🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. رأى النبى ليلة الإسراء ربه
نبی ﷺ نے شبِ معراج میں اپنے رب کو دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3274
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص، عن ابن مسعود: ﴿وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا﴾ [الأنعام:142] ، قال: الحَمُولة: ما حَمَل من الإبل، والفَرْش: الصِّغار (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3235 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَۃً وَّ فَرْشًا (الانعام: 142) اور مویشی میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: الحمولۃ سے مراد وہ اونٹ وغیرہ ہیں جو وزن اٹھاتے ہیں اور الفرش سے مراد چھوٹے جانور ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3274]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3274 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة -وهو موسى بن مسعود النهدي- وقد توبع. سفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك الأشجعي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، اور یہ سند ابو حذیفہ (موسیٰ بن مسعود النہدی) کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں، ابو اسحاق سے مراد ’عمرو بن عبداللہ السبیعی‘ ہیں، اور ابو الاحوص سے مراد ’عوف بن مالک الاشجعی‘ ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 8/ 62 و 63، وأبو عبيد في "الأموال" (969)، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 5/ 1400 من طرق عن سفيان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 8/ 62 اور 63 میں، ابو عبید نے "الأموال" (969) میں، اور ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 5/ 1400 میں سفیان کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الطبري أيضًا 8/ 63، وابن زنجويه في "الأموال" (1429) من طريق شعبة، عن أبي إسحاق، به. لكن بيَّن شعبة في رواية محمد بن جعفر عنه عند الطبري أنه إنما سمعه من سفيان الثوري عن أبي إسحاق.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے ہی 8/ 63 میں، اور ابن زنجویہ نے "الأموال" (1429) میں شعبہ کے طریق سے، انہوں نے ابو اسحاق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن شعبہ نے محمد بن جعفر کی روایت (جو طبری کے ہاں ہے) میں یہ واضح کیا ہے کہ انہوں نے اسے سفیان ثوری سے، انہوں نے ابو اسحاق سے سنا تھا۔