المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
78. دَوَاءٌ بِنُصْرَةِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ دَوَاءٍ بِنُصْرَةِ النَّاسِ
اللہ کی مدد سے ملنے والا علاج لوگوں کی مدد سے ملنے والے علاج سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 3214
أخبرنا أبو العبَّاس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا عبد الله بن علي الغَزَّال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا عبد الله بن المبارَك، أخبرنا مصعب بن ثابت، عن عامر بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه قال: نَزَلَ بالنَّجَاشي عدوٌّ من أرضهم، فجاءه المهاجرون فقالوا: إنا نحبُّ أن نخرجَ إليهم حتى نقاتلَ معك وترى جُرْأَتَنا، ونَجزِيَك بما صنعتَ بنا. فقال: لَأدْواءٌ بنُصْرة الله، خيرٌ من دَوَاءٍ بنُصْرة الناس. قال: وفيه نزلت: ﴿وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ﴾ [آل عمران: 199] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3175 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3175 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ شاہِ نجاشی پر ان کی اپنی زمین سے ایک دشمن نے حملہ کر دیا، تو مہاجرین (صحابہ) ان کے پاس آئے اور عرض کی: ہم چاہتے ہیں کہ ان کے مقابلے کے لیے نکلیں تاکہ آپ کے ساتھ مل کر جنگ کریں اور آپ ہماری جرات دیکھ لیں، اور (اس طرح) ہم آپ کے اس احسان کا بدلہ بھی چکا سکیں جو آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔ اس پر نجاشی نے جواب دیا: ”اللہ کی نصرت کے ساتھ ملنے والی تکلیفیں، لوگوں کی مدد سے ملنے والی راحت سے بہتر ہیں۔“ (سیدنا زبیر فرماتے ہیں کہ) اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ﴾ ”اور یقیناً اہل کتاب میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس (کتاب) پر بھی جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی، وہ اللہ کے حضور عاجزی کرنے والے ہیں“ [سورة آل عمران: 199] ۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3214]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3214]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، عبد الله بن علي الغزَّال مجهول، ومصعب بن ثابت» [ترقيم الرساله 3214] [ترقيم الشركة 3194] [ترقيم العلميه 3175]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف