المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
75. أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ فِي جَوْفِ طَيْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ
شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے جسموں میں جنت کی نہروں میں سیر کرتی ہیں
حدیث نمبر: 3203
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن محمد بن إسحاق، عن إسماعيل بن أُمية، عن أبي الزُّبير، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ:"لمَّا أُصيبَ إخوانُكم بأُحدٍ، جعل الله أرواحَهم في جوفِ طيرٍ تَرِدُ أنهارَ الجنة وتأكل من ثمارِها، وتأوي إلى قناديلَ من ذهب معلَّقة في ظِلِّ العَرْش، فلما وَجَدُوا طِيبَ مَأكَلِهم ومَشرَبهم ومَقِيلهم قالوا: من يبلَّغ إخوانَنا عنا أنَّا أحياءٌ في الجنة نُرزَقُ، لئلَّا يَزهَدُوا في الجهاد، ولا يَنكُلوا في الحرب؟ فقال الله ﷿: أنا أبلِّغُهم عنكم، فأنزل الله تعالى: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ الآية [آل عمران: 169] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3165 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3165 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے بھائی احد (کے میدان) میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے جوف (پوپلے جسم) میں رکھ دیا جو جنت کی نہروں پر آتی ہیں، اس کے پھل کھاتی ہیں اور عرش کے سائے میں لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، پس جب انہوں نے اپنے کھانے، پینے اور آرام گاہ کی پاکیزگی و لطافت کو دیکھا تو کہنے لگے: ہمارے بھائیوں کو ہماری طرف سے کون یہ خبر پہنچائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور ہمیں رزق دیا جا رہا ہے، تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ کے وقت پیٹھ نہ پھیریں؟ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: میں تمہاری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچاتا ہوں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں“ [سورة آل عمران: 169] ۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3203]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3203]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. وهو مكرر (2475).» [ترقيم الرساله 3203] [ترقيم الشركة 3183] [ترقيم العلميه 3165]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3204
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا أبو سعيد المؤدِّب، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنها قالت لعبد الله بن الزُّبير: يا ابن أُختي، أمَا والله إنَّ أباك وجدَّك -يعني أبا بكر والزُّبير- لَمِن الذين قال الله ﷿ ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3166 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3166 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم! تمہارے والد (سیدنا زبیر) اور تمہارے نانا (سیدنا ابوبکر صدیق) یقیناً ان لوگوں میں شامل تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ ”جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا اس کے بعد کہ انہیں (غزوہ احد میں) زخم پہنچ چکا تھا“ [سورة آل عمران: 172] ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3204]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3204]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو سعيد المؤدب: هو محمد بن مسلم بن أبي الوضَّاح. وسيأتي مكررًا برقم (4367).» [ترقيم الرساله 3204] [ترقيم الشركة 3184] [ترقيم العلميه 3166]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح