المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
87. قصة إسلام النجاشي وغلبة وفد المسلمين على الكافرين عنده
نجاشی کے اسلام قبول کرنے اور اس کے دربار میں مسلمانوں کے وفد کے غالب آنے کا واقعہ
حدیث نمبر: 3248
أخبرني الشيخ الفقيه أبو الوليد، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا إسحاق بن إبراهيم وفيَّاض بن زهير قالا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهري، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن قال: جاء ابنَ عبَّاس رجلٌ فقال: رجل تُوفِّي وترك ابنتَه وأختَه لأبيه وأمه، فقال: للابنة النصفُ وليس للأخت شيءٌ، ما بقي فهو لعَصَبَته، فقال له رجل: فإنَّ عمر بن الخطَّاب قد قَضَى بغير ذلك: جعل للابنة النصفَ وللأخت النصفَ، فقال ابن عبَّاس: أنتم أعلمُ أم الله؟ قال مَعمَر: فلم أدْرِ ما وجهُ ذلك حتى لَقِيتُ ابنَ طاووس، فذكرتُ له حديث الزهري، فقال: أخبرني أَبي: أنه سمع ابنَ عبَّاس يقول: قال الله: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ﴾ [النساء: 176] ، قال ابن عبَّاس: فقلتم أنتم: لها النصفُ وإن كان له ولدٌ! (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [5 - سورة المائدة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3209 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [5 - سورة المائدة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3209 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا: ایک آدمی فوت ہو گیا ہے، اس نے ایک بیٹی اور ایک حقیقی بہن وارث چھوڑی ہیں (ان میں وراثت کس طرح تقسیم کی جائے؟) آپ نے فرمایا: بیٹی کے لیے نصف مال ہے اور بہن کو کچھ نہیں ملے گا بلکہ جو کچھ باقی بچے وہ اس کے عصبات کو دیا جائے گا۔ اس آدمی نے آپ سے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے مختلف فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بیٹی کے لیے آدھا اور بہن کے لیے آدھا مال قرار دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ تعالیٰ؟ (اس حدیث کے راوی) معمر کہتے ہیں: مجھے اس کی وجہ معلوم نہ ہو سکی، حتیٰ کہ میری ملاقات ابن طاؤس سے ہوئی تو میں نے ان سے زہری کی حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے میرے والد نے یہ بیان کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: اِنِ امْرُؤٌا ھَلَکَ لَیْسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَہٗٓ اُخْتٌ فَلَھَا نِصْفُ مَا تَرَکَ (النساء: 176) ” اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس بہن کا آدھا ہے “۔ اور تم اس کو اولاد کی موجودگی میں بھی نصف دینے پر مصر ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3248]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3248 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ’ابن راہویہ‘ ہیں۔
وأخرجه البيهقي 6/ 233 عن أبي عبد الله محمد بن عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وقال البيهقي: والمراد بالولد هاهنا الابن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 6/ 233 میں ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور بیہقی نے فرمایا: یہاں ’ولد‘ سے مراد بیٹا (ابن) ہے۔
وهو في "مصنف عبد الرزاق" (19023)، ومن طريقه ابن المنذر في "الأوسط" (6849).
📖 حوالہ / مصدر: یہ "مصنف عبدالرزاق" (19023) میں ہے، اور انہی کے طریق سے ابن المنذر نے "الأوسط" (6849) میں تخریج کیا ہے۔
وسيأتي برقم (8178) من طريق محمد بن نصر عن إسحاق بن إبراهيم.
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (8178) پر محمد بن نصر عن اسحاق بن ابراہیم کے طریق سے آئے گا۔