المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
94. رَأَى النَّبِيُّ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ رَبَّهُ
نبی ﷺ نے شبِ معراج میں اپنے رب کو دیکھا
حدیث نمبر: 3273
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا إبراهيم بن الحَكَم بن أبَان، حدثني أبي، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس أنه سُئِلَ: هل رأى محمدٌ ربَّه؟ قال: نعم، رأى كأنَّ قَدَميهِ على خَضِرةٍ دونَه سِترٌ من لؤلؤ، فقلت: يا أبا عبَّاس، أليس يقول الله: ﴿لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ﴾ [الأنعام: 103] ؟ قال: يا لا أمَّ لك، ذاك نُورُه، وهو نورُه، إذا تجلَّى بنُورِه لا يُدرِكُه شيءٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3234 - بل إبراهيم متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3234 - بل إبراهيم متروك
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رب کو دیکھا ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ہے (اور حالت یوں تھی) گویا کہ آپ کے دونوں قدم موتیوں کے پردوں کے نیچے سبزے پر تھے۔ میں نے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَ ھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ (الانعام: 103) ” آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں اور سب آنکھیں اس کے احاطہ میں ہیں “۔ آپ نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے، ایسا نہیں ہے وہ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اللہ تعالیٰ (ہی) کا نور ہیں اور اس کے نور کا یہ عالم ہے کہ جب اپنے نور کی تجلی ڈالتا ہے تو کوئی چیز اس کا ادراک نہیں کر سکتی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3273]
حدیث نمبر: 3274
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص، عن ابن مسعود: ﴿وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا﴾ [الأنعام:142] ، قال: الحَمُولة: ما حَمَل من الإبل، والفَرْش: الصِّغار (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3235 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3235 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَۃً وَّ فَرْشًا (الانعام: 142) ” اور مویشی میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے “۔ کے متعلق فرماتے ہیں: الحمولۃ سے مراد وہ اونٹ وغیرہ ہیں جو وزن اٹھاتے ہیں اور الفرش سے مراد چھوٹے جانور ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3274]