْعَزْلِ
عزل کی اجازت
حدیث نمبر: 3141
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثنا عُبيد الله بن عمرو، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن أبي إسحاق، عن زائدة بن عُمير قال: سألت ابنَ عبَّاس عن العَزْل، فقال: إنكم قد أكثرتُم، فإن كان قال فيه رسولُ الله ﷺ شيئًا، فهو كما قال، وإن لم يكن قال فيه شيئًا، فأنا أقول: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [البقرة:223] ، فإن شئتم فاعزِلُوا، وإن شئتم فلا تَفعَلوا (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3104 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3104 - صحيح
سیدنا زائدہ بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عزل کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: تمہاری تعداد بھی تو کثیر تھی اگر اس سلسلہ میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد کسی نے سُن رکھا ہے تو اسی پر عمل کرے اور اگر کسی نے اس سلسلہ میں کوئی ارشاد نہیں سنا تو سنو! میں کہتا ہوں: نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ (البقرۃ: 223) ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ “۔۔ اس لیے اگر تم چاہو تو ” عزل “ کر لو اور نہ کرنا چاہو تو نہ کرو۔ (نوٹ: عزل کا مطلب یہ ہے کہ شوہر انزال کے وقت اپنی بیوی سے الگ ہو جائے اور مادہ باہر خارج کر دے۔) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3141]
حدیث نمبر: 3142
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرحمن بن محمد المحارِبي، عن محمد بن إسحاق سَمِعَ أبانَ بن صالح يحدِّث عن مجاهد قال: عَرَضتُ القرآن على ابن عبَّاس ثلاثَ عَرَضات، أُوقِفُه على كل آية أسألُه فيما أُنزلت وكيف كانت، فأَتيتُ على قوله: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ الآية، قال: كان هذا الحيُّ من المهاجرين يَشرَحُون النساءَ شَرْحًا مُنكَرًا حيثما لَقُوهُنَّ مُقبلاتٍ ومدبراتٍ، فلما قَدِموا المدينةَ تزوَّجوا النساءَ من الأنصار، فأرادوهنَّ على ما كانوا يفعلون بالمهاجرات، فأنكرنَ ذلك فشَكَيْنَ ذلك إلى رسول الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾، يقول: مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ من دُبُرِها بعد أن يكون للفَرْج، قال ابن عبَّاس: وإنما كان من قِبَل دُبُرها في قُبُلها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3105 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3105 - على شرط مسلم
سیدنا مجاہد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں نے تین مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو قرآن سنایا ہے۔ میں ہر آیت پر رک کر اس کا شانِ نزول دریافت کرتا جب اس آیت: نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ (البقرۃ: 223) ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ “۔ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا: مہاجرین کا یہ قبیلہ جو ہے ان کی عادت تھی کہ یہ اپنی بیویوں کو ناپسندیدہ طریقے سے ننگی کر لیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ آگے سے اور پچھلی جانب سے آگے کے مقام پر جماع کیا کرتے تھے۔ جب یہ لوگ مدینۃ المنورہ آئے اور ان کے نکاح انصاری خواتین کے ساتھ ہوئے تو یہ وہی طریقے استعمال کرنے لگے جو مہاجر خواتین کے ساتھ کیا کرتے تھے تو انصاری عورتوں نے ان کو ایسا کرنے سے منع کر دیا اور اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ (البقرۃ: 223) ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ۔ “ یعنی آگے سے اور پیچھے سے۔ جبکہ وطی آگے کے مقام ہی سے کی جائے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ لوگ عورتوں کو کمر کی جانب سے ملتے اور اگلے مقام میں دخول کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3142]