🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

101. قِصَّةُ أَصْحَابِ الْعِجْلِ
بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3291
أخبرنا أبو أحمد محمد بن إسحاق العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة، حدثنا أسباط بن نَصْر الهَمْداني، عن إسماعيل بن عبد الرحمن السُّدِّي، عن مُرَّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود أنه قال: إنَّ أصحاب العِجل قالوا: هطا سمقا ثا أزيه مزبا، وهي بالعربية: حِنطة حمراء قوية فيها شَعرة سوداء، فذلك قوله ﷿: ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ﴾ [الأعراف: 162] ، فلما أَبَوْا أن يَسجُدوا أمَرَ الله الجبل أن يَقَعَ عليهم، فنظروا إليه قد غَشِيَهم، فسَقَطَوا سُجَّدًا على شِقٍّ، ونظروا بالشِّق الآخر، فرَحِمَهم الله فكَشَفَه عنهم، فقالوا: ما سجدةٌ أحبَّ إلى الله من سجدةٍ كَشَفَ بها العذابَ عنكم، فهم يسجدون لذلك على شِقٍّ، وذلك قوله ﷿: ﴿وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ﴾ [الأعراف: 171] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3252 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بچھڑے کی پوجا کرنے والوں (بنی اسرائیل) نے ( «حطه» کے بدلے) «هطا سمقا ثا ازيه مزبا» کہا، جس کا عربی میں مطلب ہے: سرخ، مضبوط گندم جس میں سیاہ بال ہو، اور یہی اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ﴾ پھر ان میں سے ان ظالموں نے اس بات کو ایک دوسری بات سے بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی [سورة الأعراف: 162] ، پھر جب انہوں نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اللہ نے پہاڑ کو حکم دیا کہ وہ ان پر گر جائے، انہوں نے دیکھا کہ وہ ان پر چھا گیا ہے تو وہ ایک پہلو کے بل سجدے میں گر گئے اور دوسرے پہلو سے (اوپر پہاڑ کی طرف) دیکھنے لگے، پھر اللہ نے ان پر رحم کیا اور اس (عذاب) کو ان سے ٹال دیا، تو وہ کہنے لگے: اللہ کے نزدیک اس سجدے سے بڑھ کر کوئی سجدہ محبوب نہیں جس کے ذریعے اس نے تم سے عذاب کو ٹال دیا، چنانچہ وہ اسی وجہ سے (آج بھی) ایک پہلو پر سجدہ کرتے ہیں، اور یہی اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ﴾ اور جب ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان کے اوپر معلق کر دیا گویا کہ وہ ایک سائبان ہو [سورة الأعراف: 171]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3291]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، أسباط بن نصر والسُّدِّي صدوقان.» [ترقيم الرساله 3291] [ترقيم الشركة 3271] [ترقيم العلميه 3252]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3292
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقَاتِنَا﴾ [الأعراف: 155] ، قال: دعا موسى فبَعَثَ الله سبعين، فجعل دعاءَه حين دعاه لمن آمن بمحمدٍ ﷺ واتَّبَعه قولَه: ﴿فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ.. فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ﴾ [الأعراف: 155 - 156] ، والذين يتَّبعون محمدًا ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في ذي الحِجّة سنة تسع وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3253 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقَاتِنَا﴾ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ہماری مقررہ میعاد کے لیے اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب کیے [سورة الأعراف: 155] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی اور اللہ نے ستر آدمی بھیجے، پھر انہوں نے اپنی دعا ان لوگوں کے لیے خاص کر دی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے اور آپ کی پیروی کریں گے، (تبھی اللہ نے فرمایا:) ﴿فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ .. فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ﴾ پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین بخشنے والا ہے... (فرمایا:) تو میں اسے (اپنی رحمت کو) ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں [سورة الأعراف: 155 - 156] اور جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3292]
تخریج الحدیث: «رجاله عن آخرهم ثقات، إلّا أنَّ عطاء بن السائب كان قد اختلط وسماع جرير منه -وهو ابن عبد الحميد- بعد الاختلاط، لكن تابعه عن عطاء على بعض هذا الخبر -وهو آخره- عمران ابن عيينة وحماد بن سلمة عند الطبري في "تفسيره" 9/ 82، وحماد ممّن سمع من عطاء قبل الاختلاط.» [ترقيم الرساله 3292] [ترقيم الشركة 3272] [ترقيم العلميه 3253]

الحكم على الحديث: رجاله عن آخرهم ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں