المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
87. قصة إسلام النجاشي وغلبة وفد المسلمين على الكافرين عنده
نجاشی کے اسلام قبول کرنے اور اس کے دربار میں مسلمانوں کے وفد کے غالب آنے کا واقعہ
حدیث نمبر: 3247
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد ابن مِهران بن خالد الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى قال: أمَرَنا رسول الله ﷺ أن ننطلقَ إلى أرض النَّجَاشي، فبلغ ذلك قريشًا، فبَعَثوا إلى عمرو بن العاص وعُمارة بن الوليد وجمعوا للنَّجاشي هدايا، فقَدِمْنا، وقَدِما على النَّجاشي، فأَتَوه بهديَّته فقَبِلَها وسجدوا له، ثم قال له عمرو بن العاص: إنَّ قومًا منا رَغِبُوا عن ديننا وهم في أرضك، فقال لهم النجاشي: في أرضي؟! قالا: نعم، قال: فبعث إلينا، فقال لنا جعفر: لا يتكلَّم منكم أحد، أنا خطيبُكم اليومَ. فانتهينا إلى النجاشي وهو جالسٌ في مَجلسِه، وعمرُو بن العاص عن يمينه نه وعمارةُ عن يساره والقِسِّيسون من الرُّهبان جلوسٌ سِماطَين، فقال له عمرو وعمارة: إنهم لا يَسجُدون لك، فلما انتهَينا إليه زَبَرَنا من عندَه من القِسِّيسين والرُّهبان: اسجُدوا للملك، فقال جعفر: لا نسجدُ إلَّا لله، فقال له النجاشي: وما ذاك؟ قال: إنَّ الله بَعَثَ فينا رسولَه، وهو الرسول الذي بَشَّرَ به عيسي ﴿بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾، فأمَرَنا أن نَعْبُدَ الله ولا نُشرِكَ به شيئًا، ونُقِيمَ الصلاة ونُؤتيَ الزكاة، وأمرنا بالمعروف ونهانا عن المنكَر، قال: فأَعجَبَ الناسَ قولُه، فلما رأى ذلك عمرٌو، قال له: أصلَحَ اللهُ الملكَ، إنهم يخالفونك في عيسى ابن مريم، فقال النجاشي لجعفر: ما يقول صاحبُك في ابن مريم؟ قال: يقول فيه قولَ الله: هو رُوحُ الله، وكلمتُه، أخرجه من البَتُول العذراء لم يَقرَبْها بشرٌ، قال: فتناول النجاشيُّ عودًا من الأرض فرفعه فقال: يا معشرَ القِسِّيسينَ والرُّهبان، ما يزيدُ هؤلاء على ما تقولون في ابن مريم ما يَزِنُ هذه، مرحبًا بكم، وبمن جئتم من عندِه، فأنا أشهدُ أنه رسول الله، وأنه الذي بَشَّر به عيسى ابنُ مريم، ولولا ما أنا فيه من المُلْك لأتيتُه حتى أَحمِلَ نَعلَيهِ، امكُثوا في أرضى ما شئتم، وأَمر لهم بطعام وكِسْوة، وقال: رُدُّوا على هذَينِ هديَّتَهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وإنما أخرجته في هذا الموضع اقتداءً بشيخنا أبي يحيى الخفَّاف (2) ، فإنه خرَّجه في قوله ﷿: ﴿لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ﴾ [النساء: 172] .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3208 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وإنما أخرجته في هذا الموضع اقتداءً بشيخنا أبي يحيى الخفَّاف (2) ، فإنه خرَّجه في قوله ﷿: ﴿لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ﴾ [النساء: 172] .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3208 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نجاشی کی زمین (حبشہ) کی طرف روانہ ہو جائیں، یہ خبر قریش تک پہنچی تو انہوں نے عمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کو نجاشی کے لیے تحفے دے کر بھیجا۔ ہم وہاں پہنچے اور وہ دونوں بھی نجاشی کے پاس پہنچ گئے۔ انہوں نے نجاشی کو تحفہ پیش کیا جسے اس نے قبول کر لیا اور انہوں نے اسے سجدہ کیا۔ پھر عمرو بن عاص نے اس سے کہا: ہماری قوم کے کچھ لوگوں نے ہمارا دین چھوڑ دیا ہے اور وہ آپ کی زمین میں مقیم ہیں۔ نجاشی نے پوچھا: میری زمین میں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو اس نے ہمیں بلا بھیجا، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا: تم میں سے کوئی کلام نہ کرے، آج تمہارا خطیب میں ہوں گا۔ ہم نجاشی کے پاس پہنچے تو وہ اپنے دربار میں بیٹھا تھا، اس کے دائیں جانب عمرو بن عاص اور بائیں جانب عمارہ بیٹھے تھے اور پادری و راہب دو صفوں میں بیٹھے تھے۔ عمرو اور عمارہ نے اس سے کہا: یہ لوگ آپ کو سجدہ نہیں کرتے، جب ہم اس کے پاس پہنچے تو وہاں موجود پادریوں اور راہبوں نے ہمیں جھڑکتے ہوئے کہا: بادشاہ کو سجدہ کرو، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے“۔ نجاشی نے پوچھا: یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا: ”بے شک اللہ نے ہم میں اپنا ایک رسول بھیجا ہے، اور یہ وہی رسول ہے جس کی بشارت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی کہ ﴿بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ﴾ ”ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوگا“، پس اس نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اس نے ہمیں نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا“۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں کو ان کی بات بہت پسند آئی۔ جب عمرو نے یہ دیکھا تو اس نے بادشاہ سے کہا: اللہ بادشاہ کا بھلا کرے! یہ لوگ عیسیٰ بن مریم کے بارے میں آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔ نجاشی نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تمہارا صاحب (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ابن مریم کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ انہوں نے کہا: ”وہ ان کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو اللہ نے فرمایا ہے: وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں، جسے اللہ نے اس کنواری بتول (پاکدامن مریم علیہا السلام) سے پیدا کیا جسے کسی بشر نے نہیں چھوا تھا“۔ راوی کہتے ہیں: نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور اسے بلند کر کے کہا: ”اے پادریوں اور راہبوں کی جماعت! یہ لوگ ابن مریم کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ تمہارے قول سے اس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں، تم سب کو خوش آمدید اور اس ذات کو بھی جس کے پاس سے تم آئے ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور وہی ہیں جن کی بشارت عیسیٰ بن مریم نے دی تھی، اور اگر میں اس بادشاہت میں (مجبور) نہ ہوتا تو میں ضرور ان کے پاس حاضر ہوتا یہاں تک کہ ان کے جوتے اٹھاتا، تم میری زمین میں جب تک چاہو قیام کرو“۔ اس نے ان کے لیے کھانے اور لباس کا حکم دیا اور کہا: ”ان دونوں کے تحائف انہیں واپس کر دو“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میں نے اسے یہاں اپنے شیخ ابویحییٰ خفاف کی پیروی میں ذکر کیا ہے کیونکہ انہوں نے اسے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ﴾ ”مسیح (علیہ السلام) اللہ کا بندہ ہونے سے ہرگز عار محسوس نہیں کرتے“ [سورة النساء: 172] کی تفسیر میں روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3247]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، میں نے اسے یہاں اپنے شیخ ابویحییٰ خفاف کی پیروی میں ذکر کیا ہے کیونکہ انہوں نے اسے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ﴾ ”مسیح (علیہ السلام) اللہ کا بندہ ہونے سے ہرگز عار محسوس نہیں کرتے“ [سورة النساء: 172] کی تفسیر میں روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3247]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح على وهمٍ في أوله، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران الأصبهاني، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات، وظاهر هذا الخبر يدلُّ على أنَّ أبا موسى كان بمكة وأنه خرج مع جعفر إلى أرض الحبشة، قال البيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 299: والصحيح عن بريد بن عبد الله ...» [ترقيم الرساله 3247] [ترقيم الشركة 3227] [ترقيم العلميه 3208]
الحكم على الحديث: خبر صحيح على وهمٍ في أوله
حدیث نمبر: 3248
أخبرني الشيخ الفقيه أبو الوليد، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا إسحاق بن إبراهيم وفيَّاض بن زهير قالا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهري، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن قال: جاء ابنَ عبَّاس رجلٌ فقال: رجل تُوفِّي وترك ابنتَه وأختَه لأبيه وأمه، فقال: للابنة النصفُ وليس للأخت شيءٌ، ما بقي فهو لعَصَبَته، فقال له رجل: فإنَّ عمر بن الخطَّاب قد قَضَى بغير ذلك: جعل للابنة النصفَ وللأخت النصفَ، فقال ابن عبَّاس: أنتم أعلمُ أم الله؟ قال مَعمَر: فلم أدْرِ ما وجهُ ذلك حتى لَقِيتُ ابنَ طاووس، فذكرتُ له حديث الزهري، فقال: أخبرني أَبي: أنه سمع ابنَ عبَّاس يقول: قال الله: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ﴾ [النساء: 176] ، قال ابن عبَّاس: فقلتم أنتم: لها النصفُ وإن كان له ولدٌ! (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [5 - سورة المائدة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3209 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [5 - سورة المائدة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3209 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: ایک شخص فوت ہو گیا ہے اور اس نے اپنی ایک بیٹی اور ایک (سگی یا علاتی) بہن چھوڑی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”بیٹی کے لیے نصف ہے اور بہن کے لیے کچھ نہیں، جو باقی بچے گا وہ اس کے (دیگر) عصبات کا ہے“۔ اس پر ایک شخص نے ان سے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تو اس کے برعکس فیصلہ فرمایا تھا کہ بیٹی کے لیے نصف اور بہن کے لیے نصف رکھا تھا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟“ معمر کہتے ہیں: مجھے اس کی وجہ سمجھ نہ آئی یہاں تک کہ میں ابن طاؤس سے ملا، میں نے ان سے زہری کی یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے بتایا: مجھے میرے والد نے خبر دی کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ﴾ ”اگر کوئی ایسا مرد فوت ہو جائے جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو، تو اس کے لیے اس کے ترکے کا نصف ہے“ [سورة النساء: 176] ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جبکہ تم لوگ کہتے ہو کہ اس (بہن) کے لیے نصف ہے خواہ اس (فوت ہونے والے) کی اولاد ہی کیوں نہ ہو!“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3248]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3248]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه.» [ترقيم الرساله 3248] [ترقيم الشركة 3228] [ترقيم العلميه 3209]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح