🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

76. كَانَ آخِرُ كَلَامِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ (حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ)
جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلمہ یہ تھا: اللہ مجھے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3205
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ بالكوفة، حدثنا أحمد بن إسحاق التَّميمي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن أبي حَصِين، عن أبي الضُّحَى، عن ابن عبَّاس قال: آخر كلام إبراهيم حين أُلقِيَ في النار: حَسْبيَ الله ونِعمَ الوكيلُ، وقال نبيُّكم ﷺ مثلَها: ﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ [آل عمران: 173] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3167 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلام یہ تھا حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ میرے لیے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہ سب سے بہتر کارساز ہے اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کا کلام کیا (جیسا کہ قرآن پاک میں موجود ہے): اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْھُمْ فَزَادَھُمْ اِیْمَانًاوَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ (آل عمران: 173) وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے لیے جتھا جوڑا تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز ۔۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3205]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3206
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش، عن خَيْثمة، عن عبد الله قال: والذي لا إله غيرُه، ما على الأرض نفسٌ إلَّا الموتُ خيرٌ لها، إن كان مؤمنًا فإنَّ الله يقول: ﴿لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [آل عمران: 198] ، وإن كان فاجرًا فإنَّ الله يقول: ﴿إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا﴾ [آل عمران:178] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3168 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، زمین پر جو بھی انسان ہے اس کے لیے موت اچھی چیز ہے کیونکہ اگر وہ مومن ہے تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ٰلکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ (آل عمران: 198) لیکن وہ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ۔۔ اور اگر وہ کافر ہے تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَادُوْآ اِثْمًا (آل عمران: 178) تو اسی لیے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھیں ۔۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3206]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3207
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو عمرو المُستَملي، حدثنا أبو هشام الرِّفاعي، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، حدثنا أبو إسحاق، حدثنا أبو وائل قال: قال عبد الله: ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [آل عمران:180] قال: ثُعبانٌ له زَبيبتان يَنهَشُه في قبره، يقول: أنا مالُك الذي بَخِلتَ به (1) . سمعت يحيى بن منصور يقول: سمعت أبا عمرو المُستَملي يقول: سمعت أبا هشام الرِّفاعي يقول: سمعت أبا بكر بن عيَّاش يقول: والله ما كَذَبَتُ على أبي إسحاق، ولا أرى أبا إسحاق كَذَبَ على أبي وائل، ولا أرى أبا وائل كَذَبَ على عبد الله. رواه الثَّوْريُّ عن أبي إسحاق:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3169 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ"" {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180] قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَجِيئُهُ ثُعْبَانٌ فَيَنْقُرُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَتَطَوَّقُ فِي عُنُقِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰامَۃِ) (آل عمران: 180) عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا ۔ (، م) کے متعلق فرماتے ہیں: ایک بہت بڑا اژدھا، جس کی دو زبانیں ہوں گی وہ اس کو قبر میں ڈسے گا اور کہے گا: میں ہوں تیرا وہ مال جس میں تو بخل کیا کرتا تھا۔ ابوبکر بن عیاش کہتے ہیں: خدا کی قسم! میں نے ابواسحاق کے بارے میں جھوٹ نہیں بولا اور میں نہیں سمجھتا کہ ابواسحاق نے ابووائل پر جھوٹ باندھا ہو اور نہ ہی میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابووائل نے عبداللہ پر جھوٹ باندھا ہو گا۔ ٭٭ اسی حدیث کو ثوری نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (آل عمران: 180) عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: اس کے پاس ایک اژدھا آئے گا وہ اس کے سر میں سوراخ کر دے گا اور اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور کہے گا: میں تیرا وہی مال ہوں جس میں تو بخل کیا کرتا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3207]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3208
أخبرَناه أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي وائل، عن عبد الله في قوله: ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ قال: قال عبد الله: يجيئُه ثعبانٌ فيَنقُر رأسَه ثم يَتطوَّق في عُنقِه، ثم يقول: أنا مالُكَ الذي بَخِلتَ به (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: جس مال میں انہوں نے بخل کیا ہوگا، قیامت کے دن وہی ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ: (وہ مال) ایک اژدھے کی صورت میں آئے گا جو اس کے سر پر کاٹے گا، پھر اس کے گلے کا طوق بن جائے گا اور کہے گا: میں تمہارا وہی مال ہوں جس میں تم نے بخل کیا تھا۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے، مگر انہوں نے اسے تخریج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3208]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں